امریکہ کی سعودی عرب کو نو ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل کی فروخت کی منظوری

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو 730 پیٹریاٹ میزائل اور متعلقہ سامان فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔

امریکی فوج کا پیٹریاٹ میزائل سسٹم 12 اکتوبر 2008 کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے جنوب میں اوسَن میں واقع امریکی فضائی اڈے پر ایئر پاور ڈے کے دوران نمائش کے لیے پیش کیے جانے کے موقعے پر (اے ایف پی)

امریکی انتظامیہ نے جمعے کو سعودی عرب کو نو ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور متعلقہ سامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے یہ سودا 730 پیٹریاٹ میزائلوں اور متعلقہ سازوسامان کی فروخت کا ہے جو ’ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کی سکیورٹی کو بہتر بنا کر امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سکیورٹی کے مقاصد میں معاون ثابت ہو گا، جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک قوت ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’یہ بہتر صلاحیت سعودی عرب، امریکہ اور مقامی اتحادیوں کی زمینی افواج کی حفاظت کرے گی اور خطے میں مربوط فضائی اور میزائل دفاعی نظام میں سعودی عرب کے کردار کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گی۔‘

ہتھیاروں کی فروخت کا یہ اعلان سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔

پیٹریاٹ میزائل سسٹم ایک جدید دفاعی نظام ہے، جو طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نظام ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور لانچر پر مشتمل ہوتا ہے اور فوری ردِعمل کی بدولت حساس تنصیبات اور آبادیوں کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پیٹریاٹ سسٹم کو دنیا کے کئی ممالک اپنی فضائی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کو بھی مجموعی طور پر 6.67 ارب ڈالر کا اسحلہ فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

اسرائیل کو فروخت چار الگ الگ پیکجز میں تقسیم کی گئی ہے، جن میں 30 اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز اور متعلقہ سازوسامان و ہتھیاروں کا ایک پیکج شامل ہے، جب کہ دوسرا تین ہزار 250 ہلکی ٹیکٹیکل گاڑیوں کا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹرز، جو راکٹ لانچرز اور ہدف کو نشانہ بنانے والے جدید آلات سے لیس ہوں گے، مجموعی پیکج کا سب سے بڑا حصہ ہیں، جن کی مالیت تین ارب 80 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔

اگلا سب سے بڑا حصہ ہلکی ٹیکٹیکل گاڑیاں ہیں، جو اسرائیل ڈیفنس فورسز کے لیے اہلکاروں اور لاجسٹکس کی نقل و حمل اور ’مواصلاتی رابطوں کو بڑھانے‘ کے لیے استعمال ہوں گی اور ان کی لاگت 1 ارب 98 کروڑ ڈالر ہو گی۔

سعودی عرب اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کی تفصیلات محکمہ خارجہ کی جانب سے جمعے کو کانگریس کو ان سودوں کی منظوری سے مطلع کرنے کے بعد عام کی گئیں۔

ہتھیاروں کی یہ فروخت ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لیے اپنے جنگ بندی کے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کا مقصد اسرائیل حماس تنازعے کو ختم کرنا اور اس فلسطینی علاقے کی تعمیر نو ہے، جو دو سال کی جنگ کے بعد تباہ ہو چکا ہے اور جہاں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ جنگ بندی کافی حد تک برقرار ہے، لیکن اس کے اگلے مراحل میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جن میں معاہدے کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا مشکل عمل شامل ہے۔

امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگری میکس نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے لیے ان سودوں کا اعلان کرنے میں جلد بازی کر رہی ہے جس سے ’کانگریس کی نگرانی اور برسوں سے جاری طریقہ کار کو نظر انداز‘ کیا جائے گا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کے طویل عرصے سے جاری اختیارات کو کھلم کھلا نظر انداز کیا ہے اور ساتھ ہی غزہ میں اگلے اقدامات اور وسیع تر امریکی اسرائیل پالیسی کے بارے میں اہم سوالات پر کانگریس سے بات چیت کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔‘

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان سودوں کے تحت، اسرائیل ان بکتر بند گاڑیوں کے پاور پیکس پر مزید 74 کروڑ ڈالر خرچ کرے گا جو 2008 سے اس کے استعمال میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بقیہ 15 کروڑ ڈالر ہلکے یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹرز کی ایک چھوٹی لیکن غیر معلنہ تعداد پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ اس کے پاس پہلے سے موجود اسی طرح کے سازوسامان میں اضافہ کیا جا سکے۔

اسرائیل کے بارے میں الگ الگ لیکن تقریباً ایک جیسے بیانات میں، محکمہ خارجہ نے کہا کہ نئی فروخت میں سے کوئی بھی خطے میں فوجی توازن کو متاثر نہیں کرے گی اور یہ سب ’اسرائیل کی سرحدوں، اہم انفراسٹرکچر اور آبادی والے مراکز کا دفاع کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنا کر موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی اسرائیل کی صلاحیت میں اضافہ کریں گی۔‘

بیانات میں کہا گیا کہ ’امریکہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے پرعزم ہے، اور اسرائیل کو اپنے دفاع کی مضبوط اور تیار صلاحیت بنانے اور برقرار رکھنے میں مدد کرنا امریکی قومی مفادات کے لیے بہت اہم ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ