جب کے الیکٹرک پر عوامی سماعت 'مچھلی مارکیٹ' بن گئی

کے الیکٹرک پر عوامی سماعت کے دوران نیپرا کی ٹیم کیوں اٹھ کر چلی گئی اور کن دو سیاسی رہنماؤں کے درمیان الزام تراشی سے ماحول کشیدہ ہو گیا؟ پڑھیے انڈپینڈنٹ اردو کا آنکھوں دیکھا احوال۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی کے میریٹ ہوٹل میں پیر کو کے الیکٹرک کی کراچی میں خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے عوامی سماعت  منعقد کی، جس میں کافی بڑی تعداد میں کراچی کے شہریوں نے  شرکت کی۔

 سماعت کے بعد جب سوالات کے لیے  موقع دیا گیا تو  عوام کراچی کی واحد بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک پر پھٹ پڑے۔ سماعت  کے دوران دو بار ہنگامہ آرائی ہوئی اور دونوں بار نیپرا کے نمائندے مشتعل عوام کو روکنے میں ناکامیاب رہے۔

پہلی مرتبہ ایک خاتون رپورٹر نے سٹیج پر جا کر چیئرمین نیپرا کی اجازت سے ان کے مائیک پر لوگوں کو خاموش کروایالیکن دوسری مرتبہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنماؤں کے درمیان سیاسی بیان بازی اور تلخ کلامی کے باعث پھر ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور نیپرا کی ٹیم نے ہال سے واک آؤٹ کردیا۔

سماعت کے دوران نیپرا کے چیئرمین توصیف فاروقی نے کے الیکٹرک  کی کراچی میں پچھلے15 سالوں کی کارکردگی  پر سوال کیے جبکہ کے۔ الیکٹرک نے مزید تین سالوں تک کراچی میں اپنی خصوصی حیثیت برقرار رکھنے کی درخواست کی۔

دوران سماعت چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے کہا 'ہم ابھی یہاں کوئی فیصلہ کرنے نہیں آئے ۔ آج ہم یہاں کراچی والوں کے مسائل سننے اور ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کرنے آئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی کے الیکٹرک اور نیپرا کو ازخود نوٹس پربلایا تھا۔ اب  ہمارا فرض ہے کہ ان معاملات کو فوری دیکھیں۔ ہمارا کام صرف فیصلے دینا نہیں بلکہ تکنیکی مسائل بھی جانچنا ہے۔'

تاہم کے الیکٹرک کے چیئرمین مونس علوی نے کہا 'اگر کراچی میں کے الیکٹرک کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو کراچی والوں کو کافی نقصان ہوگا۔ کراچی میں ہائی لاس ایریاز اور لو لاس ایریاز کے بجلی کے نرخ ایک جیسے ہیں لیکن اس صورت حال میں ہائی لاس ایریاز کے نرخ میں اضافہ ہوجائے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'ہم نے 2018 میں جب سپریم کورٹ میں بیان جمع کروایا تو اس کے مطابق رواں سال میں 67 فیصد کراچی لوڈشیڈنگ سے فری ہونا چاہیے جب کہ اس وقت 75 فیصد کراچی لوڈشیڈنگ سے فری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگرکے الیکٹرک کی خصوصی حیثیت میں مزید تین سالوں کی توسیع کردی گئی تو 2022 تک یہ شرح 90 فیصد ہوجائے گی ۔'

چیئرمین نیپرا نے مونس علوی کے بیان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا '15 سالوں سے آپ نے کراچی میں سرمایاکاری کیوں نہیں کی؟ ہائی لاس ایریاز کو لو لاس ایریاز میں تبدیل کیوں نہیں کیا؟ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو آج آپ کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اگر تین سال آپ کو دے دیتے ہیں تو ان سالوں میں ایسا کیا ہونے والا ہے کہ آپ ایک دم جادو کی چھڑی ہلائیں گے اور بجلی کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے؟'

سماعت کے بعد نیپرا چیئرمین نے عوام کے سوالات لینے کا سلسلہ شروع کیا تو لوگوں نے کے الیکٹرک پر چڑھائی کردی۔ حال ہی میں  طویل لوڈشیڈنگ اور بارش کے بعد کئی دنوں تک کراچی کے کچھ علاقوں کی بجلی بند ہونے کے باعث عوام میں شدید غم و غصہ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے کی رہائشی ایک خاتون کا کہنا تھا ' بارشوں کے بعد ڈیفنس کے کئی علاقوں میں کئی  دنوں تک بجلی غائب تھی۔ ہم نے کئی شکایات کیں لیکن کے لیکٹرک کا کوئی نمائندہ نہیں آیا۔ کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کے ہاتھوں کیوں رلایا جارہا ہے؟ جس طرح ہمیں فون کے نیٹ ورک کا انتخاب کرنے کی آزادی ہے ،اسی طرح بجلی کے حصول کے لیے کس بجلی فراہم کرنے والے ادارے کا انتخاب کرنےکی بھی آزادی ہونی چاہیے۔'

خاتون کے بعد ہال میں پیچھے سے کراچی کی ایک مقامی یونین کے صدر نے کے الیکٹرک کے حق میں بات کی تو ہال میں ان کے اور کے الیکٹرک کے خلاف شدید نعرے بازی شروع ہوگئی جو کافی دیر تک جاری رہی۔ تاہم ایک خاتون رپورٹر کی جانب سے خاموشی اور سیٹوں پر بیٹھنے کی درخواست پر ماحول تھوڑی دیر کے لیے بہتر ہوگیا۔ 

اس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیئر رہنما خواجہ اظہار الحسن نے گفتگو کی اور چیئرمین نیپرا سے کے الیکٹرک کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی درخواست کی۔ تاہم اس کے جواب میں سندھ کے سابق گورنر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیئررہنما بیریسٹر کمال الدین اظفر نے خواجہ اظہار الحسن کو نازیبا الفاظ کہے اور خواجہ اظہار اور ان کی سیاسی جماعت کو کراچی کے لوگوں کا قاتل قرار دیا۔

اس سیاسی بیان بازی پر خواجہ اظہار الحسن اپنی سیٹ سے اٹھ کر سٹیج کی طرف آئے اور دونوں رہنماؤں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس نے ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کرلی۔ نیپرا کے نمائندے صورت حال پر قابو کرنے میں ناکامی کے بعد سماعت سے اٹھ کر چلے گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان