اگر انسانی تاریخ میں کوئی مستقل حقیقت ہے تو یہ نظریہ جنگ ہے۔ یہاں تک کہ امن کو کبھی کبھار جنگ کی عدم موجودگی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
قومیں وسائل کی لڑائی، مفادات کے تصادم یا محض غلبہ اور بالادستی کے لیے جنگوں میں ملوث ہوتی ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کی خوفناک تباہی کا سامنا کرنے کے بعد یہ گمان کیا گیا کہ اب جنگیں تاریخ میں دفن ہو جائیں گی کیونکہ اقوام عالم نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کیے تھے اور ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا عہد کیا تھا۔
تاہم، ایسا نہیں ہوا۔ آج، 49 ریاستوں کے درمیان یا ان کے اندر 130 سے زیادہ فعال مسلح تنازعات ہیں۔ ماضی کی نسبت اب جنگیں زیادہ تباہ کن اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہیں۔
اس طرح جنگ نہ صرف ایک مستقل حقیقت ہے بلکہ اس کے نفاذ کا طریقہ بھی مسلسل جدت اختیار کر رہا ہے۔
جنگ کے ارتقا کو قریب سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کی پانچ نسلوں نے صدیوں کے دوران انسانی تجربے کی رہنمائی کی ہے۔
جنگ کی پہلی نسل نے بڑے پیمانے پر لشکر کشی اور تلواروں اور نیزوں کا استعمال دیکھا۔ دوسری میں دشمن کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے لیے رائفلز اور توپوں جیسے بالواسطہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
تیسری میں سادہ فائر پاور کی بجائے رفتار اور حیرت انگیز چالوں کا فائدہ اٹھایا گیا ۔ چوتھی میں غیر ریاستی عناصر اور نیم فوجی دستے بھی جنگوں میں شامل کیے جانے لگے۔
جنگ کی پانچویں نسل میں پروپیگنڈا اور جدید ٹیکنالوجیز شامل ہو گئیں۔
جدید جنگ کی نوعیت ہائبرڈ ہے، جس میں روایتی، غیر روایتی، غیر ریاستی، سائبر اور نفسیاتی ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ معاشی جبر، ثقافتی یلغار، اور ان بنیادی اقدار اور نظریات کے بارے میں ابہام اور الجھن پیدا کرنے کے لیے مسلسل پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے جو ایک قوم کو یکجا رکھتی ہیں۔ ہائبرڈ وارفیئر کی اصطلاح 1989 کے آس پاس تیار کی گئی تھی۔
باعث حیرت ہےمشہور چینی حکمت عملی ساز، ’دی آرٹ آف وار‘ کے مصنف سن زو، چھٹی صدی قبل مسیح کے اوائل میں ہی یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ جنگ کا سب سے بڑا فن بغیر لڑے دشمن کو زیر کرنا ہے۔ یہ دشمن کی قوت ارادی اور لڑنے کی صلاحیت کو توڑ کر کیا جاتا ہے۔
تاریخی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مستقبل کی جنگ حریف کی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو نشانہ بنانے کے لیے حرکیاتی اور غیر حرکی آلات کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھے گی یعنی سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، سماجی، سفارتی، فوجی، اور یہاں تک کہ نفسیاتی۔
ہر گزرتے سال کے ساتھ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز خصوصا خود مختار مہلک ہتھیار جدید جنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں مصنوعی ذہانت رکھنے والے میزائل اور ڈرون، جن کی رہنمائی خصوصی سیمی کنڈکٹرز، مائیکرو چپس اور سینسر کرتے ہیں۔ یہ مہلک ہتھیار کافی میموری بینڈوڈتھ، درست حساب اور خود مختار نیویگیشن رکھتے ہیں۔
میزائلوں نے، خاص طور پر، اعلیٰ درستگی، لمبی رینج، اور تیز رفتار ردعمل کی صلاحیتوں کو فعال بنا کر جنگ کی نوعیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے جس نے میدان جنگ کے روایتی تصورات کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مئی 2025 میں چار روزہ انڈیا پاکستان جنگ میں، پاکستان نے بصری حد سے باہر پرواز کرنے والے کئی انڈین طیاروں کو مار گرانے کے لیے میزائلوں کا استعمال کیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرزمین کے اندر گہرائی میں جگہوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل بھیجے۔
حالیہ 40 روزہ امریکہ ایران جنگ میں بھی امریکہ اپنے ارادے کے اعلان کے باوجود جانی نقصان کے خوف سے فوج کو زمین پر نہیں لایا اور زیادہ تر انفراریڈ سینسرز اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے ذریعے چلنے والے میزائلوں پر انحصار کیا۔
میزائلوں کی طرح، اب جدید روبوٹس کو خود مختار، ٹیلی آپریٹڈ سسٹم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو زیادہ درست اور مؤثر طریقے سے انٹیلی جنس، نگرانی، اور یہاں تک کہ ٹارگٹ سٹرائیک کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ڈرون اور روبوٹک کتے ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کر سکتے ہیں، جنگی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور بارودی سرنگوں کی صفائی یا پکڑے گئے اہلکاروں کو تلاش کرنے جیسے پر خطر کاموں کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔
پائلٹ کے بغیر اڑنے والی فضائی گاڑیاں انٹیلی جنس کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، جو ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے لیس ہیں۔ لاؤٹرنگ گولہ بارود یا خودکش ڈرون آزادانہ طور پر اہداف کو ٹریک اور حملہ کر سکتے ہیں۔
ڈرائیور کے بغیر زمینی گاڑیاں کسی فوجی کو کھوئے بغیر سامان اور گولہ بارود کی نقل و حمل میں مدد کرتی ہیں۔ ڈرونز کو اب مربوط حملے کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب مصنوعی سپاہی یعنی ہیومنائیڈ روبوٹ موجود ہوں گے۔
کچھ دیگر ٹیکنالوجیز کو بھی مستقبل کی جنگوں میں ان کے ممکنہ کردار کے لیے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
کوانٹم کمپیوٹنگ، جو پیچیدہ مسائل کو کلاسیکی کمپیوٹرز کے مقابلے میں تیزی سے حل کرتی ہے، کو مواصلات میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ تنازعات کے حالات کے دوران ناقابل ہیک اور محفوظ ڈیٹا کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اگلی جنریشن کی کمپوزٹ بیٹریاں جو اپنی پیداوار اور استعمال کے درمیان فرق کو ختم کرتے ہوئے طویل عرصے تک توانائی کا ذخیرہ کر سکتی ہیں۔
یہ ٹیکنالوجیز صحت کی دیکھ بھال اور ماحولیاتی تحفظ میں صنعتی پیداوار کے علاوہ دفاعی مینوفیکچرنگ میں انقلاب برپا کر رہی ہیں۔
یہ رجحانات ایک واضح سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں آمنے سامنے کی لڑائی یا انسانی کنٹرول والے نظاموں سے ہٹ کر ذہین خود مختار نظاموں کی طرف چلی جائیں گی جو مسلسل انسانی مداخلت کے بغیر فیصلے کر سکیں گی۔
ان ٹیکنالوجیز کا استعمال مخالف کے حوصلے کو توڑنے اور اس کے معاشی اثاثوں یا اس کی سپلائی چین کو نشانہ بنانے کے لیے بھی کیا جائے گا جیسا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور گرڈ اور پل اور یہاں تک کہ اس کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے کچھ سنگین اخلاقی سوالات اٹھتے ہیں۔ خود مختار ہتھیاروں میں سیاق و سباق کو سمجھنے یا ہمدردی کا اطلاق کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
جوابدہی کے خوف کے بغیر جنگی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیے جانے کا زیادہ امکان ہے۔ مزید، ان ٹیکنالوجیز کی رفتار اور چستی تنازعات کو قابو سے باہر کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
کسی قوم کے پاس جس قسم کی ٹیکنالوجیز ہیں وہی اب تعین کریں گی کہ مستقبل کی جنگ میں وہ قوم کس حد تک حریف کی ملکی اور خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو گی۔
گویا کسی قوم کی جدید ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت ہی اب مستقبل کی جنگیں چھیڑنے یا اگر اس پر جنگ مسلط ہو جائے تو اس سے بچنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھے گی، جو عنصر مستقبل کی جنگوں کو ناقابل احتساب بناتا ہے وہ بگڑتا ہوا عالمی نظام ہے جو کہ ابتری کا شکار ہے۔
بڑی طاقتوں کو اپنے مخالفین پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی، یکطرفہ اور غیر متناسب طاقت کا استعمال کرنے میں کوئی عار نہیں ہے۔
ایسے غیر یقینی عالمی ماحول میں، درمیانی اور چھوٹی طاقتیں اپنے آپ کو بچانے اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اتحاد کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔
چنانچہ اکثر ممالک نہ صرف جنگ سے متعلقہ ٹیکنالوجیز کے حصول بلکہ اپنے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ پر مبنی مواصلاتی روابط کی ترقی کے لیے ریسرچ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
تاہم جارحیت کو روکنے کے لیے مضبوط معیشت، معتبر معلوماتی آلات اور تخلیقی بیانیہ کی تعمیر کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس طرح کی پیچیدہ ملٹی ڈومین مستقبل کی جنگوں کا احتساب کرنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مشابہ ایک نئے عالمی کمپیکٹ کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے سفارتی بات چیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ ریاستوں کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے باہمی احترام کا پابند بنایا جا سکے۔
مستقبل کی خوفناک اور خونی جنگوں سے بچنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔