محسن نقوی اور ایرانی ہم منصب میں ملاقات، سرحدی تجارت اور دیگر امور پر گفتگو: ایرانی سرکاری میڈیا
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات میں باہمی تعلقات، سرحدی تجارت، ٹرانزٹ اور اشیا کے تبادلے کو آسان بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستانی وزیر داخلہ ہفتے کو تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
Iran and Pakistan agree to facilitate cross‑border trade exchangeshttps://t.co/gSZfuGeF4e pic.twitter.com/XSurAohek6
— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) May 16, 2026
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ملاقات کے دوران ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے دوستانہ اور برادرانہ رویے کے لیے شکر گزار ہیں اور دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو سراہا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحدیں مستقبل میں مزید محفوظ اور فائدہ مند بنیں گی۔
ایرانی وزیر کے مطابق دونوں ممالک کی حکومتیں اور عوام ایک دوسرے کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اقتصادی تعاون اور اتحاد کو فروغ دیا جا سکے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے: ایرانی سرکاری میڈیا
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے حکام سے ملاقات کے لیے تہران پہنچے ہیں۔
رپورٹ میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس غیر اعلانیہ دورے کے دوران محسن نقوی ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ اس سے قبل 16 اپریل کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ تہران کے تین روزہ دورے پر بھی گئے تھے۔
یو اے ای کا اپنی خودمختاری، تحفظ اور سلامتی کے عزم کا اعادہ
متحدہ عرب امارات نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے کی سلامتی اور استحکام کی حمایت کے لیے اپنے مضبوط مؤقف کا دوبارہ اعادہ کیا ہے، جو علاقائی امن و استحکام کے تحفظ اور تنازعات کے اثرات سے خطے کے عوام کو محفوظ رکھنے کے اس کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ہفتے کو وزارت خارجہ کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں متحدہ عرب امارات نے ایران کی جانب سے یو اے ای اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنانے والے بلااشتعال حملوں اور دھمکیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، جن میں تقریباً 3,000 بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون یو اے ای کی جانب داغے گئے۔
ان حملوں کے نتیجے میں کئی شہری اموات اور زخمی ہوئے، جبکہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا، جو ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ یو اے ای کی جانب سے کیے گئے تمام اقدامات دفاعی نوعیت کے تھے، جن کا مقصد ملکی خودمختاری، شہریوں اور اہم تنصیبات کا تحفظ تھا، اور یہ ملک کے اپنے قومی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے جائز حق کے مطابق ہیں۔
الإمارات تؤكد نهجها الثابت في حماية سيادتها ودعم استقرار المنطقة pic.twitter.com/EmeY95VPNe
— MoFA وزارة الخارجية (@mofauae) May 15, 2026
وزارت نے واضح کیا کہ یو اے ای کسی بھی خطرے یا جارحانہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے مکمل خودمختار، قانونی، سفارتی اور عسکری حقوق محفوظ رکھتا ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ دباؤ ڈالنے یا گمراہ کن بیانیوں اور الزامات کو فروغ دینے کی کوششیں یو اے ای کے اصولی مؤقف کو کمزور نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ملک کو اپنے اعلیٰ قومی مفادات، خودمختاری اور آزادانہ فیصلوں کے تحفظ سے روک سکتی ہیں۔
وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یو اے ای خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک، علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ علاقائی سلامتی و استحکام کو فروغ دیا جا سکے اور مشترکہ خلیجی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع: امریکہ
امریکہ نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل نے جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم اس اعلان کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے جمعے کو کہا ہے کہ 16 اپریل کو ہونے والے فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو مزید توسیع دی گئی ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے پیش رفت جاری رکھی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی، جو اس سے قبل بھی بڑھائی جا چکی تھی، اتوار کو ختم ہونا تھی، تاہم دونوں ممالک نے اسے برقرار رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
امریکہ کی ثالثی میں آئندہ مذاکرات دو اور تین جون کو منعقد ہوں گے، جن کا مقصد ایک مستقل سیاسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) 29 مئی کو دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے درمیان ملاقات بھی کروائے گا۔
ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام، اور مشترکہ سرحد پر حقیقی سیکیورٹی کا قیام ہے۔
تاہم جنگ بندی کے باوجود سرحدی علاقوں میں تشدد کے واقعات جاری ہیں۔ اسرائیل نے مذاکرات کے دوران لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا، اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اسرائیل کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملوں نے اس تنازع کو ہوا دی، جبکہ حزب اللہ اس وقت واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور لبنان تینوں جنگ بندی کو بدستور مؤثر سمجھتے ہیں، تاہم خطے میں صورت حال بدستور نازک برقرار ہے۔
غزہ میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ کو نشانہ بنایا: اسرائیل
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعے کو غزہ میں ایک فضائی حملہ کرتے ہوئے حماس کی عسکری شاخ کے سربراہ عزالدین الحدّاد کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق الحدّاد کو سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے مرکزی منصوبہ سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے اسرائیلی حکام کے بیان میں کہا گیا کہ ’عزالدین الحدّاد، جو حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر اور حملوں کے اہم منصوبہ ساز تھے، کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ اس حملے میں جان سے گئے یا نہیں۔ بعد ازاں ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ حملے کے نتائج (بیٹل ڈیمیج اسیسمنٹ) کی تصدیق ابھی باقی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق انہیں الحدّاد کے مقام سے متعلق خفیہ معلومات موصول ہونے کے فوراً بعد فضائیہ نے کارروائی کی۔
دوسری جانب غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ سٹی کے علاقے الرمل میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شخص قتل اور تقریباً 20 افراد زخمی ہوئے۔ جان سے جانے والے شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
اسرائیلی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں ایک عمارت کو آگ کی لپیٹ میں دکھایا گیا، جسے اسی حملے کا مقام بتایا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ الحدّاد اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف حملوں، اغوا اور دیگر کارروائیوں میں ملوث تھے، جبکہ ان پر یرغمالیوں کو قید میں رکھنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
اسرائیل کے مطابق الحدّاد نے حماس کے غیر مسلح ہونے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ ڈیل کو بھی مسترد کیا تھا۔
حماس کے مسلح ونگ کی جانب سے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حملے میں سرکاری اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,221 افراد ہلاک ہوئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس حملے کے دوران 251 افراد کو قیدی بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شروع کی گئی وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی میں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 72 ہزار سات سو سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ نے ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔