آشا بھوسلے، آر ڈی برمن اور ایک بے نام رشتے کی زندگی

ہر ختم ہوتا پہلو، ہر بڑھتے سفید بال کی طرح ہوتا ہے، فرق ہے تو بس یہ کہ ایک چیز آئینہ یاد دلاتا ہے اور ایک وقت، بے رحم یہ دونوں ہوتے ہیں، ظالم قسم کے!

’انسانی زندگی کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ انسان کو گزرتی عمر کا تب پتہ چلتا ہے جب ان میں سے کچھ پہلو بند ہو جاتے ہیں۔ پنچم میری زندگی کا ایسا ہی ایک پہلو تھے۔ ان کے ساتھ میرا کیا رشتہ تھا، یہ میں نہیں جانتی یا شاید، میں اسے کوئی نام نہیں دے سکتی۔‘

گاڑی میں پانچ سال سے ایک ہی چلتی پلے لسٹ میں یہ بات تقریباً ہر دس دن بعد آشا بوسلے کرتی ہیں، ہر بار ایک لمبی سانس لے کر آگے والا گانا سننا شروع کر دیتا ہوں۔

ہر ختم ہوتا پہلو، ہر بڑھتے سفید بال کی طرح ہوتا ہے، فرق ہے تو بس یہ کہ ایک چیز آئینہ یاد دلاتا ہے اور ایک وقت، بے رحم یہ دونوں ہوتے ہیں، ظالم قسم کے!

زندگی میں کتنی ایسی چیزیں ہیں جنہیں ہم کوئی نام نہیں دے سکتے۔ کتنے ایسے رشتے ہیں جو ہم خود بناتے ہیں، جن کے لیے کوئی خانہ ہے نہ کوئی لیبل۔ وہ بس ہوتے ہیں۔

یہ کتنی بڑی بات تھی اور کیسی سہولت سے وہ کہہ گئیں حالانکہ آر ڈی برمن ان کے شوہر بھی رہے 14 سال، علیحدگی ہوئی لیکن تعلق برقرار رہا ۔۔۔ تعلق جسے آشا کوئی نام نہیں دے سکیں۔۔۔ پہلو یا کہہ لیجے کہ دروازہ، جب بند ہوا تو انہیں لگا کہ عمر اب واقعی گزری ہے۔

علیحدگی کے بعد آشا نے کئی انٹرویوز میں کہا کہ پنچم ہی انہیں پوری طرح سمجھ سکے تھے، بحیثیت گلوکارہ ان کی مکمل رینج اور بحیثیت ایک عورت ان کا پورا مزاج بھی۔ کیسا ساتھ تھا جو پرفیکٹ ہونے کے باوجود بھی ہمیشہ نہ رہ پایا اور جب نہ رہا تو گویا ایک دروازہ ہی بند ہو گیا!

تو یہ شاید وہی کھلے دروازے ہیں جو ہم سب کی زندگی میں رہتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ بند ہونے لگتے ہیں۔ تب ہمیں اچانک رئیلائز ہونا شروع ہوتا ہے کہ نہیں یار، غلطی اپنی بھی تھی۔ غلطی اپنی سوچ کی تھی۔ غلطی اپنی جوانی کی تھی، غلطی اس احساس کی تھی جو ہمیں بغیر تجربہ کیے ٹھوکر کھانے کا حوصلہ دیتا تھا۔

حوصلہ کمبخت کبھی نہیں مرتا۔ حوصلہ بعد میں بھی جوان رہتا ہے۔ انسان خود کو اتنا طاقتور سمجھتا ہے کہ وہ کسی بھی عمر میں نئے سرے سے ٹھوکر کھانے کے لیے تیار رہتا ہے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ جو رشتے ہیں، وہ جو لوگ ہیں، وہ جو دروازے ہیں، ان کے بند ہونے کے بعد ہی ان کی قدر کیوں آتی ہے؟ یہ سمجھ بعد ہی میں کیوں آتی ہے کہ فلاں فیصلہ، فیصلہ نہیں تھا، ٹھوکر تھی!

شاید اس لیے کہ آشا اگر مزید پنچم کے ساتھ رہ لیتیں تو یہ احساس، یہ قدر ختم ہو جاتی ۔۔۔ شاید یہ عزت تھی جو ان دونوں نے اپنے رشتے کو دی، یا شاید قربانی تھی جو دونوں کے حصے میں زبردستی آ گئی۔

تو ایسے ہی کبھی میں ہوں گا، کبھی آپ ہوں گے۔ جب ہم نہیں ہوں گے تو ہماری زندگی کتنے لوگوں کے لیے ایک پہلو کا درجہ رکھتی ہو گی؟ اور وہ پہلو جب بند ہو جائے گا۔ تب شاید کوئی گاڑی میں بیٹھا، کوئی پرانا گانا سنتا، یہی سوچ رہا ہو گا کہ یارعمر گزر گئی، وہ بے نام پہلو کیسا اہم تھا ۔۔۔ یا نہیں تھا ۔۔۔ لیکن خیر، ہو گا، ایسا ہوتا ضرور ہے۔ ہم سب کی زندگی کے ایسے پہلو ہوتے ہیں، سب کچھ بلیک اینڈ وائٹ تو کبھی تھا، نہ ہو گا۔

شیکسپیئر کئی طرح سے خاتم تھا، کلام الملوک ملوک الکلام قسم کی بات کروا دی سکاٹ لینڈ کے بادشاہ میکبتھ سے، ادھر باغی گروہ اس کے قلعے کا محاصرہ کرنے آ رہے ہیں، اُدھر ایک قریبی موت کی دکھ بھری خبر ملتی ہے اور وہ خود کلامی کرتا ہے؛

Out, out, brief candle
Life’s but a walking shadow, a poor player
That struts and frets his hour upon the stage
And then is heard no more. It is a tale
Told by an idiot, full of sound and fury
Signifying nothing.

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بجھ جا اے حقیر شمع! (اصل میں وہ زندگی سے مخاطب ہے)
زندگی بس ایک چلتا پھرتا سایہ ہے
ایک سستا اداکار
جو سٹیج پر گھڑی بھر اکڑتا ہے، جھنجھلاتا ہے
اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔
یہ ایسی کہانی ہے
جسے ایک احمق سناتا ہے
شور و غل سے بھری ہوئی
مگر معنی سے یکسر خالی۔

آشا، پنچم، ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے، اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے ۔۔۔ زندگی ہے یہ، ہوتا ہے، چلتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ