منصوعی ذہانت روح کا متبادل نہیں: سپیلبرگ

نامور پروڈیوسر اور ہدایت کار سٹیون سپیلبرگ کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ ہالی وڈ میں تخلیقی عمل پر اے آئی قابض ہو جائے۔

سپیلبرگ 15 اپریل، 2026 کو نیواڈا میں ایم پی اے 250 ایوارڈ وصول کرنے کے بعد سٹیج پر گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

سٹیون سپیلبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کسی بھی تخلیقی کام میں مصنوعی ذہانت کو متبادل یا آخری فیصلے کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔

لیجنڈری ڈائریکٹر، جنہوں نے 2001 میں سائنس فکشن ڈراما فلم ’اے آئی: آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘بھی بنائی تھی، نے فلم سازی میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

مشیل اوباما اور کریگ رابنسن کے ساتھ ’آئی ایم او‘ پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے سپیلبرگ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہالی وڈ میں تخلیقی عمل پر اے آئی قابض ہو جائے۔

اگرچہ ان کا ماننا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو ’طبی مسائل کے حل تلاش کرنے‘ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن وہ اپنی انڈسٹری (فلم سازی) پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں فکر مند تھے۔

انہوں نے کہا ’جہاں مجھے اے آئی پسند نہیں، وہ یہ کہ جب یہ کوئی پوزیشن سنبھال لے یا کسی مصنف کی میز پر اس کی خالی کرسی پر بیٹھ جائے۔‘

’میں متبادل لانے کے لیے تیار نہیں کیونکہ میں واقعی (مشینوں کے) ذی شعور ہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ میرا نہیں خیال کہ روح کا کوئی متبادل ہو سکتا ہے۔‘

’میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی ایسا الگورتھم ہے جسے ایجاد کیا جا سکے... ایک کمپیوٹر جو یہ سمجھے کہ وہ ہمارے مقابلے میں زیادہ محسوس کرتا ہے، یہ اس طریقے کے بالکل خلاف ہے جس ماحول میں میں پلا بڑھا ہوں اور جس طرح میں مستقبل میں فلمیں بنانے اور ڈائریکٹ کرنے کے اپنے پیشے پر عمل کروں گا۔‘

تاہم 79 سالہ ڈائریکٹر نے اعتراف کیا کہ وہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کرتے ہیں جہاں اے آئی لوکیشن سکاؤٹنگ (فلم بندی کے لیے جگہیں تلاش کرنے) جیسے کام سرانجام دے کر ’ہماری بہت سی بھاگ دوڑ بچا سکتی ہے۔‘

لیکن ڈائریکٹر نے کہا کہ وہ کبھی نہیں چاہتے کہ یہ (اے آئی) اس سے ایک قدم آگے بڑھے اور یہ مشورہ دے کہ فلمیں اصل میں کیسے بنائی جائیں۔

’مجھے یہ مت بتاؤ کہ اس کردار کے لیے مکالمے کیسے لکھنے ہیں۔ مجھے یہ مت بتاؤ کہ کیمرہ کہاں لگنا چاہیے اور یہ بھی مت بتاؤ کہ سیٹ کیسا لگنا چاہیے، الا یہ کہ اے آئی پروڈکشن ڈیزائنر کے ٹولز کے بڑے ڈبے میں محض ایک ٹول کے طور پر استعمال ہو رہی ہو۔‘

’اے آئی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کریں لیکن کسی بھی تخلیقی چیز پر اے آئی کو حتمی فیصلہ نہ بنائیں۔ میں یہیں پر حد قائم کرتا ہوں۔‘

اس انٹرویو میں سپیلبرگ نے اپنی آنے والی بلاک بسٹر فلم ’ڈسکلوژر ڈے‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے خلائی مخلوق پر یقین رکھنے کا اعتراف بھی کیا، جو اس نظریے پر مبنی ہے کہ خلائی مخلوق پہلے ہی زمین پر موجود ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’میرے خیال میں یہ ریاضیاتی اور سائنسی طور پر ناممکن ہے کہ کائنات میں کہیں اور زندگی موجود نہ ہو۔‘

انہوں نے مارچ میں ’سوتھ بائی ساؤتھ ویسٹ‘ فلم اینڈ ٹی وی فیسٹیول میں بات کرتے ہوئے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس وقت زمین پر ’ہم اکیلے نہیں۔‘

فلم ’ڈسکلوژر ڈے‘ کی کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے ’اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ ہم اکیلے نہیں، اگر کوئی آپ کو یہ دکھا دے، آپ پر ثابت کر دے تو کیا یہ چیز آپ کو خوف زدہ کر دے گی؟‘

جب پوڈ کاسٹر شان فینیسی نے خود ان سے اس نظریے پر سوال کیا تو سپیلبرگ نے کہا ’میں آپ لوگوں سے زیادہ نہیں جانتا لیکن مجھے پکا شبہ ہے کہ ہم اس وقت یہاں زمین پر اکیلے نہیں ہیں – اور میں نے اسی بارے میں ایک فلم بنائی ہے۔‘

اسی تقریب میں ڈائریکٹر نے اے آئی کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ اگرچہ وہ اس پر "پوری بحث یا تنقید" نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ "کئی مختلف شعبوں میں اے آئی کے حق میں ہیں"، لیکن وہ "اے آئی کے حق میں تب نہیں ہیں جب یہ کسی تخلیقی انسان کی جگہ لے لے"۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فلم