پاکستانی موسیقی کی دنیا میں ’پاکستان آئیڈل‘ نے خاصی ہلچل مچا رکھی ہے۔ گذشتہ برس کے وسط میں جب اس کے آڈیشنز شروع ہوئے تو ملک بھر میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔
پاکستان آئیڈل کا پہلا سیزن 2013 میں نشر ہوا۔ طویل وقفے کے بعد 2025 کے وسط میں اس کا دوسرا سیزن شروع ہوا، جس میں پورے ملک سے گانے کے شوقین افراد مختلف طرز کے گانے پیش کر کے موسیقی کی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دسمبر 2025 تک شو جاری رہا لیکن پھر تقریباً دو ہفتے تک پروگرام کی نئی اقساط نشر نہیں ہوئیں، جس پر سوشل میڈیا پر خاصا شور مچا۔ جب جنوری 2026 میں شو کی ریکارڈنگ دوبارہ شروع ہوئی تو انڈپینڈنٹ اردو نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان آئیڈل کے سیٹ پر جا کر ججز سے شو کے بارے میں بات کی اور اس وقفے کے بعد واپسی سے متعلق سوالات بھی کیے۔
پاکستان آئیڈل کے ججز میں شامل استاد راحت فتح علی خان نے کہا کہ وقفے کے بعد مقابلے میں شریک افراد پہلے سے زیادہ پراعتماد نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اب الیمینیشن راؤنڈ شروع ہو چکا ہے، جس میں کچھ لوگوں کو جانا ہوگا، مگر یہ مقابلے کا لازمی حصہ ہے۔
راحت فتح علی خان کے مطابق: ’اس شو کی ہر چیز مثبت ہے اور پاکستان کی مٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس عمل سے نکلنے والے گلوکار قوالی، پاپ، راک، غزل اور فوک سمیت مختلف اصناف میں خود کو آزما چکے ہوں گے۔‘
شو کے دوسرے جج فواد خان، جنہوں نے اپنے کیریئر کی ابتدا گلوکاری سے کی تھی، کہتے ہیں کہ جب مقابلے کے شرکا نروس ہوتے ہیں تو انہیں اپنا وقت یاد آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق: ’آج مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ ان گلوکاروں میں وہی بچپنا اور خلوص موجود ہے جو ایک فن کار میں ہونا چاہیے۔ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں اور تعاون بھی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فواد خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مقابلہ ہے، ایک کپ ہے، کوئی ایک جیتے گا اور باقی نہیں جیت پائیں گے، مگر ہر کوئی اپنی جگہ چیمپیئن ہے۔
دو ہفتے کے وقفے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واپسی ایک اچھا عمل ہے، کیوں کہ لوگ پریشان ہو گئے تھے۔ پاکستان میں ایسے پلیٹ فارم کم ہیں، یہ ایک طرح کا جشن ہے، اس لیے جب اس میں رکاوٹ آتی ہے تو لوگ ردعمل دیتے ہیں۔
انہوں نے خود گلوکاری میں واپسی کا ارادہ تو ظاہر نہیں کیا، تاہم کہا کہ یہ نئے گلوکار انہیں متاثر کرتے ہیں۔
معروف گلوکارہ زیب بنگش نے کہا کہ دو ہفتے کی غیر حاضری پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا، جو ایک طرح سے خوش آئند بھی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کو پاکستان آئیڈل سے لگاؤ ہے، کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی پروڈکشن کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
شو کے جج گلوکار بلال مقصود نے کہا کہ دو ہفتے تک انہیں لوگوں کی کافی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا، مگر اب شو واپس آ چکا ہے۔ ان کے مطابق: ’مقابلے میں شریک بچوں سے ایک خاص اپنائیت پیدا ہو گئی ہے اور یہ بچے پاکستان کا فخر ہیں۔‘
بلال مقصود کا کہنا تھا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کون رہے گا اور کون جائے گا، مگر جیت اور ہار سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ گلوکار آگے چل کر بہت سے لوگوں کے لیے مقابلہ سخت کر دیں گے۔
شو کے میزبان شفاعت علی نے کہا کہ ابتدا میں انہیں اس شو کی میزبانی بہت آسان محسوس ہوئی، مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ اتنا آسان کام نہیں۔ دو ہفتے کی غیر حاضری پر انہوں نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ ’شادیوں کے معاملات تھے، پھوپھی اور چچی کو منانے میں لگے رہے، شکر ہے سب مان گئے، مگر اس دوران پاکستان کے لوگ ناراض ہو گئے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس دوران ان کے اِن باکس میں شدید جذباتی پیغامات آئے، یہاں تک کہ ایک سٹوری ڈالنے پر بھی کہا گیا کہ جب شو نہیں دکھا رہے تو اسٹوری کیوں ڈال رہے ہو، گویا ان کے ’سٹوری سیکشن میں واردات‘ ہو رہی تھی۔
شفاعت علی نے بتایا کہ دو ہفتے کے دوران سیٹ بند رہا، مٹی جم گئی تھی، جسے صاف کر کے دوبارہ کام شروع کیا گیا۔
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ میزبانی کے دوران وہ اپنا ’ہلکا پھلکا رنگ‘ دکھاتے ہیں، جیسے اجینوموتو، مگر پورا نمک نہیں ڈالتے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ کچھ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو پاکستان ٹی وی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔
بقول شفاعت: ’ایک بڑا سرپرائز آنے والا ہے اور یہ شو آگے جا کر مزید بڑا ہو جائے گا۔‘