اسلام آباد: پانچ برسوں میں بلدیاتی انتخاب کا چھ مرتبہ التوا، جمہوری عمل پر سوال؟

دو منسوخ شدہ انتخابات میں مجموعی طور پر 7 ہزار 866 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی کی مد میں 3 کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار روپے جمع کرائے اور واپس نہیں دیے۔

اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں قائم ایک پولنگ سٹیشن میں 8 فروری 2024 کو  پاکستانی شہری اپنا ووٹ ڈال رہا ہے (انڈپینڈنٹ اردو / سہیل اختر)

انتخابات اور جمہوری عمل کی نگرانی کرنے والی ایک پاکستانی تنظیم کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانچ برس کے دوران بلدیاتی انتخابات کا چھ مرتبہ التوا جمہوری عمل پر سنگین سوال بن کر ابھرا ہے۔

پٹن-کولیشن 38 کی تازہ سروے رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں نچلی سطح کی جمہوریت کو پنپنے سے منظم انداز میں روکا گیا، جس سے نہ صرف امیدواروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ عوام کے حقِ نمائندگی کو بھی دھچکا لگا۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ یہ صورتِ حال الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خودمختاری پر سوالات اٹھاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادارہ انتظامیہ کے دباؤ میں ہے۔

سروے کے مطابق دو منسوخ شدہ انتخابات میں مجموعی طور پر 7 ہزار 866 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی کی مد میں 3 کروڑ 77 لاکھ 40 ہزار روپے جمع کرائے۔ اس کے علاوہ قانونی مشاورت اور انتخابی مہم پر بھی خطیر اخراجات ہوئے۔

وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں پنجاب طرز کے بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کی منظوری دیتے ہوئے 2 جنوری 2026 کو دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی کر دیے تھے۔

وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اسلام آباد میں وارڈز کی تعداد بڑھائی جائے۔

پتن کے اندازوں کے مطابق ان دونوں منسوخ انتخابات پر امیدواروں کے مجموعی اخراجات 54 کروڑ 43 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ محض مالی نقصان نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی حقِ نمائندگی کی پامالی بھی ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ انتظامی ترامیم کو عوام اور امیدواروں کی اکثریت نے مسترد کیا۔ 70 فیصد امیدواروں اور 61 فیصد ووٹروں نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ترامیم کی مخالفت کی، حالانکہ اس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔

چھیاسٹھ فیصد امیدواروں اور 49 فیصد ووٹروں نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے خاتمے کو رد کیا۔ نصف سے زائد شرکا نے ٹاؤن کارپوریشنوں میں بالواسطہ انتخابات کی تجویز کی مخالفت کی جبکہ 90 فیصد امیدواروں اور 60 فیصد ووٹروں نے مزدور اور کسان نشستوں پر تاجروں اور ٹیکنوکریٹس کی شمولیت کو نامنظور قرار دیا۔

سروے کے مطابق 40 فیصد مخالف امیدواروں کا تعلق حکمران جماعتوں سے تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اختلاف صرف حزبِ اختلاف تک محدود نہیں۔

انتخابات کے بار بار التوا کی وجوہات پر بھی سروے میں نمایاں رجحانات سامنے آئے۔ ایک تہائی سے زائد افراد کا خیال ہے کہ حکمران جماعتوں کو ممکنہ شکست کا اندیشہ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تقریباً 40 فیصد نے بیوروکریسی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اہلکار منتخب نمائندوں کے ماتحت کام کرنے سے گریزاں ہیں۔

دس فیصد سے زائد شرکا نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اراکین ترقیاتی فنڈز اور سیاسی اثرورسوخ پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یوں سیاسی اور انتظامی مفادات کے گٹھ جوڑ کا تاثر ابھرتا ہے۔

سروے نے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی۔ 71 فیصد پارٹی عہدیدار براہِ راست قیادت کی جانب سے مقرر کیے گئے جبکہ صرف 29 فیصد اندرونی انتخابات کے ذریعے سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال بلدیاتی سطح پر جمہوری خلا کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ میں چند سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان فوری طور پر منسوخ شدہ انتخابات کے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی کی فیس واپس کرے اور حکومت مالی نقصانات کا ازالہ کرے۔

تجویز دی گئی ہے کہ تمام یونین کونسلوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کے بجائے مرحلہ وار طریقہ اپنایا جائے، یعنی ہر دو سال بعد 20 فیصد نشستوں پر انتخابات ہوں تاکہ نظام میں تسلسل برقرار رہے۔

مزید برآں، متنازع ترامیم پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کرانے، ’تاجر‘ جیسی اصطلاحات کی واضح تعریف دینے اور بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی و انتظامی خودمختاری فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں مقا می حکومت کی معیاد 14 فروری 2021ء کو مکمل ہوئی تھی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست