دلجیت دوسانجھ کی ’ستلج‘ سنسرشپ تنازع کے بعد سٹریمنگ پلیٹ فارم سے غائب

طویل عرصے سے تاخیر کا شکار فلم سکھ کارکن جسونت سنگھ خالصہ کی زندگی پر مبنی ہے، جنہیں پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے مبینہ ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرنے پر اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔

دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ کا پوسٹر (ستلج ویب سائٹ)

دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ کئی برس کی سنسرشپ سے متعلق کشمکش کے بعد بالآخر ناظرین تک پہنچنے کے 48 گھنٹے بھی پورے نہ کر سکی اور ایک سٹریمنگ پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی۔

ہنی ٹریہان کی ہدایت کاری میں بننے والی اور دلجیت دوسانجھ کی اداکاری سے مزین یہ فلم سکھ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالصہ کی زندگی پر بنی ہے۔ خالصہ نے 1980 کی دہائی کے آخری برسوں اور 1990 کی دہائی کے ابتدائی دور میں پنجاب میں مبینہ طور پر ہونے والی 25 ہزار سے زائد ماورائے عدالت اموات کو دستاویزی شکل دی تھی۔ اس وقت شمالی انڈیا کی یہ ریاست ایک خونریز شورش کی لپیٹ میں تھی۔ بعد ازاں 1995 میں خالصہ کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا۔

فلم کا اصل نام ’غلوگھارا‘ تھا، تاہم مرکزی بورڈ برائے فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) کے اعتراضات کے بعد اس کا نام ’پنجاب 95‘ رکھ دیا گیا۔

لفظ ’غلوگھارا‘ کا مفہوم تقریباً ’قتل عام‘ یا ’نسل کشی‘ بنتا ہے اور سکھ تاریخ میں اس کی گہری اہمیت ہے۔ یہ اصطلاح عموماً 18ویں صدی میں سکھوں کے بڑے پیمانے پر قتل اور 1984 میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ان کے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل کے بعد ہونے والے سکھ مخالف فسادات اور قتل عام کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

فلم کو 2022 میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کے بعد ہنی ٹریہان نے دعویٰ کیا کہ سی بی ایف سی کے اعتراضات ابتدا میں 21 کٹس سے بڑھ کر 127 تک پہنچ گئے۔ ان کے مطابق ان مطالبات میں جسونت سنگھ خالصہ کا نام ہٹانا، پنجاب پولیس کے حوالوں کو ختم کرنا، لاشوں کی دریافت کے مقامات حذف کرنا، انڈین پرچم والے مناظر نکالنا، حتیٰ کہ اس وضاحت کو بھی ہٹانا شامل تھا کہ فلم حقیقی واقعات سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔

فلم سازوں نے سرٹیفیکیشن کے عمل کے بعض پہلوؤں کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم بعد میں مقدمہ واپس لے لیا۔ اسی دوران فلم کو 2023 کے ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شیڈول گالا پریمیئر سے بھی ہٹا لیا گیا۔ ایک ذریعے نے Variety کو بتایا کہ اس فیصلے میں ’سیاسی قوتوں‘ کا کردار تھا۔

ٹریہان کے بقول ’متاثر شدہ‘ یا ’سمجھوتہ شدہ‘ ورژن جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے فلم سازوں نے بالآخر سینیما گھروں میں ریلیز کا منصوبہ ترک کر دیا اور فلم کو بغیر کسی کٹ کے اس کے تیسرے نام ’ستلج‘ کے تحت گذشتہ ہفتے زی فائیو پر پیش کر دیا۔

فلم جمعے کو ریلیز ہوئی لیکن اختتام ہفتہ مکمل ہونے سے پہلے ہی غائب ہو گئی۔

 زی فائیو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا: ’موجودہ صورت حال کے پیش نظر ’ستلج‘ اگلے نوٹس تک انڈیا میں دستیاب نہیں ہو گی۔‘

تاہم فلم زی گلوبل کے ذریعے بیرونِ ملک بدستور دیکھی جا سکتی ہے۔

پلیٹ فارم نے مزید کہا: ’ہم تمام مناسب قانونی راستے اختیار کرنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ فلم جلد از جلد دوبارہ ناظرین تک پہنچائی جا سکے۔ تخلیق کاروں اور یقین، فنی دیانت داری اور مقصد کے ساتھ بیان کی گئی کہانیوں سے ہماری وابستگی غیر متزلزل ہے۔‘

زی فائیو نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ’موجودہ صورت حال‘ سے اس کی مراد کیا ہے۔

معاملے سے واقف ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ فلم کا جائزہ لینے کے بعد اسے ہٹایا گیا کیونکہ بعض حصے ’انڈیا مخالف عناصر کے ہاتھوں غلط استعمال ہو سکتے تھے۔‘

انڈین قانون کے تحت سینیما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلموں کا پہلے سی بی ایف سی سے معائنہ اور سرٹیفیکیشن حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ادارہ سینیماٹوگراف ایکٹ 1952 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔

تاہم وہ فلمیں جو صرف سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے بنائی جاتی ہیں، ان کے لیے سی بی ایف سی سے سرٹیفکیٹ لینا ضروری نہیں۔ زی فائیو، نیٹ فلکس اور ایمیزون پرائم ویڈیو جیسے پلیٹ فارم انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز 2021 کے تحت کام کرتے ہیں، جن کے مطابق مواد کی نگرانی اور انڈین قوانین کی پاسداری کی ذمہ داری خود پلیٹ فارمز پر عائد ہوتی ہے۔

فلم کا ہٹایا جانا ٹریہان کے لیے بھی حیران کن تھا۔ انہوں نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ انہیں اتوار کی شام تقریباً 8:15 بجے انڈیا میں زی فائیو سے فلم ہٹائے جانے کا علم ہوا۔

انہوں نے کہا: ’میں اس وقت کچھ سمجھ نہیں پا رہا۔ مجھے نہیں معلوم اس پیش رفت پر کیا ردعمل دوں۔‘

فلم کے پلیٹ فارم سے ہٹنے سے صرف ایک گھنٹہ قبل ٹریہان نے دی ہالی ووڈ رپورٹر انڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ خوش ہیں کہ آخرکار یہ منصوبہ انڈین ناظرین تک پہنچ سکا۔

انہوں نے کہا: ’کارپوریٹ ٹیم کے بنیادی ارکان کے علاوہ صرف دلجیت کو معلوم تھا کہ فلم اپ لوڈ ہونے والی ہے۔ سچ کہوں تو میرے ذہن کے ایک حصے نے تو امید ہی چھوڑ دی تھی کہ یہ کبھی ریلیز ہو سکے گی۔‘

ٹریہان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ فلم کو سینیما گھروں میں لانا چاہتے تھے، لیکن ’رکاوٹیں بڑھتی ہی چلی گئیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق: ’یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا: یہ کاٹو، وہ حذف کرو، اس حصے کو بدل دو۔ سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ تھی کہ مجھے کبھی کوئی معقول اور منطقی وجہ نہیں بتائی گئی کہ آخر یہ کٹوتیاں کیوں مانگی جا رہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سی بی ایف سی کے ساتھ آخری بامعنی رابطہ دسمبر 2024 کے قریب ہوا تھا، جس کے بعد ان کے بقول ’مکمل خاموشی‘ چھا گئی۔

دی انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے سی بی ایف سی اور زی فائیو سے رابطہ کیا ہے۔

سابق بینک ملازم جسونت سنگھ خالصہ نے کئی برس تک بلدیاتی ریکارڈز کا جائزہ لیا اور ان کا دعویٰ تھا کہ ان ریکارڈز سے پنجاب پولیس کی انسداد شورش کارروائیوں سے منسلک 25 ہزار سے زائد غیر قانونی آخری رسومات کا سراغ ملتا ہے۔

6 ستمبر 1995 کو خالصہ کو امرتسر میں ان کے گھر کے باہر سے اغوا کر لیا گیا۔ بعد کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ انہیں پولیس اہلکاروں نے اغوا اور قتل کیا تھا۔

2005 میں پنجاب پولیس کے چھ سابق اہلکار خالصہ کے اغوا اور قتل کے جرم میں مجرم قرار دیے گئے۔ 2007 میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے ان میں سے چار افراد کی سزائیں بڑھا کر عمر قید کر دیں۔ سپریم کورٹ نے 2011 میں ان سزاؤں کو برقرار رکھا۔

سی بی ایف سی کی جانب سے طلب کی گئی کٹس قبول کرنے کے بجائے فلم سازوں نے فلم کو بغیر کسی تبدیلی کے سٹریمنگ پر ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ ریلیز سے قبل Variety سے گفتگو کرتے ہوئے ٹریہان نے کہا: ’یہ مکمل فلم ہے، بغیر کسی کٹوتی یا سمجھوتے کے، بالکل اسی شکل میں جیسی ہم ہمیشہ سے پیش کرنا چاہتے تھے۔‘

فلم کے ہٹائے جانے سے پہلے ہی دلجیت دوسانجھ کو شاید اس کے انجام کا اندازہ تھا۔ ہفتے کے روز انسٹاگرام لائیو کے دوران انہوں نے ناظرین کو مشورہ دیا تھا کہ جب تک فلم دستیاب ہے اسے ڈاؤن لوڈ کر لیں۔

انہوں نے کہا: ’مجھے لگا تھا کہ پیر تک یہ ہٹا دی جائے گی۔ لیکن کوئی بات نہیں، آپ اسے ڈاؤن لوڈ کر لیں۔‘

فلم ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ان کے لیے کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی۔

ان کے مطابق: ’میں سمجھتا تھا کہ پیر کو دفاتر کھلنے کے بعد ’ستلج‘ ہٹا دی جائے گی، لیکن مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ اتوار کو ہی ہو جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ فلم غائب ہونے سے پہلے ناظرین تک پہنچ گئی۔

’بہت سے لوگوں نے اسے پہلے ہی ڈاؤن لوڈ کر لیا ہے۔ ایک بار کوئی چیز آن لائن آ جائے تو وہ کبھی مکمل طور پر حذف نہیں ہوتی،‘ انہوں نے کہا اور ناظرین کو فلم دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کی ترغیب دی۔

فلم ہٹائے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ’ستلج‘ کی غیر قانونی نقول انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگیں اور صارفین مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈاؤن لوڈ لنکس شیئر کرنے لگے۔

پنجاب میں حکمران عام آدمی پارٹی، حزب اختلاف کی کانگریس اور شیرو مانی اکالی دل کے رہنماؤں نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ فلم ریاست کے ایک تاریک ترین دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق دستاویزی الزامات کو پیش کرتی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے ترجمان کلدیپ سنگھ ڈھالیوال نے کہا کہ فلم ’سکھ برادری کی آواز کو اجاگر کرتی ہے‘ اور ’اس دور کے درد کو بیان کرتی ہے۔‘ انہوں نے سوال کیا کہ اسے سینیما گھروں میں ریلیز کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں پارٹی کے رکن پارلیمان ملوندر سنگھ کنگ نے اس فیصلے کو ’انتہائی حیران کن‘ قرار دیا۔ انہوں نے لکھا: ’جب ایک قوم اپنی ہی تاریخ سے خوفزدہ ہونے لگے تو سنسرشپ اس کا سب سے خطرناک ہتھیار بن جاتی ہے۔‘

کانگریس کے رکن اسمبلی سکھپال سنگھ کھیرا نے کہا کہ فلم ’انسانی حقوق کے سنگین مسائل‘ سے متعلق ہے جن کا جائزہ سپریم کورٹ بھی لے چکی ہے، جبکہ اکالی دل کے بکرم سنگھ ماجیتھیا نے ایکس پر لکھا: ’تاریخ پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم