اریجیت سنگھ: گرو یہ کیا کیا اور کیوں کیا؟

اریجیت سنگھ کے بارے میں انڈسٹری میں یہ بات معروف تھی کہ وہ جلد ہی پلے بیک گلوکاری سے الگ ہو جائیں گے۔ بہت سے کمپوزر شکوہ کرتے تھے کہ اریجیت سنگھ غائب ہو جاتے ہیں، کئی کئی دن فون نمبر بند رہتا  ہے۔ مشکل سے ہاتھ آتے ہیں۔

انڈین پلے بیک سنگر اریجیت سنگھ 14 اکتوبر 2023 کو احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کے ون ڈے میچ کے آغاز سے قبل پرفارم کرتے ہوئے (پنیت پرانجپے / اے ایف پی)

دنیا میں کروڑوں نوجوان اریجیت سنگھ بننا چاہتے ہیں، مگر اریجیت سنگھ خود کیا بننا چاہتے ہیں؟

38 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا اعلان، بھئی 1969 میں جب کشور کمار نمبر ون پلے سنگر بنے تو وہ 40 برس کے تھے۔ آپ 38 سال کی عمر میں ہی کہہ رہے ہیں، ’اچھا چلتا ہوں دعاؤں میں یاد رکھنا!‘  گرو یہ کیا کیا؟

اریجیت سنگھ کے بارے میں انڈسٹری میں یہ بات معروف تھی کہ وہ جلد ہی پلے بیک گلوکاری سے الگ ہو جائیں گے۔ بہت سے کمپوزر شکوہ کرتے تھے کہ اریجیت سنگھ غائب ہو جاتے ہیں، کئی کئی دن فون نمبر بند رہتا  ہے۔ مشکل سے ہاتھ آتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے ایک وجہ ’اکتاہٹ‘ کو قرار دیا۔

ایکس پر اپنی پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں: ’اس کی ایک وجہ بالکل سیدھی ہے: میں جلدی اکتا جاتا ہوں، اسی لیے میں اکثر اپنے گانوں کی ترتیب بدل دیتا ہوں اور انہیں لائیو پرفارمنس میں مختلف انداز میں پیش کرتا ہوں۔ تو سچ یہ ہے کہ میں تھک چکا ہوں۔ مجھے خود کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف طرح کی موسیقی دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔‘

 کم از کم تیرہ چودہ برس سے بالی وڈ میں پلے بیک سنگنگ کا مطلب ہی اریجیت سنگھ تھا۔ ان کے بعد نمبر ٹو موہت چوہان ہیں، جو دراصل نمبر ٹین ہیں۔ موہت چوہان کو اگر اے آر رحمان نے راک سٹار، دہلی سیکس اور امر سنگھ چمکیلا جیسی فلمیں نہ دی ہوتیں تو وہ 2009 میں ہی غروب ہو جاتے۔

عاشقی ٹو (2013) کے بعد اریجیت سنگھ نے پلے بیک سنگنگ میں راج کیا، ویسا راج جیسا رفیع نے پچاس، ساٹھ اور کشور نے ستر، اسی کی دہائی میں کیا، یا شاید اس سے بھی بڑھ کر۔

رفیع کو پچاس کی دہائی میں طلعت اور مکیش سے مقابلہ کرنا پڑا۔ کامیابی درجہ بدرجہ ملی۔ پھر بھی ان کے سامنے لتا منگیشکر تھیں۔ ساٹھ کی دہائی میں وہ نمبر ون تھے، مگر لتا کے ساتھ۔

آرادھنا کے بعد بس کشور کمار ہی کشور کمار تھے۔ لتا بھی ان کے سامنے پھیکی پڑ گئیں، مرد گلوکار تو بہت پیچھے رہ گئے۔

 اریجیت سنگھ دور حاضر کے کشور کمار سمجھ لیجیے۔ ستر اور اسی کی دہائی میں کتنی خوبصورت نئی آوازیں آئیں، مگر وہیں کی وہیں رہ گئیں۔ کشور کی رخصتی کے بعد نوے کی دہائی میں کمار سانو اور ادت نارائن کا نزولِ فضول ہوا۔

اریجیت سنگھ کے ہوتے ہوئے کئی نوجوان گلوکار آئے، مگر حال وہی ہوا جو ستر کی دہائی میں بھوپندر سنگھ اور شلیندر کا ہوا۔ گنجائش ہی نہیں، اریجیت اور کشور نے اتنا خلا بھی نہیں چھوڑا کہ نئے گلوکار کی آواز گونج بن سکے۔

کیا کوئی کسی فیلڈ میں مسلسل نمبر ون رہنے سے بھی اکتاہٹ کا شکار ہو سکتا ہے؟ جی ہاں، جیسے اریجیت سنگھ ہوئے، جیسے کشور کمار ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

23 برس کی مسلسل جدوجہد کے بعد کشور کمار کو فلم انڈسٹری نے بطور پلے بیک گلوکار قبول کیا، آندھی کی طرح چھانے کی دیر تھی کہ وہ اکتانے لگے۔ اسی کی دہائی میں وہ اکثر کہتے کہ کیا ایک ہی طرح کے گیت، ایک جیسی زندگی، ایک جیسے لوگ ہیں۔ جی چاہتا ہے سب کچھ تیاگ کر کھنڈوا جا رہوں۔

اریجیت سنگھ واپس اپنے گاؤں مرشد آباد نہیں جانا چاہتے، وہ پلے بیک سنگنگ سے اکتا چکے ہیں لیکن کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں۔ ممکنہ طور پر وہ کسی فلم کی ڈائریکشن کریں گے یا بطور موسیقار کام کریں گے۔ فلموں کی ڈائریکشن لیکن اریجیت سنگھ کا نوالہ نہیں۔

پچاس کی دہائی میں طلعت محمود اور مکیش نے پلے بیک سنگنگ سے بریک لیا تھا۔ دونوں دلیپ کمار بننا چاہتے تھے۔ واپس پلٹے تو جو چھوڑ کر گئے تھے، وہ رفیع سنبھال چلے تھے۔

اریجیت سنگھ اگر بطور موسیقار قسمت آزمائی کرتے ہیں تو یہ راستہ ان کے لیے اجنبی نہ ہو گا۔ سٹار بننے سے پہلے وہ کئی سال اپنے گرو پریتم کے ساتھ بطور اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر کام کرتے رہے ہیں۔

اریجیت کے پرستار کتنے ہی دل شکستہ کیوں نہ ہوں، انڈسٹری میں اپنے جگہ بنانے کے لیے بے چین نئے گلوکار ضرور خوش ہوں گے۔ اس بات کا ادراک اریجیت کو بھی ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے نیا ٹیلنٹ راستہ نہیں بنا پا رہا۔

اپنی پوسٹ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: ’ایک اور وجہ یہ ہے کہ میں نئے گلوکاروں کو سننے کا خواہش مند ہوں جو مجھے واقعی متاثر اور متحرک کر سکیں۔‘

بلاشبہ اے آر رحمان کے علاوہ وہ ہر میوزک ڈائریکٹر کا پہلا انتخاب تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں فہیم عبداللہ جیسے کتنے نوجوان اپنی وراثت تخلیق کر سکیں گے۔ مگر کیا کوئی مقبولیت میں انہیں پیچھے چھوڑ سکتا ہے؟

صرف انڈیا ہی نہیں عالمی سطح پر فالورز کی تعداد کے اعتبار سے وہ ایک لیجینڈری سنگر ہیں۔ گذشتہ برس انہوں نے سٹریمنگ پلیٹ فارم سپاٹی فائی پر ٹیلر سوئفٹ اور ایڈ شیئرن جیسے عالمی پاپ سٹارز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے فنکار کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

مختصر عرصے میں آٹھ فلم فئیر ایوارڈز جیت کر وہ کشور کمار کے ساتھ نمبر ون پوزیشن پر فائز ہیں، فالورز کی تعداد کروڑوں میں، دولت، شہرت اور عزت کی دیوی ان پر مہربان۔ مگر وہ کسی نئے راستے پر نیا سنگ میل طے کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

اتنی جرات ہم میں سے کتنے لوگ کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ کہتے ہیں، دنیا ہمت کرنے والے بہادر لوگوں کے راستے سے کانٹے چنتی اور پھول نچھاور کرتی ہے۔ دیکھتے ہیں نیا راستہ اریجیت سنگھ کے لیے کتنا خوش قسمت ثابت کرتا ہے۔ ورنہ پلے بیک سنگنگ تو ان کے گھر کی لونڈی ہے ہی، جب چاہیں پٹکا دیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ