پاکستانی وزیر داخلہ کا ایک ہفتے میں ایران کا دوسرا دورہ

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کو تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی 16 مئی 2026 کو تہران میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مصافحہ کر رہے ہیں (ارنا)

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کو تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین فیصل سلیم رحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ’آج صبح‘ ہی ایران روانہ ہوئے ہیں ’لہٰذا وہ اس کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔‘

محسن نقوی ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ ایران گئے ہیں۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے کے اختتام پر بھی وزیر داخلہ غیر اعلانیہ دورے پر ایران پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد پاکستان نے جنگ بندی اور اس کے بعد مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کیا جسے صدر ٹرمپ، ایرانی حکام اور دیگر ممالک نے سراہا۔

انہی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے، تاہم پاکستان مسقتل جنگ بندی اور کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

محسن نقوی کے تہران کے یہ غیر معمولی دورے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بدھ کو سفارتی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تہران آئے ہیں۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ’ہم اس جنگ کو بہت جلد ختم کر دیں گے۔ وہ (ایران) خود معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اس سے تنگ آ چکے ہیں، یہ معاملہ تو 47 سال پہلے ہی حل ہو جانا چاہیے تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی نہ کسی کو اس پر پہلے ہی کچھ کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ ہوگا اور جلد ہوگا۔ آپ دیکھیں گے کہ تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔‘

صدر ٹرمپ نے مزید کہا: ’میرا خیال ہے ہم اس مسئلے سے بہت جلد نمٹ لیں گے اور انہیں جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہوگا۔‘

 یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھایا، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف تعینات امریکی افواج کو واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا