داعش اسلام آباد تک کیسے پہنچ گئی؟

داعش کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی اور بظاہر ایک بڑی حکمت عملی میں کامیابی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور سکیورٹی سے متعلق کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے۔

چھ فروری 2026 کو اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ہونے والے دھماکے میں جان سے جانے والوں کے لواحقین (اے ایف پی)

سہمی ہوئی خوشیاں اور رنجیدہ رنگ ہمارے آنگن کا ہی حصہ کیوں ہیں۔ ہم آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ مسکراتے چہرے دکھاتے دکھاتے تھک رہے ہیں۔ ہمارے وجود اپنے ہی بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ کیوں کیا خوشیوں پر ہمارا حق نہیں اور کیوں خوف کے سائے میں ہم قہقہے لگانے پر مجبور ہیں۔

دو دہائیوں کے بعد بسنت پنجاب میں لوٹ رہی تھی۔ ڈھول کی تھاپ پر پنجاب قدیم تہوار کو جوش سے خوش آمدید کہنے کو بے تاب تھا۔ بسنت بہار کا پہلا تعارف اور خنکی کی رخصتی کی علامت۔ ایک طویل عرصے کے بعد پنجاب بلا خوف رقصاں تھا، پتنگیں آسمانوں کو چھونے کے لئے بے تاب اور بو کاٹا کی صدائیں عالم میں گونجنے کو بے چین۔۔۔ مگر خوشیوں کی یہ پتنگ کٹ گئی۔ جشن ماتم میں اور قہقہے سسکیوں میں بدل گئے۔ اسلام آباد کے نواح میں خودکش حملے نے خوشیوں کو غم میں تبدیل کر دیا۔

مارے جانے والے مسلمان تھے، نفرت اور انتہا پسندی ان کے اعتقاد کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنا رہی تھی اور رٹے ہوئے جملے دہرائے جا رہے تھے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں درست، لیکن دہشت گردوں کا مذہب تو ضرور ہے جو فرقہ واریت اور نفرت کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہیں۔ انکار کی اس کیفیت سے نکلیں گے تو ادراک کی منزل تک پہنچیں گے۔

اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ پریشان کُن یہ کہ دہشت گرد کی والدہ اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں رہائش پذیر اور خودکش حملہ آور سے مسلسل رابطے میں تھی۔ اس سے جڑی مزید اطلاعات نے سراسیمگی کے ساتھ تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

داعش کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی اور بظاہر ایک بڑی حکمت عملی میں کامیابی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسلام آباد میں داعش کا حملہ ایک خطرناک صورت حال کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ حملہ آور جس کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا پانچ بار افغانستان سے تربیت لے کر واپس آ چکا تھا۔ اس حملے نے سکیورٹی سے متعلق کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خودکش بمبار کی بلا روک ٹوک نقل وحرکت اور اسلام آباد میں ہدف یعنی امام بارگاہ تک رسائی اور حملہ سیکورٹی کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟ نیٹ ورک سے وابستہ گروہ کے ہینڈلرز کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ دارلحکومت میں منظم گروہ موجود ہے جس کے شواہد اب سلامتی کے اداروں کے پاس ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک طالبان (خوارج) کے ساتھ ساتھ داعش کا خطرہ کس حد تک بڑھ سکتا ہے جو سکیورٹی اداروں، اقلیتوں اور شیعہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کر سکتا ہے؟

یہ خطرہ پاکستان سمیت افغانستان اور اس پورے خطے کو لاحق ہے۔ اسلامک سٹیٹ داعش کی یہ شاخ جنوری 2015 میں وجود میں آئی جب تحریک طالبان کے سابقہ حافظ سعید خان کو بغدادی نے اپنا امیر مقرر کیا۔

2016 کی امریکی ادارے برائے امن یو ایس آئی پی کی تحقیق کے مطابق خراسان چیپٹر میں زیادہ تر تحریک طالبان کے وہ راہنما شامل تھے جو سابقہ فاٹا پر سے اثرورسوخ کھو دینے کے بعد مایوس تھے۔

امریکی رائل یونائیٹڈ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق 16-2015 میں افغانستان میں داعش کے سات سے آٹھ ہزار جبکہ پاکستان میں دو سے تین ہزار جنگجو موجود ہیں۔ ظاہر ہے اب تک یہ تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہو گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان گروہوں کو سیاسی بیانیہ بھی ملتا ہے اور فکری پرورش بھی، نفرت کی ترویج کا موقع بھی دستیاب ہے اور انتہا پسندی کی تشہیر بھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ ریاست ایسے گروہوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی سے ہچکچاتی کیوں ہے؟ ایک طرف ایمان مزاری جیسے انسانی حقوق کے نمائندوں کو سنگین سزائیں دی جا رہی ہیں تو دوسری جانب نفرت کے یہ سوداگر کھلے عام ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں۔

ملک میں کئی فالٹ لائنز ایک ہی وقت میں متحرک ہیں ایسے میں انتہاپسندی کی یہ دراڑ وہ آتش فشاں ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

ریاست ایسے تمام گروہوں کے خلاف سخت کاروائی کرے ورنہ مذہبی انتہا پسندی کی آگ ایک مرتبہ پھر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کو متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر