مصنوعی ذہانت کو خلا میں بھیجنے کا منصوبہ، جو خطرناک ہو سکتا ہے

خلا میں اے آئی بھیجنا ٹیکنالوجی کے موجودہ چیلنجز کا راستہ تو کھول سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ نئے خطرات بھی جنم لیتے ہیں۔

چین کے شمال مغربی علاقے میں گوبی صحرا میں واقع جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے 31 اکتوبر، 2025 کو لانگ مارچ-2F کیریئر راکٹ شینژو-21 اسپیس کرافٹ اور تین خلا نوردوں کے عملے کے ساتھ پرواز کر گیا (اے ایف پی)

مصنوعی ذہانت اکثر تجریدی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے سب سے بڑے مسائل بالکل عملی اور مادی ہیں۔

یہ سوال کہ اتنی بڑی تعداد میں کمپیوٹر چپس کیسے بنائی جائیں جو درکار کام سرانجام دے سکیں، انہیں بنایا جائے تو کہاں رکھا جائے اور انہیں چلانے اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے توانائی کا انتظام کیسے کیا جائے؟

یہ سب وہ مسائل ہیں جن کا جواب تلاش کرنا مشکل رہا ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید انہوں نے ان سوالات کا جواب ڈھونڈ لیا ہے، اور وہ ہے خلا۔

بظاہر وہاں جگہ کی کمی نہیں۔ توانائی بھی بہت ہے کیونکہ سورج ہمیشہ چمکتا ہے اور چپس کو ٹھنڈا کرنے کے بھی کئی طریقے موجود ہیں۔

یوں یہ ممکن ہے کہ ہمارا اے آئی پر مبنی مستقبل جن آلات کا تقاضا کرتا ہے، انہیں رکھنے کے لیے خلا ہی وہ نئی جگہ ہو جس کی ہمیں تلاش ہے۔

لیکن خلا کے اپنے مسائل بھی ہیں۔ وہاں پہنچنا مشکل ہے۔ اور خلا کے نچلے مدار کے مواقع کو استعمال کرنے کی ہماری دوڑ، صرف اے آئی کے لیے نہیں بلکہ انٹرنیٹ کمیونیکیشن کے لیے بھی، جیسے ایلون مسک کا سپیس ایکس کے تحت چلایا جانے والا سٹارلنک، کا مطلب ہے کہ ہم بالکل نئی نوعیت کے خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اسی ماہ کے آغاز میں این ویڈیا نے اعلان کیا کہ وہ ’سپیس کمپیوٹنگ‘ یعنی خلائی کمپیوٹنگ کا آغاز کر رہا ہے۔ یہ ایک نیا منصوبہ ہے جس کے تحت اے آئی کو مدار میں بھیجا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے اس نے ’سپیس-1 ویرا روبن ماڈیول‘ تیار کیا ہے۔ ایسا ہارڈویئر جو خاص طور پر خلا کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ وہ آلات ہیں جو ’آربیٹل ڈیٹا سینٹر‘ یعنی ODC پر کام کریں گے، جو بنیادی طور پر زمین پر موجود بڑے ڈیٹا مراکز ہی کی خلائی شکل ہے۔

این ویڈیا کے بانی اور سی ای او جینسن ہوانگ نے بیان میں کہا ’سپیس کمپیوٹنگ، ٹیکنالوجی کی آخری سرحد، اب آ چکی ہے۔ جیسے جیسے ہم سیٹلائٹ کونسٹیلیشن تعینات کرتے ہیں اور مزید گہری خلا میں جاتے ہیں، ذہانت کو وہیں ہونا چاہیے جہاں ڈیٹا پیدا ہوتا ہے۔‘

اس منصوبے کا کچھ حصہ نسبتاً سادہ کاموں کے لیے ہے یعنی خلا میں خودکار نظاموں کے طور پر اے آئی کا استعمال۔

سیٹلائٹس کو خودمختار بنانے سے وہ زیادہ تیزی سے عمل کر سکیں گے اور زمین پر انجینیئرز کی کم رہنمائی کی ضرورت ہو گی۔

اس سے مراد یہ بھی ہے کہ زمین کی تصویریں لینے والے سیٹلائٹس اپنے حاصل کردہ ڈیٹا کو خود ہی پراسیس کر سکیں گے اور انہیں ہر وقت زمین سے رابطے کی ضرورت نہیں رہے گی، جو اکثر سست یا غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور وہ اپنے ڈیٹا پر حقیقی وقت میں کام کر سکیں گے۔

این ویڈیا نے ایسے کئی طریقے بیان کیے ہیں جن سے یہ سب فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ مثلاً جنگلاتی آگ یا تیل کے رساؤ جیسی آفات کو فوری طور پر شناخت کر کے بہتر ردعمل دینا، موسم کی زیادہ درست پیش گوئی کیونکہ سیٹلائٹ خود ہی ڈیٹا پراسیس کر سکیں گے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس جیسے اہم ڈھانچے کی نگرانی خلا سے بہتر انداز میں کرنا۔

زیادہ ذہین سیٹلائٹس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی سمیت کئی ادارے ایسے منصوبوں کی فنڈنگ کر رہے ہیں جن کے تحت سیٹلائٹس میں اے آئی شامل کی جائے تاکہ وہ تصاویر کی کوالٹی بڑھا سکیں اور خلا میں اپنی سمت اور حرکت پر بہتر قابو پا سکیں۔

لیکن خلا میں ہونے والا یہ سارا کام صرف خلا کے لیے نہیں۔ جو لوگ اے آئی کو خلا میں بھیج رہے ہیں، ان کی امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایک دن زمین پر رہنے والے انسانوں کے لیے بھی کارآمد ہوگی۔

یہی منصوبہ ایلون مسک بھی پیش کر رہے ہیں، جنہوں نے سپیس ایکس کی مدد سے ODCs کو خلا میں بھیجنے اور انہیں اپنی کمپنی xAI کے منصوبوں کو چلانے کے لیے استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

یہ دونوں آپریشن حال ہی میں ایک کمپنی کے تحت ضم کیے گئے ہیں۔ مسک کے تجویز کردہ سیٹلائٹس بہت بڑے ہیں۔

اس ماہ انہوں نے ایسے ڈیٹا مراکز کے نقشے دکھائے جو اتنے بڑے ہوں گے کہ ان کی لمبائی سپیس ایکس کے سٹارشپ راکٹ (125 میٹر) سے بھی زیادہ ہوگی۔

ان کا زیادہ تر حجم بڑے شمسی پینلز پر مشتمل ہوگا جو انہیں توانائی فراہم کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسک نے انہیں ’منی‘ ورژن قرار دیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سے بھی بڑے ڈھانچے ممکن ہیں۔

اگرچہ مسک سائنس فکشن جیسے منصوبوں کے وعدے کرنے کی تاریخ رکھتے ہیں جو اکثر مقررہ وقت پر پورے نہیں ہوتے، لیکن انہوں نے اس بار کہا کہ وہ ’یقین رکھتے ہیں کہ یہ قابل عمل ہے۔‘

ان کے مطابق اس کے لیے ’نئی فزکس یا ناممکن چیزوں کی ضرورت نہیں۔‘ لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ خلا میں اتنی جگہ باقی نہیں رہی جتنی ہم سمجھتے ہیں۔

ماہرین پہلے ہی نچلے مدار میں موجود بے تحاشہ اشیا اور سیٹلائٹس کے ٹکرانے کے خطرے پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں، جو آسمان کے نظاروں کو بھی دھندلا کر رہے ہیں۔

ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ’سپیس ٹریفک مینیجمنٹ‘ کی پوری صنعت وجود میں آ چکی ہے۔

اگر یہ سب غلط ہو گیا تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ 1978 میں ناسا کے سائنس دانوں نے کیسلر سنڈروم تجویز کیا تھا، ایک ایسا منظرنامہ جس میں خلا میں اتنی زیادہ اشیا موجود ہوتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر ملبے کا ایسا سلسلہ شروع کر دیتی ہیں جو زمین کے اردگرد کے مدار کو بھر دیتا ہے۔

اس سے نہ صرف موجودہ سیٹلائٹس تباہ ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں نئے سیٹلائٹس یا انسان بردار مشن بھی محفوظ طریقے سے لانچ نہیں کیے جا سکیں گے۔

سیٹلائٹس کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ اس خدشے کو پہلے سے زیادہ حقیقت کے قریب لے آیا ہے اور صورتحال اس وقت مزید بدتر ہو رہی ہے جب نجی کمپنیاں بھی بڑی تعداد میں خلا پر قبضہ کرنے کی دوڑ میں شامل ہو رہی ہیں۔

آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ خلا اتنی بڑی نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں لیکن یہ حقیقت اس صنعت کو نہیں روک رہی جو اپنے کمپیوٹر رکھنے کے لیے نئی جگہوں کی تلاش میں ہے اور انہیں چلانے اور ٹھنڈا رکھنے کے نئے طریقوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔

اے آئی اب مدار کی طرف جا رہی ہے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی