کیا روشن خیال قوتیں سوشل میڈیا کی جنگ ہار رہی ہیں؟

یورپ سے ایشیا تک سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کر کے عوام کے اذہان کو متاثر کرنے والے زیادہ تر عناصر یا تو رجعت پسند حلقے ہیں یا دائیں بازو کے سیاسی عناصر یا پھر توہم پرستی کے ہرکارے۔

واشنگٹن: 14 اپریل 2022 کو لی گئی اس تصویر میں ایلون مسک کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ ان کی تصویر کے سامنے ہے (اے ایف پی)

یورپ میں احیائے علوم کی تحریک کے ساتھ جو سائنسی ایجادات ہوئیں، انہوں نے رجعت پسندی، قدامت پسندی اور توہم پرستی کو توڑا لیکن بدقسمتی سے جدید ایجادات خصوصاً سوشل میڈیا ایسے عناصر کو مضبوط کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

یورپ سے ایشیا تک سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کر کے عوام کے اذہان کو متاثر کرنے والے زیادہ تر عناصر یا تو رجعت پسند حلقے ہیں یا دائیں بازو کے سیاسی عناصر یا پھر توہم پرستی کے ہرکارے۔

یورپ میں ایک طویل عرصے تک مقدس مذہبی کتب کی تشریح کا اختیار صرف مذہبی پیشواؤں کے پاس تھا لیکن پروٹیسٹنٹ تحریک اور پرنٹنگ پریس کے ظہور کے بعد مذہبی پیشواؤں کے اس اختیار کو بہت بڑا دھچکا لگا۔

مختلف سائنسی ایجادات نے ان مسائل کے حوالے سے حل پیش کیے، جن کی تشریح کی ذمہ داری کلیسا نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھی۔ پرنٹنگ پریس نے کلیسا کی اجاراداری توڑنے اور روشن خیالی کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ سائنسی ایجادات نے توہم پرستوں کی شعبدے بازی کا آشکار کیا۔

ان عناصر کی گرفت صرف مغربی معاشرے میں ہی کمزور نہیں ہوئی بلکہ چین، جنوبی کوریا اور جاپان سمیت جہاں جہاں صنعت کاری اور سائنسی ایجادات پہنچیں، وہاں وہاں ان کی اجاراداری کو ٹھیس پہنچی۔

لیکن بدقسمتی سے حالیہ عشروں کی ایجادات نے نہ صرف یہ کہ قدامت پرست طبقے کو ایک بار پھر دوام بخشنے کی کوشش کی بلکہ اس نے دنیا بھر میں دائیں بازو کے پاپولسٹ سیاست دانوں اور نسل پرست کارکنوں کی سیاسی پوزیشن کو بھی مضبوط کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا کی توجہ زیادہ سے زیادہ اطلاعات کا ابلاغ ہے۔ ان کی دلچسپی اس میں نہیں ہے کہ کوئی خبر، تبصرہ یا تجزیہ کتنا درست ہے اور معاشرے کے لیے کتنا مفید ہے۔

اخبارات کے برعکس سوشل میڈیا کی پوسٹ کی چھان بین کے لیے یا حقائق کا تجزیہ کرنے کے لیے کوئی ادارتی شعبہ نہیں ہوتا، جو پوسٹ لکھنے والے کی غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرے یا حقائق کے برعکس موقف کو پوسٹ سے نکالے۔

گو کہ کچھ سوشل میڈیا کمپنیوں نے اصول و ضوابط واضح کیے ہیں، تاہم ان پر بہت سختی سے عمل نہیں کیا جاتا۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز نے دائیں بازو کی انتہا پسند قوتوں کے عروج میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن غالباً اس میں سب سے اہم کردار ایکس کا ہے۔

ایلون مسک نے ٹوئٹر کو ایکس میں تبدیل کرنے کے بعد برطانیہ میں دائیں بازو کے انتہا پسند رہنما ٹومی رابنسن کا ایکس کا اکاؤنٹ بحال کیا، جن کے صرف ایکس فالوورز کی تعداد اب 19 لاکھ ہے۔

ٹومی رابنسن کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی رجعت پسند، انتہا پسند عناصر، سماجی طور پہ قدامت پرست لوگ اور معاشرے میں توہم پرستی پھیلانے والے عناصر نے سوشل میڈیا کا خوب استعمال کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کے کئی دعوے سرے سے بے بنیاد اور جھوٹے ثابت ہوئے، کے سوشل میڈیا پر جنوری 2023 تک صرف ایکس پر 87 اشاریہ 73 ملین فالورز تھے جبکہ فیس بک اور انسٹاگرام پر یہ تعداد بالترتیب 34.9 ملین اور 23 اشاریہ تین ملین تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل کے نام سے بنائے جانے والے اکاؤنٹ کے فالوورز کی تعداد چار ملین سے زیادہ ہیں۔

 یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک جمہوری لیڈر کو اس بات کا حق ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے اور اپنے پیروکاروں سے مخاطب ہو۔ لیکن تصور کریں کہ وہی رہنما اگر یہ کہے کہ ہیٹی سے ہجرت کرنے والے تارکینِ وطن پالتو جانور کاٹ کے کھا جاتے ہیں اور اس پر لاکھوں لوگ یقین بھی کریں تو ان لوگوں کے خلاف نفرت کا کیا عالم ہو گا۔

امریکہ میں ہی ٹرمپ کے ایک حامی یوٹیوبر چارلی کرک کے صرف انسٹاگرام پر 14 ملین فالوورز تھے۔ ایک اندازے کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد  94.1 ملین تھی۔ چارلی کرک پر الزام ہے کہ وہ سیاہ فام افراد، مسلمانوں اور مہاجرین کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی اور حمایتیوں کے بھی کرڑوں سوشل میڈیا فالوورز تھے۔

گذشتہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں مختلف عوامل نے کردار ادا کیا، تاہم اس میں ایک بہت عنصر سوشل میڈیا پر ان کا اور ان کے فالورز کا پروپیگنڈا بھی تھا۔

سماجی طور پر قدامت پرست نظریات رکھنے والے ایلون مسک کے اس سال فروری تک 233 ملین سے زیادہ فالوورز صرف ایکس اکاؤنٹ پر تھے۔ ان پرالزام ہے کہ وہ یورپ کی دائیں بازو اور دائیں بازو کی انتہا پسند قوتوں کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ صرف یورپ اور امریکہ کی بات نہیں بلکہ انڈیا، پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں دائیں بازو کے یوٹیوبرز راج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مودی نواز شام شرما نامی ایک انڈین یوٹیوبر کے 21 لاکھ فالوورز صرف یوٹیوب پر ہیں۔ ایک انڈین گرو، جو سوشل میڈیا پر اپنے لمبے بالوں اور منفرد انداز کے حوالے سے مشہور ہیں، یوٹیوب پر 72 لاکھ سے زیادہ فالوورز رکھتے ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ وہ تو ہم پرستی کو پھیلانے میں مشغول ہیں۔ اس کے علاوہ اچاریہ پریشانت کے 79 ملین سے زیادہ فالوور ہیں۔ صد گرو کے 39 ملین، شری شری روی شنکر کے 22 ملین، گوپال داس کے 22 ملین، اماں ماتا کے 16 ملین اور دیپک چوپڑا کے 10 ملین۔

ان میں سے کچھ پر جعلی سائنس کو فروغ دینے کا الزام ہے تو کچھ پر عوام الناس کو قدامت پرستی کی دلدل میں دھکیلنے کا الزام ہے۔

ہمارے ہاں بھی بہت سارے یوٹیوبرز صرف اپنی چرب زبانی اور چالاکی سے سوشل میڈیا پر کامیاب ہیں۔

تاہم کچھ کے پیچھے باقاعدہ فنڈنگ کرنے والے لوگ ہیں۔ برطانیہ میں کچھ دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر کے پیچھے رابرٹ شل مین کا پیسہ ہے، جو اسرائیل نواز امریکی ارب پتی ہیں۔

یورپ نے ایلون مسک کی کمپنی سمیت کئی ٹیک کمپنیوں کے خلاف جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہاں کی کچھ حکومتیں سوشل میڈیا پر سخت قوانین بنا چکی ہیں اور کچھ بنا رہی ہیں۔ مسک پر الزام ہے کہ وہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی اس لیے حمایت کررہے ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعے قوانین اور جرمانوں کو ختم کراسکیں۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ سارا کا سارا سوشل میڈیا دائیں بازو یا مذہبی رجعت پسندوں کے قبضے میں ہے۔

مثال کے طور پر انڈیا میں دھرو راٹھی نام کے یوٹیوبر، جو اپنی روشن خیالی کی وجہ سے مشہور ہیں، کے یوٹیوب پر سبسکرائبر کی تعداد 36 ملین ہے اور جون 2025 میں سات بلین سے زیادہ ویوز ان کے مختلف چینلز پر تھے۔

پاکستان میں فیصل وڑائچ، پرویز ہودبھائی، سید مزمل، شہزاد غیاث، علی حسن اور تیمور رحمان سمیت کئی روشن خیال یا ترقی پسند یوٹیوبرز کو بھی لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔

غیر روایتی مذہبی یو ٹیوبرانجینیئر محمد علی مرزا، جن کے 30 لاکھ سوشل میڈیا پہ فالوورز ہیں، کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

برطانیہ میں ایش سرکار، آرون بستانی، جارج گیلووے اور اون جونز سمیت کئی تنقیدی سوچ کے یوٹیوبرز عوام کی توجہ حاصل کر رہے ہیں جب کہ امریکہ، یورپ اور مسلم ممالک میں مہدی حسن کی سوشل میڈیا فالونگ بھی بڑھ رہی ہے۔

تاہم بحیثیت مجموعی ان کی تعداد دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر، مذہبی رجعت پسندوں، جعلی پیروں اور توہم پرست روحانی رہنماؤں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ روشن خیال قوتیں بڑے پیمانے پر ایسے پلیٹ فارمز کا حصہ بنیں تاکہ ان رجعت پسند عناصر کا مقابلہ کیا جا سکے۔ نیز سوشل میڈیا کمپنیوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ پرانے زمانے کے ایڈیٹر کا کردار ادا کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پلیٹ فارمز پر جو شائع ہو رہا ہے وہ کہیں لوگوں میں دوسروں کے لیے نفرت اور مایوسی تو نہیں پھیلا رہا؟

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر