غزہ پر فضائی حملے میں حماس ملٹری ونگ کے سربراہ عزالدين الحداد جان سے گئے

یہ گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے قتل کیے جانے والے حماس کے سب سے سینیئر رہنما ہیں۔

16 مئی 2026 کو غزہ سٹی میں جنازے کے دوران فلسطینی شہری حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر عزالدین الحداد کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں (روئٹرز)

اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس نے غزہ پر گذشتہ روز کیے گئے فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ عزالدين الحداد کو قتل کر دیا ہے۔

یہ گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے قتل کیے جانے والے حماس کے سب سے سینیئر رہنما ہیں۔

حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ 1970 میں پیدا ہونے والے عزالدین الحداد اس حملے میں مارے گئے۔ تاہم حماس نے باضابطہ طور پر ان کی موت کا اعلان نہیں کیا۔

غزہ کے وسط میں واقع مسجد الاقصیٰ شہدا میں ہفتے کو الحداد، ان کی اہلیہ اور 19 سالہ بیٹی کی مشترکہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ 

غزہ کے طبی حکام نے کہا کہ اسرائیل نے جمعے کو غزہ پر کم از کم دو حملے کیے، جن میں تین خواتین اور ایک بچے سمیت سات فلسطینی جان سے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے وزیرِ دفاع کے ہمراہ جمعے کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ فوج نے حماس رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملہ کیا، تاہم اس وقت یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ جان سے گئے ہیں یا نہیں۔

نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع کاٹز نے الزام لگایا کہ الحداد سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے، جن کے بعد اسرائیل نے غزہ پر جاری کارروائیاں شروع کیں۔

انہوں نے الحداد پر ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے قتل، اغوا اور نقصان کی ذمہ داری کا بھی الزام لگایا۔

’دی گھوسٹ‘ کے لقب سے معروف الحداد ماضی میں اسرائیل کے کئی قاتلانہ حملوں سے بچ نکلے تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ حماس کے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے کمانڈرز میں سے تھے اور 1980 کی دہائی میں تنظیم کے قیام کے بعد مختلف اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا