لاہور کی پرانی گلیوں، دھندلے خوابوں اور محبت کی دیوانگی کے پس منظر میں بننے والی پاکستانی فلم ’لو دی سوں‘ عیدالاضحیٰ 2026 پر سینما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے۔
یہ فلم محض ایک رومانوی یا ایکشن کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا جذباتی سفر ہے، جہاں محبت جب دیوانگی کی حدوں کو چھونے لگتی ہے تو کہانیاں صرف دلوں میں نہیں بلکہ بڑی سکرین پر بھی زندہ ہو جاتی ہیں۔
فلم میں مرکزی کردار فرحان سعید اور مامیہ شاہ جعفر ادا کر رہے ہیں، جن کی آن سکرین کیمسٹری پہلے ہی شائقین کی توجہ حاصل کر چکی ہے۔
کہانی ایک ایسی محبت کے گرد گھومتی ہے جو صرف خواب نہیں دکھاتی بلکہ انسان کو ہر حد عبور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
فلم کی معاون کاسٹ میں بابر علی، مہرالنسا اقبال، رانا اعجاز اور تبریز خان شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور تحریر عمران ملک نے کی ہے۔
اس فلم میں میوزک انڈسٹری میں اپنی آواز اور ڈراموں میں شاندار اداکاری سے نام بنانے والے فرحان سعید اب سلور سکرین پر جلوہ گر ہونے جا رہے ہیں۔
فلم کے پریس میٹ میں انہوں نے اپنے کردار ’زرشان‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم پاکستانی سینما میں ایک نئی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں تفریح کے ساتھ ایک مضبوط سماجی پیغام بھی دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور کی گلیوں میں شوٹ کیے گئے ایکشن مناظر ان کے کیریئر کے مشکل ترین تجربات میں شامل تھے۔
’لوگ سمجھتے ہیں کہ ایکشن صرف فلموں میں اچھا لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ بہت مشکل کام ہوتا ہے، خاص طور پر جب آپ تمام سٹنٹس خود کر رہے ہوں۔ اس فلم میں کوئی سٹنٹ مین استعمال نہیں کیا گیا، ہر سین ہم نے خود فلمایا۔ کئی بار چوٹیں بھی لگیں، لیکن جب کہانی پر یقین ہو تو درد محسوس نہیں ہوتا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ خان بابا کے ساتھ ایکشن کرنا ایک منفرد تجربہ تھا: ’انہوں نے مجھے جنگلوں میں خوب اٹھا اٹھا کر مارا۔ چوٹیں بھی لگیں، مگر جب پتا ہو کہ نتیجہ اچھا نکلے گا تو سب برداشت ہو جاتا ہے۔‘
فرحان سعید کے مطابق، ’لو دی سوں‘ صرف ایک محبت کی کہانی نہیں بلکہ ان لوگوں کی زندگیوں کو بھی دکھاتی ہے جنہیں معاشرہ ایک غلطی کے بعد دوسرا موقع دینے سے انکار کر دیتا ہے۔
دوسری جانب مامیہ شاہ جعفر نے فلم میں ’بلّو‘ کے کردار کو اپنے کیریئر کے منفرد کرداروں میں شمار کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ اس فلم کو منتخب کرنے کی ایک بڑی وجہ اس کی مضبوط کہانی اور سماجی پیغام ہے، جو ان خواتین کی زندگیوں کو اجاگر کرتا ہے جو انسانی سمگلنگ اور استحصال کا شکار ہو جاتی ہیں، اور یہ بھی دکھاتا ہے کہ معاشرہ انہیں دوسرا موقع کیسے دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فلم کے رقص کے مناظر ان کے دل کے بہت قریب ہیں، کیونکہ ڈانس ان کی ذاتی زندگی کا بھی اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق ’بلّو‘ اور ان کی اپنی شخصیت میں سب سے بڑی مماثلت یہی ہے کہ دونوں کو رقص سے بے حد محبت ہے۔
لاہور کی گلیوں میں شوٹنگ کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصروف سڑکوں پر کام کرنا کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔ ’لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو جاتے تھے، کبھی یوں لگتا تھا جیسے ہم فلم کی شوٹنگ نہیں بلکہ سٹیج پرفارمنس کر رہے ہوں۔‘
فلم کے ایک جذباتی مکالمے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
’اگر کوئی اپنا مل جائے تو یہ دنیا بھی چھوڑی جا سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق یہ جملہ اس لیے دل کو چھو گیا کیونکہ حقیقت میں بھی بہت سی لڑکیاں ایسے حالات سے گزرتی ہیں جن کا انتخاب انہوں نے خود نہیں کیا ہوتا۔
انہوں نے ناظرین کو فلم دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فلم ایکشن، رومانس اور جذبات سے بھرپور ہے اور یقیناً شائقین کو پسند آئے گی۔