ایلون مسک کی دو کمپنیاں مبینہ طور پر ممکنہ انضمام کا جائزہ لے رہی ہیں، جس کے تحت ان کی راکٹ کمپنی سپیس ایکس ان کے مصنوعی ذہانت کے سٹارٹ اپ ’ایکس اے آئی‘ میں ضم ہو سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو ریگولیٹری دستاویزات دیکھی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق، جون میں شیئرز کی عوامی فروخت کے منصوبے سے قبل انضمام کے معاہدے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
یہ مشترکہ کمپنی سپیس ایکس کے دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں، سٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس، ایکس پلیٹ فارم اور اے آئی چیٹ بوٹ گراک کو یکجا کر دے گی۔ اس سے مسک کا خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز بنانے کا خواب بھی پورا ہو سکتا ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دو سے تین سال میں ممکن ہو جائے گا۔
گذشتہ ہفتے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ خلا میں موجود اے آئی، زمینی نظام کے مقابلے میں کہیں زیادہ کارآمد ہو گی۔
انہوں نے کہا: ’جب آپ خلا میں شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں تو آپ کو زمین پر شمسی توانائی کے مقابلے میں اس جئ پانچ گنا زیادہ افادیت ملتی ہے۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔
’وہاں ہمیشہ دھوپ رہتی ہے، اس لیے وہاں دن رات کا چکر یا موسموں کی تبدیلی نہیں ہوتی اور آپ کو خلا میں تقریباً 30 فیصد زیادہ توانائی ملتی ہے کیوں کہ وہاں فضا کی وجہ سے توانائی میں کمی نہیں آتی۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی سولر پینل زمین کے مقابلے میں خلا میں پانچ گنا زیادہ توانائی پیدا کرے گا۔‘
خلا میں ڈیٹا سینٹرز بنانا ایک پرخطر کام ہے کیوں کہ اے آئی تیزی سے اور غیر متوقع طور پر ترقی کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں اور بااختیار شخصیات نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا توانائی کی کھپت کے بارے میں سوچی گئی کمی خلا کے لیے نظام تیار کرنے کی لاگت کے قابل ہے بھی یا نہیں۔
سپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ، دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹیسلا، سرنگیں بنانے والی کمپنی ’دی بورنگ کمپنی‘ اور نیورو ٹیکنالوجی فرم ’نیورالنک‘ بھی چلا رہے ہیں۔
بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ سپیس ایکس مسک کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے ساتھ انضمام پر بھی غور کر رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایکس اے آئی کے سرمایہ کار ’ڈیپ واٹر ایسیٹ مینیجمنٹ‘ کے مینیجنگ پارٹنر اور ٹیسلا کے شیئر ہولڈر جین مونسٹر نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ (ایکس اے آئی) دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کے ساتھ مل جائے گی۔‘
’ایلون کے لیے اہم بات یہ ہے کہ ان کی سوچ بہت وسیع اور مستقبل پر مبنی ہو جس میں وہ سب سے آگے ہوں۔‘
پیش گوئیوں کے مرکز ’پولی مارکیٹ‘ نے جمعرات کو دیر گئے سال کے وسط تک سپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے انضمام کے امکان کو 48 فیصد اور ٹیسلا اور ایکس اے آئی کے انضمام کے امکان کو 16 فیصد ظاہر کیا۔
ایلون مسک، سپیس ایکس، ایکس اے آئی اور ٹیسلا نے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ کاروباری اوقات کے بعد کی تجارت میں ٹیسلا کے حصص کی قیمت میں تین فیصد اضافہ ہوا۔
اس سال کے آخر میں سپیس ایکس کی ابتدائی عوامی پیشکش غالباً تاریخ کی سب سے بڑی پیشکش ہو گی، جس کی ممکنہ مالیت 10 کھرب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
رپورٹ کی تیاری میں خبر رساں اداروں سے اضافی مدد لی گئی ہے۔
© The Independent