پنجاب حکومت کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 5 ہزار 903 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی پروگرام 752 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ ٰ شجاع الرحمٰن نے منگل کو پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بجٹ عوامی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے پنجاب کو معاشی استحکام کی جانب لے جایا جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’تعلیم کے لیے 750 ارب روپے جبکہ صحت کے شعبے کے لیے بجٹ کا 10 فیصد سے زائد حصہ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ بنیادی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔‘
وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ بلدیاتی اداروں کے لیے 803 ارب 88 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’کفایت شعاری اقدامات کے تحت وزرا، مشیروں اور معاونین کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی اور سرکاری اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔‘
تقریر کے مطابق بجٹ میں ہونہار سکالرشپ پروگرام کے لیے فنڈز مختص کرنے اور وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ پروگرام جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
اسی طرح سکول میل پروگرام کو مزید اضلاع تک توسیع دی جائے گی اور سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ کالجز میں آئی ٹی لیبز کے قیام اور آٹزم اسکولوں کی توسیع کے منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
بجٹ تقریر کے مطابق ’صحت کے شعبے میں کینسر علاج و تحقیق کے منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ معاشی تبدیلی کے لیے PIVOT پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
’اس کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل گورننس کے تحت ای گورنمنٹ اقدامات کو وسعت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے دفتر کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔‘
مجتبیٰ ٰ شجاع الرحمٰن کے مطابق ’بجٹ میں صوبائی آمدن بڑھانے، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں، جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی وصولیوں میں اضافے کا پلان بھی پیش کیا گیا ہے۔ مقامی حکومتوں کے لیے فنڈز میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دیگر اہم اعلانات میں صاف ستھرا پنجاب پروگرام کی توسیع، 2 ہزار الیکٹرک بسوں کے منصوبے کے لیے 168 ارب روپے، سڑکوں کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے اور شجرکاری مہم کے تحت ایک کروڑ سے زائد درخت لگانے کے لیے 8 ارب روپے شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں جنوبی پنجاب میں 12 ہزار ایکڑ بنجر زمین پر درخت لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
بجٹ تجاویز کے حوالے سے حکومتی ایم پی اے غزالی سلیم بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پنجاب حکومت نے سب سے زیادہ قربانی دے کر وفاقی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔ جتنا ممکن ہوسکتا تھا بجٹ میں عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘
ان کے مطابق لیکن جب تک آئی ایم ایف پیکج چلا رہا ہے اور معاشی صورت حال بہتر نہیں ہوتی بجٹ میں زیادہ ریلیف نہیں دیا جاسکا۔ لیکن اگلے سال تک معاملات بہتر ہوجائیں گے۔ لیکن محدود وسائل کے باوجود حکومت نے بہتر بجٹ بنایا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما رانا آفتاب نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ حکومت شاہ خرچیاں کرنے میں مصروف ہے۔ نہ گورننس میں بہتری آئی نہ ہی تعلیم یا صحت کا شعبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکا۔‘
ان کے مطابق: ’وزیر اعلی اور وزیروں کی آسائشات پر عوامی خزانہ لٹایا جا رہا ہے۔ اس لیے صوبے کا نام بھی پنجاب کی بجائے مریم نواز رکھ دیا جائے۔ غریب کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے عام آدمی مایوس ہوچکا ہے۔ تیسرا نہیں پی ڈی ایم کا یہ پانچواں بجٹ ہے لیکن ہر سال کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔‘