ہزاروں امریکیوں نے ٹک ٹاک ڈیلیٹ کیا، کیا اس ایپ کا خاتمہ قریب ہے؟

امریکہ میں ٹک ٹاک کی ملکیت کی تبدیلی کے بعد کے دنوں میں، اسے ڈیلیٹ کرنے والے امریکیوں کی روزانہ کی اوسط میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وہ تبدیلی جسے ایک خاموش اور قانونی منتقلی ہونا چاہیے تھا، اب ایک سیاسی تنازع بن چکی ہے۔

دی آل امریکن ریجیکٹس بینڈ کے مرکزی گلوکار ٹائسن رِٹر ٹک ٹاک لائیو کے دوران ڈیلاس ٹیکساس میں 27 اگست 2025 کو فور ڈی ڈاؤن اسکیٹ پارک میں منعقدہ ٹیکساس ہاؤس پارٹی میں اسٹیج پر پرفارم کرتے ہوئے (رک کرن/ اے ایف پی)

امریکہ کو ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش شروع کیے ہوئے اب چھ برس ہو چکے ہیں۔

یا زیادہ درست الفاظ میں کہا جائے تو چین کی ملکیت سے ٹک ٹاک کو نکالنے کے لیے پابندی کی دھمکی کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ان برسوں کے دوران مسلسل سرخیاں بنتی رہیں۔ ایسی پابندیاں جنہیں درحقیقت پابندی کہا ہی نہیں جا سکتا تھا۔

اس تمام عرصے میں ایپ بدستور چلتی رہی۔ ہر وقت دستیاب۔ بالکل ویسے ہی جیسے اس کا مشہور ’فور یو پیج‘۔

اسی لیے جب پچھلے ہفتے حتمی فیصلہ واقعی سامنے آیا تو دنیا بھر میں ابتدائی ردعمل زیادہ تر بے حسی پر مبنی تھا۔ یہ معاہدہ خاص طور پر اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ امریکہ میں ایپ استعمال کرنے والوں کو کم سے کم خلل محسوس ہو۔

حل یہ نکالا گیا کہ امریکہ میں ایک نئی کمپنی قائم کی جائے جو ٹک ٹاک کے امریکی ورژن اور اس کے صارفین کے ڈیٹا کی نگرانی کرے۔ مگر یہ ساری تبدیلی صارفین کے لیے بالکل غیر محسوس رہی اور وہ بدستور اسکرول کرتے رہے۔

یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا۔ جب تک اچانک ایسا نہ ہوا۔

چند ہی دنوں میں ٹک ٹاک میں خرابی پیدا ہو گئی۔ صارفین نے شکایت کی کہ وہ لاگ اِن نہیں ہو پا رہے یا انہیں پرانی اور غیر متعلقہ پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں۔

یہ مسئلہ ایک پاور آؤٹج کے باعث پیش آیا جس نے اس انفراسٹرکچر کو متاثر کر دیا تھا جس کے ذریعے امریکہ میں ٹک ٹاک دستیاب تھا۔

پھر مزید مسائل سامنے آئے۔

صارفین نے شکایت کی کہ وہ پیغامات میں ’ایپسٹین‘ کا لفظ لکھنے سے قاصر ہیں۔ جبکہ بعض صارفین کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای کے خلاف مواد کو دبایا جا رہا ہے۔

یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ کی سیاست شدید تناؤ کا شکار تھی۔ خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب وفاقی ایجنٹس نے ایک احتجاج کے دوران آئی سی یو نرس الیکس پریٹی کو مار دیا۔

ان مسائل نے ایک بار پھر توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ آخر امریکہ میں قائم ہونے والا نیا ٹک ٹاک کس نے خریدا ہے۔

یہ نیا جوائنٹ وینچر ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ جن میں اکثریت امریکی شہریوں کی ہے۔ تاہم اس میں اوریکل نامی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنی بھی شامل ہے۔

اوریکل کے سربراہ لیری ایلیسن، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

ان مسائل کے بعد سرکاری تحقیقات کا آغاز ہوا۔

خاص طور پر کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اعلان کیا کہ وہ ان اطلاعات کی تحقیقات کرائیں گے جن کے مطابق سیاسی مواد کو دبایا جا رہا ہے۔

گورنر نیوسم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا:

’ٹک ٹاک کی ٹرمپ نواز کاروباری گروپ کو فروخت کے بعد ہمارے دفتر کو ایسی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اور ہم نے خود بھی ایسے واقعات کی تصدیق کی ہے جن میں صدر ٹرمپ پر تنقید کرنے والے مواد کو دبایا گیا‘۔

یہ تمام معاملات ٹک ٹاک کے لیے مکمل طور پر نئے نہیں ہیں۔

ایپ کو طویل عرصے سے اس بات کے الزامات کا سامنا رہا ہے کہ وہ سیاسی طور پر حساس مواد کی درجہ بندی کم کر دیتی ہے۔ تاہم ماضی میں یہ الزامات زیادہ تر اس کے چینی مالکان سے جڑے ہوتے تھے۔

یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ٹک ٹاک دانستہ طور پر چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے حق میں مواد کو فروغ دیتا ہے۔

اب نئی ملکیت کے تحت یہ الزامات ختم ہونے کے بجائے ایک نئی سمت اختیار کر چکے ہیں۔

اسی طرح ٹک ٹاک کی شرائط و ضوابط بھی طویل عرصے سے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔

مثال کے طور پر 2022 میں معروف پوڈکاسٹر جو روگن نے ایک طویل تنقید کی جس میں انہوں نے ایپ کی جانب سے جمع کیے جانے والے ڈیٹا کی فہرست پڑھ کر سنائی۔

انہوں نے کہا:

’اس میں لکھا تھا کہ ہم آپ کے اس ڈیوائس کے بارے میں مخصوص معلومات جمع کرتے ہیں جس کے ذریعے آپ پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔ جیسے آپ کا آئی پی ایڈریس، صارف کا علاقہ۔ یہ واقعی حیران کن ہے‘۔

انہوں نے ڈیٹا کی فہرست پڑھتے ہوئے مزید کہا:

’یوزر ایجنٹ، موبائل کیریئر، ٹائم زون سیٹنگز، اشتہارات کے لیے شناختی معلومات، آپ کے ڈیوائس کا ماڈل، ڈیوائس سسٹم، نیٹ ورک کی قسم، ڈیوائس آئی ڈیز، اسکرین ریزولوشن، آپریٹنگ سسٹم، ایپس اور فائلوں کے نام اور اقسام‘۔

تاہم یہ وسیع شرائط غیر معمولی نہیں ہیں۔

زیادہ تر سوشل میڈیا ایپس خود کو اسی نوعیت کا ڈیٹا جمع کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔

بعض معلومات بظاہر خوفناک محسوس ہوتی ہیں مگر درحقیقت ضروری ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر کسی ایپ کا یہ جاننا کہ صارف کون سا ڈیوائس استعمال کر رہا ہے بظاہر مداخلت لگتی ہے مگر مواد درست انداز میں دکھانے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا ایپس عموماً خود کو وسیع اجازتیں دے دیتی ہیں تاکہ مستقبل میں تنقید اور قانونی چارہ جوئی سے بچا جا سکے۔ غالباً اس درست اندازے کے ساتھ کہ زیادہ تر صارفین ان اجازتوں کو کبھی استعمال ہی نہیں کریں گے۔

یوں ان ایپس کا استعمال دراصل اعتماد کا سوال بن چکا ہے۔

تمام ایپس ڈیٹا جمع کر سکتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا صارف اس ایپ کو اتنا قابلِ اعتماد سمجھتا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا اس کے حوالے کر دے۔

ٹک ٹاک کے حالیہ مسائل کا تعلق ایپ کے کام کرنے کے طریقے سے کم اور اس تناظر سے زیادہ ہے جس میں یہ کام کر رہی ہے۔

یعنی کیا صارفین اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کا ڈیٹا ایک ایسی کمپنی کے پاس جائے جو بالواسطہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے وابستہ سمجھی جاتی ہے۔

بہت سے صارفین اس پر مطمئن نہیں ہیں۔

حالیہ دنوں میں کئی افراد نے ایپ کے استعمال کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔

ٹک ٹاک اور دیگر ایپس کو نسبتاً نجی انداز میں استعمال کرنے کے کچھ طریقے موجود ہیں۔

مثال کے طور پر آئی فون کی سیٹنگز کے ذریعے اس ڈیٹا کو محدود کیا جا سکتا ہے جو ڈیوائس ایپس کے حوالے کرتی ہے۔

تاہم بعض صارفین نے ایپ کو مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور یہ رجحان بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

یقیناً محض یہ کہنا کہ لوگ ٹک ٹاک چھوڑ رہے ہیں اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ واقعی چھوڑ دیں گے۔

جب ایلون مسک نے ٹوئٹر خرید کر اس کا نام ایکس رکھا تو بھی بار بار اسے چھوڑنے کے رجحانات سامنے آئے۔ مگر پلیٹ فارم اب بھی موجود ہے۔

تاہم ٹک ٹاک کے متبادل سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس ہفتے اسکائی لائٹ اور اپ اسکرولڈ نامی ایپس نے ڈاؤن لوڈز میں نمایاں اضافے کی اطلاع دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ انسٹاگرام طویل عرصے سے اپنے ریلز فیچر کے ذریعے صارفین کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔

ریلز کو جزوی طور پر انڈیا میں ٹک ٹاک پر پابندی کے بعد متبادل کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔

اس کے باوجود ٹک ٹاک اب بھی غالب پلیٹ فارم ہے۔

نیٹ ورک ایفیکٹس اور مواد کی بے پناہ مقدار ایپ کو چھوڑنا جتنا آسان دکھائی دیتا ہے اتنا بناتی نہیں۔

مگر ٹک ٹاک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ شاید کوئی ایک بڑا سیاسی واقعہ نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ختم ہونا ہو۔

اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دھماکے سے نہیں بلکہ خاموشی سے ختم ہوتے ہیں۔

لائیو جرنل، مائی اسپیس، ٹمبلر یا دیگر کئی پلیٹ فارمز کے لیے کوئی ایک دن ایسا نہیں آیا جب وہ اچانک بند ہو گئے ہوں۔

بس ایک دن لوگ لاگ آؤٹ ہوئے۔

اور پھر کبھی واپس لاگ اِن نہیں ہوئے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ