لاہور میں کئی سال کی پابندی کے بعد بسنت کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کے لیے سرکاری عمارتوں کی چھتیں بھی کرائے پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق سرکاری سکولوں اور منتخب عمارتوں کی مضبوط کنکریٹ کی چھتوں کی نشاندہی کر کے حفاظتی انتظامات کے بعد عوام کے لیے کھولا جائے گا۔
سرکاری چھتوں کے استعمال کے لیے پیشگی اجازت، مقررہ تعداد میں افراد کی موجودگی اور حفاظتی بارڈ یا جال کی تنصیب لازمی ہوگی۔
اسی طرح نجی سطح پر بھی انتظامیہ کی اجازت سے شہری اپنے گھروں کی چھتیں سات سے آٹھ فروری کے لیے بک کروا سکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نجی چھتوں کی بکنگ کا ریٹ تین سے پانچ لاکھ روپے تک ہے جبکہ بڑی اور معروف عمارتوں کی چھتیں 10 سے 10 لاکھ روپے میں دستیاب ہیں۔
سرکاری سطح پر تاریخی جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) ہیڈ کوارٹر مال روڈ کی چھت کا کرایہ پانچ لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جسے کوئی بھی پارٹی کرائے پر لے کر پتنگ بازی کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
اسی طرح شاہی قلعے کے مختلف مقامات بھی بسنت کے دوران پتنگ بازی کے لیے دستیاب ہوں گے۔
ضلعی انتظامیہ نے لاہور کی پرانی عمارتوں کا بھی سروے کروایا، جس کے نتیجے میں 300 عمارتیں مخدوش حالت میں ہونے کے سبب ناقابل استعمال قرار دی گئی ہیں اور ان کی چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بسنت کے دوران سخت حفاظتی اقدامات نافذ رہیں گے، جن میں کیمیائی یا دھاتی ڈور، ہوائی فائرنگ، اونچی آواز میں موسیقی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر مکمل پابندی شامل ہے۔
پولیس اور ضلعی ٹیموں کو کسی بھی وقت چھتوں کا معائنہ کرنے اور خلاف ورزی پر فوری کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
اسی طرح پتنگوں پر کسی پارٹی کے پرچم یا سیاسی لیڈر کی تصویر لگانے پر پابندی عائد ہے جبکہ بعض پنجابی گانوں کو بھی بسنت کی تقریبات میں قابل اعتراض قرار دے کر پابندی عائد کی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق پتنگیں اور ڈور یکم فروری سے فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی اور موٹر سائیکل سواروں میں حفاظتی راڈز مفت تقسیم کیے جائیں گے۔
یکم فروری سے بغیر راڈ والی موٹر سائیکل پر دو ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
بسنت کے دوران سرکاری ٹرانسپورٹ مکمل طور پر فری ہو گی اور بسوں و شاہراہوں پر بسنت کی برانڈنگ کی جا رہی ہے تاکہ شہری تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔
شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے ریسکیو 1122، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں متحرک رہیں گی۔
