بنگلہ دیش: انتخابات میں ’جنریشن زی کا کردار اہم‘

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ’جنریشن زی‘ جو بنگلہ دیش میں کل ووٹروں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، انتخابات میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔

بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات کو دنیا کا پہلا ’جین زی سے متاثر‘ انتخاب قرار دیا جا رہا ہے جہاں نوجوان ووٹرز کا کردار فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ووٹ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد پابندی کا سامنا کر رہی ہے اور ملکی سیاست ایک بالکل نئے موڑ پر کھڑی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق، کئی برس تک شیخ حسینہ کے دور حکومت میں اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل کے دوران یا تو بائیکاٹ کرتی رہیں یا پھر ان کے رہنماؤں کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سامنا رہا۔ تاہم اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ 2024 کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ 2009 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش میں حقیقی معنوں میں مسابقتی انتخابات ہو رہے ہیں۔

شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکمرانی کے اختتام کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ انتخابی سیاست سے باہر ہے جبکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو عام انتخابات میں سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والا اتحاد بھی سخت مقابلہ دے رہا ہے۔ اسی اتحاد کے ساتھ ایک نئی سیاسی جماعت بھی منسلک ہے جسے 30 سال سے کم عمر جن زیڈ کارکنان چلا رہے ہیں۔ یہ جماعت اگرچہ حسینہ مخالف عوامی تحریک میں پیش پیش رہی تھی لیکن وہ اس عوامی طاقت کو انتخابی بنیاد میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔

دوسری جانب بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت پارلیمان کی 300 نشستوں میں سے 292 پر مقابلہ کر رہی ہے اور انہیں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہونے کا پورا یقین ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں واضح نتیجہ سامنے آنا بے حد ضروری ہے کیونکہ شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد مہینوں تک جاری رہنے والے عدم استحکام نے 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے ملک میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔ اس سیاسی بحران کے اثرات گارمنٹس سمیت اہم صنعتوں پر بھی پڑے ہیں جو دنیا میں کپڑوں کی برآمد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انتخابی نتیجے کے اثرات صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی دو بڑی طاقتوں چین اور انڈیا کے کردار پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ شیخ حسینہ کو انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا اور اقتدار سے ہٹنے کے بعد وہ نئی دہلی چلی گئی تھیں جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں۔ ان کے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جبکہ انڈیا کا کردار نسبتاً کمزور ہو رہا ہے۔

ڈھاکہ کے سینٹر فار گورننس سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پرویز کریم عباسی کے مطابق، رائے عامہ کے جائزے بی این پی کو برتری دیتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ووٹروں کی ایک بڑی تعداد اب بھی غیر یقینی کیفیت میں ہے۔ ان کے مطابق ’جنریشن زی‘ جو کل ووٹرز کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، اس انتخاب میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔

پورے بنگلہ دیش میں بی این پی کے ’دھان کے خوشے‘ اور جماعت اسلامی کے ’ترازو‘ کے انتخابی نشانات سیاہ و سفید پوسٹروں اور بینرز کی صورت میں سڑکوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں پر آویزاں نظر آ رہے ہیں۔ یہ منظر ماضی کے انتخابات سے بالکل مختلف ہے جہاں عوامی لیگ کا ’کشتی‘ کا نشان ہر جگہ غالب ہوا کرتا تھا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جماعت اسلامی کی زیر قیادت حکومت بننے کی صورت میں بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان کی جانب بڑھ سکتا ہے جو انڈیا کا دیرینہ حریف اور ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ جماعت اسلامی کی جن زیڈ اتحادی جماعت بھی نئی دہلی کی ’بالادستی‘ کو اپنے اہم خدشات میں شمار کرتی ہے اور اس کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتیں چینی سفارتکاروں سے ہو چکی ہیں۔ تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ وہ کسی ایک ملک کی جانب جھکاؤ کی حامی نہیں اور اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرے کی بات کرتی ہے۔

دوسری جانب بی این پی کے طارق رحمان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت حکومت بناتی ہے تو وہ ہر اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے گی جو بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے مفاد میں ہو۔

اقتصادی محاذ پر بنگلہ دیش شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بلند افراط زر، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سرمایہ کاری کی رفتار میں سست روی نے ملک کو 2022 سے اب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بشمول آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، سے اربوں ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق، 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز کے لیے بدعنوانی سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ مہنگائی دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جماعت اسلامی کی نسبتاً صاف شبیہ اس کے حق میں ایک اہم عنصر ہے اور ووٹرز مذہبی نعروں کے بجائے شفافیت، اہلیت اور جوابدہی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اگرچہ طارق رحمان کو آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد سبقت لے جاتا ہے تو اس کے سربراہ شفیق الرحمن اس عہدے کے لیے سامنے آ سکتے ہیں۔

ڈھاکہ کے 21 سالہ نوجوان ووٹر محمد راقب، جو پہلی بار ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے آئندہ حکومت اظہار رائے اور آزادانہ ووٹنگ کے حق کو یقینی بنائے گی۔ ان کے بقول ’لوگ عوامی لیگ سے تنگ آ چکے تھے۔ قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ جو بھی حکومت آئے گی، وہ ہمیں اپنی آواز بلند کرنے کی آزادی دے گی‘۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا