کانز فلم فیسٹیول میں روما ریاض کا انداز پاکستان کی نئی عالمی پہچان بن سکتا ہے؟

2025 میں مس یونیورس پاکستان کا اعزاز حاصل کرنے والی روما ریاض اس سال کانز فلم فیسٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔

مس یونیورس پاکستان کا اعزاز حاصل کرنے والی ماڈل روما ریاض اس سال کانز فلم فیسٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی، جسے وہ محض اپنی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کا اہم موقع سمجھتی ہیں۔

کانز فلم فیسٹیول دنیا کے سب سے معتبر اور باوقار فلمی میلوں میں شمار ہوتا ہے، جو ہر سال فرانس کے شہرکانز میں منعقد ہوتا ہے۔ اس کا آغاز 1946 میں ہوا اور تب سے یہ عالمی سنیما کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔

یہ فیسٹیول فلم سازوں، اداکاروں، ہدایت کاروں اور فنکاروں کو ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ یہاں بہترین فلموں کو مختلف اعزازات دیے جاتے ہیں، جن میں سب سے بڑا ایوارڈ ’پام ڈی اور‘(Palme d'Or) ہے۔

اس سال 12 سے 23 مئی کے دوران کانز فیسٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی روما ریاض نے 2025 میں مس یونیورس پاکستان کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ فیشن کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل، خصوصاً خواتین کے حقوق اور آزادی اظہار پر بھی آواز اٹھاتی ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت نمائندگی کے لیے سرگرم ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر موجودگی کے ذریعے وہ پاکستانی ثقافت، خواتین کے حقوق اور آزادیٔ اظہار کے حوالے سے ایک مثبت بیانیہ پیش کرنا چاہتی ہیں تاکہ پاکستان سے متعلق پائے جانے والے دقیانوسی تصورات کو چیلنج کیا جا سکے۔

روما ریاض نے کانز فلم فیسٹیول کی تیاریوں کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں اپنے ملک اور پوری دنیا کو یہ دکھانے کے لیے جا رہی ہوں کہ ہم پاکستانی کسی سے کم نہیں۔ یہ سفر صرف میری ذات تک محدود نہیں، بلکہ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے جا رہی ہوں۔ میرا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستانی عوام ہر چیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم مضبوط ہیں، باہمت ہیں، ذہین ہیں اور بااختیار ہیں۔‘

اپنے مس یونیورس کے سفر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’میرے لیے یہ سفر بہت اہم ہے کیونکہ میری پوری مس یونیورس کی جدوجہد پاکستان کی نمائندگی کے گرد گھومتی ہے۔

’وہاں جانا صرف ریڈ کارپٹ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی سطح پر اپنی موجودگی ظاہر کرنے اور پاکستان کو مثبت انداز میں پیش کرنے کا موقع ہے میں یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ پاکستان عالمی پلیٹ فارمز پر جگہ بنانے کا حقدار ہے اور ہمیں بھی ان عالمی گفتگوؤں کاحصہ بننا چاہیے۔‘

کیا دنیا پاکستانی فیشن اور کلچر کو نئے انداز میں دیکھے گی؟

اس سوال کے جواب میں مس یونیورس روما ریاض کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی فیشن بے حد مضبوط ہے۔ ہماری کاریگری اور باریک بینی اپنی مثال آپ ہے، بس ہمیں عالمی سطح پر پہچان کی ضرورت ہے۔ کانز جیسے پلیٹ فارمز بیانیہ بدلنےکی طاقت رکھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ پاکستان کو وہ پہچان ملے گی جس کا وہ مستحق ہے اور ہمارا ٹیلنٹ بھی تسلیم کیا جائے گا۔‘

انہوں نے اپنی تیاریوں کے حوالے سے بتایا کہ ’میں نے خاص طور پر کوشش کی ہے کہ میری پوری وارڈروب پاکستانی ڈیزائنرز کی تخلیقات پر مشتمل ہو۔ میں نے نہ صرف بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا بلکہ ابھرتے ہوئے اور خواتین کی ملکیت والے فیشن ہاؤسز کو بھی موقع دیا تاکہ وہ بھی کانز جیسے پلیٹ فارم پر اپنے کام کی نمائش کرسکیں۔‘

عالمی سطح پر نمائندگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’جب ہم عالمی سطح پر اعتماد کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ ہمیں نئے مواقع مل سکتے ہیں، نئی شراکت داریاں بن سکتی ہیں اور ہماری پہچان بڑھ سکتی ہے۔ یہ صرف میرے لیے ایک لمحہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، جو آنے والی نسلوں اور باصلاحیت لڑکیوں کے لیے راستے کھول سکتا ہے۔‘

لباس کے ذریعے پاکستان کی شناخت پیش کرنے کا وژن

فیشن کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے روما ریاض نے بتایا کہ ’فیشن صرف لباس کا نام نہیں، بلکہ یہ کہانی سنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہر لباس کے پیچھے ایک تصور، ایک ڈیزائنر اور پاکستان کی شناخت چھپی ہوتی ہے۔ ریڈ کارپٹ سے بڑھ کر یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں پاکستان کا نام عالمی سطح پر لیا جاتا ہے اور لوگ ہماری ثقافت اور ہنر کو دیکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میری وارڈروب میں روایتی، فیوژن اور مغربی انداز سب شامل ہیں، لیکن خاص بات یہ ہے کہ تمام ملبوسات پاکستانی ڈیزائنرز نے تیار کیے ہیں۔ میں دنیا کو دکھانا چاہتی ہوں کہ پاکستانی فیشن ہر انداز میں خودکو منوا سکتا ہے۔ چاہے وہ روایتی ہو یا جدید، ہم ہر رنگ میں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہیں۔‘

رنگوں اور انداز کے انتخاب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’رنگوں کے انتخاب میں بھی جرات اور خوبصورتی کا امتزاج ہوگا تاکہ لوگ فوراً پہچان سکیں کہ پاکستان آیا ہے۔ یہ انداز نہ صرف نمایاں ہوگا بلکہ باوقار اور نفیس بھی ہوگا۔‘

انہوں نے اعتماد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ بہترین لباس پہن سکتے ہیں، لیکن اگر آپ اسے اعتماد کے ساتھ پیش نہ کریں تو وہ متاثر کن نہیں لگتا۔

بقول روما: ’سٹائلنگ اور لباس اہم ہیں، مگر اعتماد ہی وہ چیز ہے جو کسی بھی انداز کو مکمل طور پر نکھار دیتی ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فلم