ملتانی رضائی کا ہنر: وقت کے ساتھ کم ہوتی طلب اور کاریگر

ملتان میں ایک زمانے میں روزگار کا اہم ذریعہ رہنے والا ملتانی رضائی سازی کا فن اب ختم ہونے کے قریب ہے۔

ملتان میں روایتی رضائی بنانے کا ہنر ایک زمانے میں کئی خاندانوں کی روزی کا ذریعہ تھا لیکن اب یہ فن ختم ہونے کے قریب ہے۔ ایسے کاریگر بہت کم رہ گئے ہیں جو رضائی کو روایتی انداز میں بھرنے اور سلائی کرنے کا ہنر جانتے ہوں۔

ایسے ہی ایک کاریگر نصیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ گذشتہ 30 برس سے اس پیشے سے وابستہ ہیں اور 1982 میں اس کام میں آئے۔ 1990 میں انہوں نے اسے باقاعدہ طور پرپیشے کو اپنایا اور اب تک اسی سے وابستہ ہیں۔

ان کے مطابق ماضی میں اس کام کی مانگ بہت زیادہ تھی مگر اب بازار میں رضائی کے نام پر زیادہ تر پولیسٹر کی مصنوعات دستیاب ہیں، جب کہ خالص روئی والی رضائیاں کم بنتی ہیں۔

نصیر کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان میں پہلے کسی نے یہ کام نہیں کیا اور ان کے بچوں میں بھی کوئی اس پیشے سے منسلک نہیں ہوا، جس کے باعث یہ ہنر وراثت میں منتقل ہونے کے بجائے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے ہی ایک اور کاریگر محمد اخلاق نے بتایا کہ ایک رضائی تیار کرنے میں تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں اور اس کی مزدوری 750 روپے لی جاتی ہے۔

ان کے مطابق یہ کام نہایت محنت طلب ہے کیونکہ اس میں پنجائی، بتی اور سلائی تینوں مراحل شامل ہوتے ہیں۔ خاص طور پر سلائی کے ساتھ ’کھنجائی‘ کی محنت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ کام آسان نہیں۔

محمد اخلاق نے کہا کہ یہ ہنر اب ختم ہوتا جا رہا ہے اور لوگ اسے بھولتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کراچی کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں نجی ہسپتالوں میں روئی کے گدے استعمال ہوتے تھے، جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں پالی ایسٹر کے گدے ہوتے تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ پولیسٹر میں جراثیم برقرار رہتے ہیں، جبکہ کاٹن میں جراثیم کم ہو جاتے ہیں۔

محمد اخلاق کے مطابق روئی اللہ کی ایک نعمت ہے اور اس کے بےشمار فوائد ہیں، مگر مہنگا ہونے کی وجہ سے اب لوگ اسے کم استعمال کرتے ہیں۔ پہلے ڈاکٹر بھی کاٹن کے استعمال کی ہدایت دیتے تھے، لیکن آج کے دور میں کپڑوں میں بھی کاٹن کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ آج کل بننے والی زیادہ تر رضائیاں فیکٹریوں میں تیار کی جانے والی پولیسٹر کی ہوتی ہیں، جنہیں لوگ فیشن ایبل سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ انہیں ’ہمیشہ چلنے والی‘ چیز سمجھتے ہیں، کیوں کہ یہ زیادہ تر امیر ملکوں میں تیار ہوتی ہیں اور وہاں استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہیں۔

محمد اخلاق کا کہنا تھا کہ نوجوان اس پیشے کی طرف اس لیے نہیں آتے کیوں کہ یہ بارہ مہینے کا مستقل کام نہیں بلکہ موسمی کام ہے۔ جب سیزن ختم ہو جاتا ہے تو آمدن رک جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور اس شعبے میں دلچسپی نہیں لیتے۔

انہوں نے کہا کہ ’اب ہماری عمر ہو چکی ہے، ہم یہ کام زیادہ عرصے تک نہیں کر سکتے اور نہ ہی بچوں کو سکھا پاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق کچھ لوگ اب بھی روئی والی رضائی کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ اس میں زیادہ گرمائش ہوتی ہے، جراثیم کم ہوتے ہیں اور یہ زیادہ مضبوط ہوتی ہے، جب کہ پولیسٹر کی رضائی کمزور ہوتی ہے اور جلد خراب ہو جاتی ہے۔ صحت کے حوالے سے بھی بہت سے لوگ روئی کو بہتر سمجھتے ہیں۔

نصیر نے بتایا کہ اب اس شعبے سے وابستہ لوگ بھی بہت کم رہ گئے ہیں اور مزدوری بھی پہلے کے مقابلے میں کم ملتی ہے۔ پہلے گرمیوں میں کام زیادہ ہوتا تھا، مگر اب سردیوں میں بھی کام محدود ہو گیا ہے۔ بجلی کے بل اور مشینری کے اخراجات میں اضافے نے بھی اس کاروبار کو کمزور کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہنر آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے کیوں کہ کاریگر کم ہوتے جا رہے ہیں اور نوجوان اس میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ اس کے باوجود آج بھی کچھ لوگ روئی والی رضائی کو اس کی گرمائش اور مضبوطی کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں جب کہ پالی ایسٹر کی رضائی کو کم معیار کی سمجھا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی