کراچی: نوجوان کی کرنٹ لگنے سے موت کے 7 سال بعد کے الیکٹرک پر ہرجانہ

عدالت نے حکم دیا کہ ہرجانے کی رقم 90 روز کے اندر ادا کی جائے، بصورت دیگر سالانہ 10 فیصد مارک اپ بھی ادا کرنا ہوگا۔

کے الیکٹرک کا ایک ٹیکنیشن 11 جنوری 2021 کو کراچی میں رہائشی علاقے میں بجلی کی لائن کی مرمت کر رہا ہے (اے ایف پی)

کراچی کی سینیئر سول جج وسطی در شہوار کی عدالت نے سات سال قبل بارش کے دوران بچے کو بچاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے نوجوان کی موت پر ہرجانے کا فیصلہ سناتے ہوئے کے الیکٹرک کو ایک کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

11 مئی کو سنائے گئے فیصلے میں، جس کی نقول ہفتے کو جاری کی گئیں، عدالت نے حکم دیا کہ ہرجانے کی رقم 90 روز کے اندر ادا کی جائے، بصورت دیگر سالانہ 10 فیصد مارک اپ بھی ادا کرنا ہوگا۔

واقعہ کب اور کیسے ہوا؟

18 صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے کے مطابق 29 جولائی 2019 کو مون سون بارشوں کے دوران کراچی صرافہ بازار مارکیٹ میں 30 سالہ شیخ سعد احمد کرنٹ لگنے سے جان سے گئے تھے۔ متوفی کے والد شیخ احمد حسین اور والدہ نسرین احمد نے کراچی کی سول جج وسطی کی عدالت میں کے الیکٹرک کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ 'حادثہ کے الیکٹرک کی عدم توجہی، ناقص دیکھ بھال اور بجلی کے کھمبوں و تاروں کی غیر محفوظ حالت‘ کے باعث پیش آیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ’بارش کے دوران ننگے تاروں کے باعث بجلی کے پول میں کرنٹ آ گیا تھا۔ واقعے کے روز شیخ سعد احمد صرافہ بازار مارکیٹ میں اپنی خالہ کے گھر گئے ہوئے تھے اور بچوں کے ساتھ باہر موجود تھے کہ اسی دوران ایک بچہ بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے کے باعث چپک گیا۔

شیخ سعد احمد نے بچے کو بچانے کی کوشش کی لیکن وہ خود بھی کرنٹ کی زد میں آکر جان سے گئے۔

درخواست گزار کے مطابق ' شیخ سعد احمد بی کام کے طالب علم تھے اور نجی کمپنی میں ملازمت بھی کرتے تھے جبکہ وہ خاندان کے واحد کفیل تھے۔

درخواست میں کہا گیا کہ حادثے سے چار گھنٹے قبل اہل محلہ نے پول میں کرنٹ اور سپارکنگ کی شکایت بھی کے الیکٹرک کو درج کروائی تھی، جس کا شکایت نمبر 611034377 تھا، تاہم کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔' متوفی کے والدیں نے مجموعی طور پر دو کروڑ 70 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ڈپٹی مینیجر دلیپ کمار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 'متعلقہ پول کمپنی کی ملکیت نہیں تھا بلکہ نجی جنریٹر آپریٹر اور ٹیلی کمیونیکیشن سروس فراہم کرنے والوں کا تھا۔ کمپنی کے وکیل کے مطابق کرنٹ کا اخراج نجی جنریٹر کی تاروں سے ہوا جبکہ کمپنی کی اپنی تنصیبات محفوظ تھیں۔ وکیل نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ متوفی نے خود خطرناک صورت حال میں احتیاط نہیں برتی۔

عدالتی فیصلہ

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ بجلی سے متعلق اداروں پر عوام کے تحفظ کی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور کھمبے پر دیگر اداروں کی تاروں کی موجودگی کی ذمہ دار بھی کے الیکٹرک ہے۔

عدالت نے کہا کہ 'متوفی کی جانب سے بچے کو بچانے کی کوشش کو مکمل غفلت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ انسانی جان بچانے کی کوشش کو قانون نرم نظر سے دیکھتا ہے۔

فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ مرنے والے نوجوان تھے، خاندان کے کفیل تھے اور ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 50 ہزار روپے تھی، اس لیے فیٹل ایکسیڈنٹس ایکٹ 1855 کے تحت درخواست گزار معاوضے کے حق دار ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان