برطانیہ بلدیاتی انتخابات: تارکین وطن مخالف بیانیے کی جیت؟

برطانیہ کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تارکین وطن مخالف مؤقف رکھنے والی ریفارم یو کے پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

10 اگست 2024 کو لندن میں ریفارم یو کے پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے باہر شہری تارکین وطن کی حمایت میں مظاہرہ کرتے ہوئے (اے ایف پی)

برطانیہ میں حالیہ دنوں میں منعقد ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات نے جہاں وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں، وہیں اس سے تارکین وطن اور غیر سفید فام برطانوی بھی پریشان ہیں۔

گو کہ ان انتخابات میں لیبر پارٹی دوسری نمبر پر آئی ہے، تاہم اس کو عوامی سطح پر بہت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس کے ووٹ بینک میں زبردست کمی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے وزیراعظم کیئر سٹارمر پر مستعفی ہونے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے سٹارمر پر امریکہ میں برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن کو متعین کرنے کے حوالے سے دباؤ تھا کیونکہ مینڈلسن پر الزام تھا کہ اُن کے جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات تھے اور یہ کہ کیئر سٹارمر کو یہ تقرری نہیں کرنی چاہیے تھی۔

اب بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

وزیراعظم کے کچھ سیاسی ساتھی اس حوالے سے قیادت کی دوڑ میں بھی شامل ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف سٹارمر استعفیٰ دینے کے مطالبے کو مسترد کر رہے ہیں۔

ان انتخابات میں تارکین وطن کے مسائل کے حوالے سے انتہائی سخت نقطہ نظر رکھنے والی ریفارم یو کے پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے، جس نے مجموعی طور پر 1454 نشستیں حاصل کی ہیں۔

لیبر پارٹی نے 1068، لبرل ڈیموکریٹ نے آٹھ سو چوالیس، قدامت پرست پارٹی نے 801، گرین پارٹی نے 587، جبکہ آزاد امیدواروں نے 213 نشستیں حاصل کی ہیں۔

یہ انتخابات برطانیہ کی 136 کونسلز میں ہوئے تھے۔ ان میں سے اٹھائیس کونسلز میں لیبر پارٹی کی اکثریت ہے، پندرہ میں لبرل ڈیموکریٹ، چودہ میں ریفارم یو کے، نو میں قدامت پرست پارٹی، پانچ میں گرین پارٹی اور ایک میں اسپائر نامی ایک مقامی پارٹی، جب کہ چونسٹھ کونسلز میں کسی بھی جماعت کا مجموعی کنٹرول نہیں ہے، یعنی وہاں مختلف جماعتوں کو سودے بازی کرنی پڑے گی۔

ان انتخابات میں ریفارم یو کے کی کامیابی نے تارکین وطن کے حوالے سے سخت موقف رکھنے والوں کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔

کئی ایسے علاقے جو لیبر پارٹی کے گڑھ سمجھے جاتے تھے اور مزدور پیشہ لوگوں پر مشتمل تھے، وہاں بڑی تعداد میں ریفارم یو کے کو ووٹ پڑے ہیں۔

واضح رہے کہ اس پارٹی کے رہنما نائجل فراج بڑے پیمانے پر تارکین وطن کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر چکے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو جن لوگوں کے پاس غیر معینہ مدت تک برطانیہ میں رہنے کا اجازت نامہ ہے، وہ اس کو ممکنہ طور پر منسوخ کر دیں گے۔

ان کی پارٹی تارکین وطن کے گھرانوں کو بھی برطانیہ میں لانے کے حوالے سے سخت منصوبوں پر یقین رکھتی ہے۔

یہ پارٹی برطانیہ کے سارے مسائل کی ذمہ داری تارکین وطن اور کسی حد تک گذشتہ حکومتوں کی ماحولیاتی پالیسیوں پر ڈالتی ہے۔

اس پارٹی کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے حوالے سے خصوصاً ایک سخت موقف رکھتی ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے انتخابات میں اس جماعت کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی، جس سے مسلمان سمیت دوسرے تارکین وطن مزید پریشانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ کچھ مسلمان حلقے بھی اس جماعت کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ پریشانی صرف تارکین وطن تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ نائجل فراج کی پارٹی کی بھاری اکثریت نے وزیراعظم کیئر سٹارمر کو بھی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔

برطانیہ کے سیاسی افق پر یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ لیبر پارٹی کے روایتی حمایتی، یعنی ملک کے مزدور اور غریب گھرانوں کے افراد، اب لیبر پارٹی کے لیے اتنی سرگرمی سے کام کرنا نہیں چاہتے جتنی سرگرمی سے انہوں نے ماضی میں کام کیا تھا۔

لیبر پارٹی میں بائیں بازو کے عناصر سمجھتے ہیں کہ کیئر سٹارمر نے قدامت پرست جماعت کی نیو لبرل پالیسیوں کو جاری رکھا، جس کی وجہ سے مزدور طبقات کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوئیں اور انہوں نے متبادل کے طور پر نائجل فراج کی پارٹی کو ووٹ دیا۔

تاہم لیبر پارٹی کے اندر معاشی طور پر دائیں بازو کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والوں کا خیال ہے کہ تارکین وطن کی طرف نرم پالیسی کی وجہ سے ریفارم یو کے کو شہرت حاصل ہوئی۔

ان کے خیال میں اگر یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوئی تو اگلے عام انتخابات میں سفید فام علاقوں میں لیبر پارٹی کا صفایا بھی ہو سکتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اگر لیبر پارٹی مزدور طبقات کے حوالے سے فوری طور پر اچھی پالیسیاں بنائے تو اس بات کا امکان ہے کہ لیبر پارٹی اپنے ووٹ بینک کا کچھ حصہ نائجل فراج سے مستقبل میں چھین لے۔

مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ بحران کی وجہ سے بھی عام آدمی کی، پورے یورپ کی طرح، برطانیہ میں بھی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے لیے حکومت کو انقلابی اقدامات فوری طور پر اٹھانے پڑیں گے، جن میں سستی رہائش، مکان کے کرایوں میں کمی، مہنگائی کا خاتمہ، دفاعی بجٹ میں بڑی کٹوتی اور ہسپتالوں میں طویل انتظار کو ختم کرنا شامل ہیں۔

اگر لیبر پارٹی نے ایسا نہ کیا تو شاید فوری طور پر تو صرف کیئر سٹارمر کو اپنے اقتدار سے رخصتی لینی پڑے، تاہم اگر آنے والی نئی قیادت نے بھی انقلابی اقدامات سے گریز کیا تو پوری کی پوری لیبر پارٹی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ پارٹی کے اندر مختلف حلقے سٹارمر کو ہٹا کر قائد کی تلاش میں ہیں۔

دوسری طرف برطانوی وزیراعظم بھی اپنے حمایتیوں کے ساتھ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ حکومت میں رہیں اور کچھ اقدامات کر کے عوام کو خوش کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان انتخابات میں ریفارم یو کے کی کامیابی کے بعد نسل پرست گروپوں کے حوصلے بڑھنے کا بھی امکان ہے۔

کئی اس کامیابی کو نسل پرست رہنما ٹومی رابنسن کے بیانیے کی فتح بھی قرار دے رہے ہیں۔

اب نسل پرست گروپوں کے احتجاج اور مظاہروں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

تارکین وطن کے حوالے سے وہ کسی بھی مسئلے کو، خصوصاً جنسی جرائم کو، بڑھا چڑھا کر بیان کر کے معاشرے میں مزید سماجی تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے نہ صرف مسلمانوں، تارکین وطن بلکہ پورے برطانوی سماج کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

برطانیہ میں رہنے والے مسلمان قدامت پرستوں اور نسل پرستوں کے پروپیگنڈے کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ گرین پارٹی کو دیے ہیں، جس کے رہنما ایک یہودی ہیں اور وہ ہم جنس پرست بھی ہیں۔

تاہم ان کا موقف مسلمانوں، تارکین وطن اور مزدوروں کے حوالے سے بہت مثبت ہے۔

تارکین وطن کے کچھ حصوں نے جیرمی کوربن کے حمایت یافتہ یا لیبر پارٹی میں بائیں بازو کے رہنماؤں کے حمایت یافتہ امیدواروں کو بھی ووٹ دیے ہیں۔ ان سب کے موقف گرین پارٹی کی طرح کے ہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اور دوسرے تارکین وطن ملک میں ایسی سیاسی جماعتوں کے ہاتھ مضبوط کریں جن کی پالیسیاں فاشزم کے خلاف ہیں اور جو نسل پرستی کو برطانوی سماج کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ سمجھتی ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق پونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر