لاہور کے لنڈا بازار میں استعمال شدہ کپڑے فروخت کرنے والے ’ٹونی ٹین‘ ریپ گانے گا کر منفرد انداز میں کپڑے فروخت کرتے ہیں اور چھوٹی سی ریڑھی سے اب بڑے کاروبار تک پہنچ گئے ہیں۔
دنیا بھر کے ہر شعبے میں منفرد انداز سے کامیاب ہونے والی کئی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے کئی کردار ہیں جو اپنے کام کو مختلف انداز سے فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ سال قبل ’ون پاؤنڈ فش‘ کے نام سے منفرد آواز سے مچھلی فروخت کرنے والے پتوکی کے شاہد نذیر اور ’لال اے لال‘ کا گانا بنا کر تربوز فروخت کرنے والے ساہیوال کے ایک تاجربھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکے ہیں۔
لاہور میں حاجی کیمپ کے لنڈے بازار میں لنڈے کے کپڑے فروخت کرنے والے غلام عباس المعروف ٹونی ٹین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’میں نے لنڈے کے کپڑے ریڑھی سے فروخت کرنا شروع کیے، اب کاروبار بہت پھیل چکا ہے۔ ریپ سنگر بننے کا شوق تھا لیکن لنڈے کا کام کرنا پڑا، لہٰذا میں نے اپنے ٹیلنٹ کو کاروبار چلانے کے لیے استعمال کیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’اب باقاعدہ گانے خود لکھ کر گاتا ہوں۔ دیگر ساتھیوں کی مدد سے ریپ سونگ بھی ریکارڈ کرواتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی وجہ سے لنڈے کا کاروبار بھی زیادہ چل رہا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹونی ٹین کے بقول: ’لنڈے سے غریب نہیں بلکہ امیر لوگ زیادہ خریداری کرتے ہیں، لہذا عام آدمی کو بھی ہچکچانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہاں سے بھی خرید کر ہی پہنا یا استعمال کیا جاتا ہے۔
’ہم ہر برانڈ کے کپڑے فروخت کرتے ہیں۔ جو کوٹ پینٹ یا شرٹس 50، 50 ہزار میں فروخت کی جاتی ہیں، ہم وہ دو تین ہزار میں فراہم کر دیتے ہیں، اسی لیے لنڈے میں خریداری کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔‘
لنڈا مارکیٹ کے صدر ملک سجاد اعوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ٹونی ہماری مارکیٹ ہی نہیں بلکہ پورے لاہور کی پہچان بن چکے ہیں۔ لوگ دور دراز سے آتے ہیں اور ٹونی کی دکان کا پتہ پوچھتے ہیں۔ اب خریداروں کے ساتھ ان کے فین بھی یہاں آتے ہیں۔‘
بقول سجاد اعوان: ’انہوں نے لنڈے بازار کا ماحول ہی تبدیل کر دیا ہے۔ کاروبار ایک سنجیدہ کام ہے لیکن ٹونی نے اس میں موسیقی کے رنگ بھر دیے ہیں، اس لیے ٹونی ٹین اب ہماری مارکیٹ کی پہچان ہیں۔‘