آئندہ ماہ بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے قومی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ شیخ حسینہ ایک ملک گیر عوامی انقلاب کے بعد انڈیا فرار ہو گئی تھیں، جس میں عوام نے سیاسی اصلاحات، احتساب، حقیقی جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا تھا۔
2024 کی اس تحریک نے ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط اس آمرانہ دور کا خاتمہ کیا، جس کی پہچان شہری آزادیوں کا خاتمہ اور ریاستی عناصر کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں تھیں، جن میں اجتماعی ظلم و ستم کے سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور اس وقت کی حکمران جماعت عوامی لیگ (حسینہ کی جماعت) کے ارکان نے ملک گیر مظاہروں کے دوران سینکڑوں مظاہرین کو قتل کیا، جس کے نتیجے میں بالآخر ان کا زوال ہوا۔
آئندہ انتخابات میں جو بھی جیت کر آئے گا، اسے ورثے میں ایک ایسا ملک ملے گا جو جبر سے نڈھال ہے مگر جمہوری تجدید کی امید رکھتا ہے۔ اگر انسانی حقوق کو سیاسی ایجنڈے کے مرکز میں نہ رکھا گیا تو یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔ انتخابات میں ممکنہ طور پر ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (بی این پی) سب سے آگے ہے، جو طویل عرصے سے عوامی لیگ کی مرکزی اپوزیشن رہی ہے۔
حسینہ کے دورِ حکومت میں بی این پی کے ارکان اور حامی اکثر صوابدیدی گرفتاریوں، تشدد اور جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنتے رہے، جن میں سے کئی پھر کبھی نظر نہیں آئے۔ ان مظالم کو قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے دستاویزی شکل دی، مگر احتساب ناپید رہا۔ یہ جبر کوئی اتفاقی عمل نہیں تھا بلکہ یہ منظم اور ڈھانچہ جاتی تھا، جسے اپوزیشن کو غیر موثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ جبر حسینہ حکومت کی ایجاد نہیں تھی، بلکہ ماضی کی حکومتوں نے بھی اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی این پی کو اپنی دیرینہ رہنما خالدہ ضیا کی حالیہ وفات کے بعد اب ایک فیصلہ کن عبوری دور کا سامنا ہے۔ خالدہ ضیا حسینہ کے دور میں برسوں قید اور سیاسی بےدخلی جھیلنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ دو بار وزیراعظم رہنے والی خالدہ ضیا حسینہ حکومت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئی تھیں۔ ان کے انتقال سے ذاتی اذیت اور سیاسی بقا سے عبارت ایک باب بند ہوتا ہے اور پارٹی کے لیے ایک اہم امتحان کا آغاز کرتا ہے: کیا وہ شکایات کی سیاست اور اپنے اقتدار کے ماضی کے ریکارڈ سے آگے بڑھ کر، عملی طور پر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے عزم کا مظاہرہ کر سکتی ہے؟
خالدہ ضیا کے بیٹے اور پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان اپنی والدہ کی وفات سے کچھ دیر قبل، حسینہ کی برطرفی کے بعد پہلی بار برطانیہ سے جلاوطنی ختم کر کے ڈھاکہ واپس پہنچے۔ واپسی پر ڈھاکہ کے مضافات میں ایک بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے کہا، ’اس ملک میں ہمارے پاس پہاڑوں اور میدانوں کے لوگ ہیں، مسلمان، ہندو، بدھ مت اور مسیحی۔ ہم ایک محفوظ بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں، جہاں ہر عورت، مرد اور بچہ گھر سے محفوظ نکلے اور محفوظ واپس آئے۔‘
اگر بی این پی اقتدار میں آتی ہے تو اسے تمام شہریوں کے حقوق کی پاسداری کر کے اس بیان کو حقیقت میں بدلنا ہو گا۔
حسینہ کے بعد کا سیاسی منظرنامہ صرف بی این پی جیسی پرانی جماعتوں کی واپسی تک محدود نہیں ہے۔ 2024 کی نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت سے نئی سیاسی قوتیں بھی ابھری ہیں۔
اس تحریک کے نتیجے میں بننے والی ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (این سی پی) ایک ایسی نسل کی عکاسی کرتی ہے جو پارٹی وفاداری سے زیادہ جبر، ریاستی تشدد اور معاشی محرومی کے ذاتی تجربات سے متاثر ہے۔ این سی پی کا ابھرنا پرانے سیاسی نظام سے گہری مایوسی اور محض چہروں کی تبدیلی کے بجائے حقیقی اصلاحات کے مطالبے کا اشارہ ہے۔
آزاد امیدوار بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں اکثر شدید ذاتی خطرات کا سامنا ہے۔ پرانی حکومت کے خاتمے کے ساتھ سیاسی تشدد ختم نہیں ہوا۔ عبوری دور کی نزاکت کا ایک واضح ثبوت دسمبر میں آزاد امیدوار اور نوجوانوں کے رہنما شریف عثمان بن ہادی کا دن دہاڑے قتل ہے۔ ان کے قاتل اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
عثمان بن ہادی کا قتل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی زندگی میں خوف کو کتنی آسانی سے دوبارہ داخل کیا جا سکتا ہے، اور اگر سیاسی شرکت کو محض نمائشی کے بجائے بامعنی بنانا ہے تو احتساب کی کتنی اشد ضرورت ہے۔ اگلی حکومت بنانے والوں کو بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کی بحالی سے ابتدا کرنی ہو گی۔
اول، ماضی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خاص طور پر جبری گمشدگیوں، اموات اور تشدد کا سچ سامنے لانا اور احتساب کرنا ضروری ہے۔ جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے خاندان اپنے پیاروں کے بارے میں سچائی اور انصاف کے لیے برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ معتبر تحقیقات، شفاف مقدمات اور بامعنی قانونی کارروائی کے بغیر مصالحت کھوکھلی رہے گی اور بےاعتمادی برقرار رہے گی۔ یہ احتساب بین الاقوامی عدالتی معیارات کے مطابق اور شفاف ہونا چاہیے: بنگلہ دیش کے ماضی میں اکثر سیاسی تبدیلیوں کی خصوصیت حقیقی انصاف کے بجائے انتقام اور ذاتی حساب برابر کرنا رہی ہے۔
دوم، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آزادی بحال کی جانی چاہیے۔ عدالتوں کو سیاسی انتقام کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، اور سکیورٹی فورسز کو استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکام کو ایک ضروری مگر نازک کام کا سامنا ہے: بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد سے نمٹنا، جبکہ طاقت کے بےجا استعمال سے گریز کرنا اور ڈیو پروسیس (قانونی تقاضوں) اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا۔
سوم، شہری آزادیوں کو دوبارہ بحال کرنا ہو گا، جس میں اظہار رائے کی آزادی، پرامن اجتماع، آزاد صحافت اور جائز سیاسی مخالفت شامل ہو۔ حسینہ کے آمرانہ دور میں تنقید کو بغاوت اور اختلاف رائے کو غداری سمجھا جاتا تھا۔ اگر صحافی، کارکن اور اپوزیشن کے لوگ دھمکیوں کے سائے میں کام کرتے رہیں تو کوئی بھی الیکشن آزاد یا منصفانہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے باوجود، 12 دسمبر کو شریف عثمان بن ہادی کے قتل کے بعد، بنگلہ دیش دوبارہ تشدد کی طرف پھسل گیا جب مظاہرین نے ’ڈیلی سٹار‘ اور ’پرتھوم‘ سمیت سرکردہ اخباروں کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی، جس سے عملہ اندر پھنس گیا جنہیں بعد میں بچایا گیا۔
محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کو انتخابات سے قبل پریس کی آزادی، سول سوسائٹی کے حقوق، اور اظہار رائے، اجتماع اور انجمن سازی کی آزادی کا دفاع کرنا چاہیے اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ اس کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مزید برآں، جو بھی اقتدار میں آئے، اسے اقلیتوں بشمول خواتین، مذہبی اقلیتوں، LGBTQI افراد، مہاجرین اور دیگر اقلیتی گروہوں کے تحفظ کو حکمرانی کے مرکز میں رکھنا چاہیے۔
بنگلہ دیش کی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں صرف ووٹ دینے والوں تک محدود نہیں ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سیاسی عمل سے مکمل طور پر خارج ہیں، خاص طور پر دس لاکھ روہنگیا مہاجرین، جو پڑوسی ملک میانمار میں نسل کشی سے بچ کر بھاگے تھے۔ انسانی حقوق کا حقیقی عزم بیلٹ باکس پر ختم نہیں ہو سکتا۔
ہم نے عبوری حکومت کے دوران بھی روہنگیا مہاجرین کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جہاں حکام نے میانمار میں ظلم و ستم اور تشدد سے بھاگنے والے روہنگیاؤں کو زبردستی واپس بھیج دیا۔ بنگلہ دیش کے آئندہ انتخابات میں امیدواروں کے پاس اس سوال کا جواب ہونا چاہیے کہ وہ روہنگیا مہاجرین کے حقوق کو کیسے حل کریں گے، اور وہ میانمار کے ساتھ تعلقات اور میانمار کے جنگی جرائم کے احتساب کے سوالات سے کیسے نمٹیں گے۔
آخر میں، دنیا بھر کی حکومتوں کو بنگلہ دیش کی جمہوریت اور اس کے طویل مدتی انسانی حقوق کی سمت کے تحفظ میں معاون کردار ادا کرنا چاہیے۔ خاص طور پر برطانیہ میں، بنگلہ دیشی برادری کا کردار انتہائی اہم ہے۔ وہاں بنگلہ دیشی نژاد کئی اراکین پارلیمنٹ ہیں، اور انہیں اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔ برطانوی حکومت کو تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے اور بنگلہ دیش میں حقیقی معنوں میں ’سب کے لیے ہموار میدان‘ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
اس کا مطلب ہے کہ سب کے لیے احتساب اور شفاف مقدمات کے معیارات پر اصرار کیا جائے، بشمول حسینہ حکومت کے سابق عہدیداروں کے لیے، جبکہ ووٹنگ سے پہلے پرامن اجتماع، قانون کی حکمرانی اور قابل اعتبار انتخابی نگرانی کا دفاع کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، برطانیہ کو ان قومی انسانی حقوق کی تنظیموں کی حمایت بڑھانی چاہیے جو زمینی حقائق اور انتخابی حالات کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں۔
فروری میں ہونے والا انتخاب محض اس بارے میں نہیں ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہو گی، بلکہ اس بارے میں ہے کہ آیا بنگلہ دیش بالآخر آمریت اور سیاسی تشدد کے اپنے طویل چکر کو توڑ پاتا ہے یا نہیں۔ وہ انقلاب جس نے حسینہ کو اقتدار سے بے دخل کیا، اپنی بنیاد میں انسانی حقوق کا مطالبہ تھا۔ اگر اس مطالبے سے غداری کی گئی، تو اگلی حکومت کو استحکام اور امن ورثے میں نہیں ملے گا، بلکہ محض ایک اور انقلاب سے پہلے کا عارضی سکوت ملے گا۔
اس تحریر کے مصنفین جان کوئنسی انسانی حقوق کی تنظیم ’فورٹیفائی جسٹس‘ کے ڈائرکٹر اور بینیڈکٹ روجرز سینیئر ڈائریکٹر ہیں۔
© The Independent