وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات

 ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دوسرا دورہ تہران ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محس نقوی نے بدھ کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔

محسن نقوی بدھ کی سہ پہر ایران پہنچے تھے، جہاں ارنا کے مطابق مہرآباد ایئرپورٹ پر نائب ایرانی وزیر داخلہ علی اکبر پورجمشیدیان نے ان کا استقبال کیا۔

بعدازاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی۔

 ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دوسرا دورہ تہران ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد پاکستان نے جنگ بندی اور اس کے بعد مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کیا جسے صدر ٹرمپ، ایرانی حکام اور دیگر ممالک نے سراہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے، تاہم پاکستان مسقتل جنگ بندی اور کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

محسن نقوی کے تہران کے یہ غیر معمولی دورے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ’ہم اس جنگ کو بہت جلد ختم کر دیں گے۔ وہ (ایران) خود معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اس سے تنگ آ چکے ہیں، یہ معاملہ تو 47 سال پہلے ہی حل ہو جانا چاہیے تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی نہ کسی کو اس پر پہلے ہی کچھ کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ ہوگا اور جلد ہوگا۔ آپ دیکھیں گے کہ تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔‘

صدر ٹرمپ نے مزید کہا: ’میرا خیال ہے ہم اس مسئلے سے بہت جلد نمٹ لیں گے اور انہیں جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہوگا۔‘

 یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھایا، جس کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف تعینات امریکی افواج کو واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا