سپین کے علاقے سبتة پر 60 ہزار تارکین وطن کا دھاوا، 34 افراد مارے گئے

سپین کے زیر انتظام علاقے سبتة میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 60 ہزار تارکین وطن کی اچانک اور بڑے پیمانے پر آمد نے سپین اور یورپی یونین کے لیے ایک سنگین بحران پیدا کر دیا ہے۔

تارکین وطن 31 جولائی 2026 کو مراکش کی سرحد کے قریب شمالی افریقہ میں واقع سپین کے علاقے سبتة میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں (اے ایف پی)

چند دنوں میں سپین کے زیرِ انتظام علاقے سبتة (سیوٹا) میں تارکین وطن کی غیر معمولی آمد، مراکش کے کردار اور سفارتی تناؤ پر سوالات شدت اختیار کر گئے۔

شمالی افریقہ میں مارکش سے متصل ہسپانوی خطے سبتة میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 60 ہزار تارکین وطن کی اچانک اور بڑے پیمانے پر آمد نے سپین اور یورپی یونین کے لیے ایک سنگین بحران پیدا کر دیا ہے۔

سبتة کے صدر کے مطابق سرحد عبور کرنے کے دوران کم از کم 34  تارکین وطن جان سے گئے۔

چند ہی دنوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا داخل ہونا اس چھوٹے سے علاقے کی گنجائش اور انتظامی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔

80 ہزار افراد پر مشتمل سبتة میں گذشتہ دو سے تین دن کے دوران آنے والے افراد کی تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ مقامی ہسپانوی حکام کے مطابق اب تک تقریباً 60 ہزار افراد اس علاقے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک وقت میں تقریباً 200 افراد فی منٹ کے حساب سے سرحد عبور کر رہے تھے۔

سپین کی وزارت داخلہ کے مطابق ان میں سے تقریباً 25 ہزار افراد بعد ازاں واپس مراکش چلے گئے، تاہم باقی افراد کی موجودگی اب بھی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

یہ صورت حال مئی 2021 کے بحران سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے، جب چند دنوں میں تقریباً 12 ہزار افراد سبتة پہنچے تھے۔

مراکش کے کردار پر سوالات

اس بحران کے دوران مراکش کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سرحدی علاقوں میں مراکشی سکیورٹی فورسز کی غیر معمولی نرمی نے اس بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو ممکن بنایا۔

سینیئر صحافی اگناسیو سیمبریرو کا کہنا ہے کہ سرحد تک پہنچنے کے راستے میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود لوگوں کو گزرنے دیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ آمد کسی حد تک سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

دوسری جانب سبتة اور میلیلا آبزرویٹری کے سربراہ کارلوس ایچیویریا نے اس صورت حال کو ’دباؤ ڈالنے کی ایک شکل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد کا غیر قانونی طور پر بین الاقوامی سرحد عبور کرنا ایک ہمسایہ ملک پر واضح دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔

وجوہات اور ممکنہ محرکات

ماہرین کے مطابق اس اچانک اضافے کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں ایک اہم وجہ سپین کی سپریم کورٹ کا آٹھ جولائی کا فیصلہ بتایا جا رہا ہے، جس کے تحت سمندر کے راستے آنے والے تارکین وطن کو فوری طور پر واپس بھیجنے کے بجائے باقاعدہ قانونی عمل اختیار کرنا ضروری قرار دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید برآں، سپین کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر آنے والے افراد کو قانونی حیثیت دینے کی حالیہ پالیسیوں نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہو سکتی ہے۔

کچھ تجزیہ کار اس خدشے کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ ممکنہ سیاسی تبدیلی اور امیگریشن پالیسی میں سختی کے امکان نے لوگوں کو جلد از جلد یورپ پہنچنے پر آمادہ کیا۔

تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عوامل اکیلے اس غیر معمولی سطح کی نقل و حرکت کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔

سفارتی دباؤ اور علاقائی تنازع

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحران محض ہجرت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سفارتی تنازع کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

مراکش 1956 میں آزادی کے بعد سے سبتة اور میلیلا پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا آیا ہے، جسے سپین مسلسل مسترد کرتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کی آسان منتقلی کے ایسے بحران مراکش کی جانب سے سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اگناسیو سیمبریرو کے مطابق مراکش اس صورت حال کو سپین کو ان علاقوں کے مستقبل پر مذاکرات پر مجبور کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

کارلوس ایچیویریا نے اس صورتحال کو "ناقابلِ قبول" قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اس مسئلے کو یورپی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے اور یورپی یونین کو اپنے رکن ملک کے دفاع میں مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا