ایمان مزاری کو سزا: اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست اپنا وجود کھو بیٹھی

ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی سزاؤں کے بعد پاکستان میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ایکٹیوزم کا رجحان دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ پانچ دسمبر 2025 کو اسلام آباد کی ایک عدالت میں موجود ہیں (اے ایف پی)

انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکلا ایمان زینب مزاری اورہادی علی چٹھہ کی گرفتاری پر کئی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں سوسائٹی میں دو آرا پائی جاتی ہیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولنے کی پاداش میں سزا دی گئی جبکہ دوسری رائے کے مطابق ریاست کے خلاف شرانگیزی کو کوئی بھی ملک برداشت نہیں کرتا۔

حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ایمان نے جبری طور پہ لاپتہ بلوچ افراد اور توہین مذہب بزنس کینگ کے شکار متاثرہ خاندانوں کی مدد کی، جس پر ریاست چراغ پا ہوئی۔

تاہم اسٹیبلشمنٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں کا تعلق ان کی پیشہ ورانہ زندگی سے نہیں بلکہ اس ایکٹیوزم سے ہے، جس کے تحت انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں اور دوسرے اجتماعات میں ریاست کے خلاف مبینہ طور پر نعرے لگائے یا بلوچ علیحدگی پسندوں کے لیے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسے بیانات دیے، جن سے یہ تاثر ابھرا کہ ان کی سوچ ریاست مخالف عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ انڈیا میں اروندھتی رائے اور برطانیہ میں فلسطین ایکشن کمیٹی کے خلاف ریاست مخالف بیانات یا مظاہروں پر مقدمات بنے جبکہ ترکی سمیت کئی ممالک میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

کئی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ دونوں وکلا پاکستان کے سماجی اور سیاسی منظر نامے پر چند اسٹیبلشمنٹ مخالف آوازوں میں سے تھے، جو ریاستی پالیسی کو ہر محاذ پر چیلنج کر رہے تھے۔

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف روایات بہت پرانی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد آزاد پاکستان پارٹی نسبتاً اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہی۔ بعد میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور اس کا سٹوڈنٹ ونگ ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن اسٹیبلشمنٹ کے زیر عتاب رہے۔

خصوصاً پنڈی سازش کیس کے بعد ان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا۔

اسی دور میں سابقہ مشرقی پاکستان میں جگتو فرنٹ اور کچھ بنگالی سیاست دانوں کی طرز سیاست بھی اسٹیبلشمنٹ مخالف تھی، جنہوں نے ترقی پسندوں کے ساتھ مل کر سیٹو اور سینٹو جیسے مغرب نواز دفاعی معاہدوں کی مخالفت کی۔

بعد ازاں نیشنل عوامی پارٹی بھی اسی طرزِ سیاست کو لے کر چلی، گو اس میں کچھ عناصر فوج نواز بھی تھے۔

ایوب خان مخالف تحریک میں اشتراکی رجحان رکھنے والی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور دوسری ترقی پسند تنظیموں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی تخلیق میں بھی جی ایچ کیو مخالف ترقی پسند کارکنان کا ایک اہم کردار رہا اور اس جماعت کے بانی ارکان میں کئی ایسے رہنما تھے، جو اشتراکی خیالات کے حامی اور اسٹیبلشمنٹ کی سامراج نواز پالیسی کے بہت بڑے ناقد تھے۔

70 کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی اور بلوچ، سندھی اور پختون قوم پرستوں نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ طرز سیاست کو فروغ دیا۔ 77 میں اقتدار سے محرومی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ رویہ اختیار کیا، جو تحریک برائے بحالی جمہوریت کے دوران اپنی معراج پر پہنچا۔

اس میں ملک کی دیگر جماعتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا لیکن ریاستی پالیسی کے خلاف سب سے موثر آواز پاکستان پیپلز پارٹی ہی کی تھی۔

پی پی پی کا یہ طرزِ سیاست تقریباً 1988 تک چلا، جب انتخابات کے بعد اس نے پہلی دفعہ اقتدار سنبھالا تو اس کا رویہ جی ایچ کیو کی طرف نسبتاً نرم ہو گیا۔

88 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 تک پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگی رہیں۔ اسی اثنا میں ایم کیو ایم لندن اور کچھ قوم پرست جماعتیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کرتی رہی۔

مشرف کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور وکلا تنظیمیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ کردار ادا کرتی رہیں۔

تاہم پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر میثاقِ جمہوریت کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی شکل میں ’تیسری قوت‘ کو تیار کیا۔

2008 سے 2018 تک پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے کبھی اسٹیبلشمنٹ نواز اور کبھی اسٹیبلشمنٹ مخالف لائن لی۔

اس دوران کہیں نواز شریف کارگل کا رونا روتے ہوئے نظر آئے اور کہیں زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ بجانے کی باتیں کرتے رہے۔

2018 سے ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرنا شروع کی اور پہلی مرتبہ پنجاب کی ایک جماعت ایک بڑی اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوت بن کر ابھری۔

نواز شریف اور مریم نواز جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید پر ہر وقت گرجتے اور برستے ہوئے نظر آئے۔

تاہم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری میں تمام ریکارڈ توڑ دیے اور ن لیگ پاکستان کی بہت بڑی اسٹیبلشمنٹ نواز تنظیم کے طور پر ابھر کے سامنے آئی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی اقتدار سے محرومی کے بعد پہلے جزوی طور پر اور پھر مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑی ہوئی۔

ریاست نے اپنی طاقت کو استعمال کر کے پی ٹی آئی حامی صحافیوں اور یو ٹیوبرز کو بھاگنے پر مجبور کیا اور باقی کا ’سافٹ ویئر اپ ڈیٹ‘ کیا اور یوں پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور کو تقریباً ختم کر ڈالا۔

اسی اثنا میں پشتون تحفظ موومنٹ اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوت کے طور پر ابھرے، لیکن ریاست نے ان دونوں کو بھی غیر موثر بنا دیا۔

ایسے میں ایمان مزاری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سب سے توانا آواز بن کر ابھریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کئی کانفرنسوں، اجتماعات اور سوشل میڈیا پر جی ایچ کیو کے خلاف انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف رجحان ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے ایمان مزاری کو آج کے دور کی عاصمہ جہانگیر قرار دیا جنہوں نے اپنی ساری زندگی جمہوریت کے حق میں اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں گزاری، تاہم کچھ نے اس رائے سے اختلاف بھی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عاصمہ جہانگیر نے اپنی توپوں کا رخ صرف غیر جمہوری عناصر کی طرف کیا اور سیاست دانوں کو جرنیلوں سے کم از کم بہتر قرار دیا۔

اس کے برعکس ایمان زینب مزاری نے اپنی توپوں کا رخ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کی طرف کیا بلکہ انہوں نے سارے سیاست دانوں کو بھی ایک چھڑی سے ہانکنے کی کوشش کی۔

اس وجہ سے وہ سماجی اور سیاسی طور پر تنہائی کا شکار رہیں، جس کی عکاسی ان کی سزاؤں پر ردعمل سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ملک کی سیاسی تاریخ کا یہ بنجر ترین دور ہے، جہاں اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کم و بیش اپنا وجود کھو بیٹھی ہے۔

میڈیا بھی تابعداری کرتا ہے، صحافی تنقید کرنے سے کتراتے ہیں اور ماسوائے ملک سے باہر بیٹھے چند یوٹیوبرز کے، سوشل میڈیا بھی تنقید کے نشتر چلانے سے ہچکچاتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے نیب کے ذریعے سیاست دانوں کو کنٹرول کیا۔ اشتہارات کی بندش کے ذریعے حکومت کو استعمال کرتے ہوئے قومی دھارے کے ذرائع ابلاغ کو تابعدار بنایا اور ایف آئی اے کے ذریعے نوٹسز بھیج کر یوٹیوبرز اور دوسرے ناقدین پر دباؤ ڈالا۔

ایسے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ان چند افراد میں سے تھے، جو اب بھی تمام رکاوٹوں کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولنے کی جسارت کر رہے تھے۔ ان کی سزاؤں کے بعد پاکستان کے سماجی اور سیاسی منظر نامے پر کوئی بھرپور ردعمل نظر نہیں آیا۔

یورپی یونین اور کچھ بین الاقوامی اداروں نے اس پر تشویش کا اظہار ضرور کیا، لیکن پاکستان کی وہ سیاسی جماعتیں، جو جی ایچ کیو مخالفت کے نعرے لگاتی تھیں، انہوں نے بھی چپ سادھی ہوئی ہے۔

تو کیا ان سزاؤں کے بعد ملک میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ رجحان ختم ہونے جا رہا ہے۔ اشارے ایسے ہی ہیں کیونکہ قومی سطح پر صحافتی تنظیمیں، عدلیہ اور وکلا تنظیمیں سب منقسم ہیں۔

زیادہ تر کا رجحان جی ایچ کیو کو خوش کرنے میں ہے لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا رجحان دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست