پاکستان میں طویل مدتی خلیجی سرمایہ کاری کے نئے امکانات

پاکستان میں معاشی استحکام، ڈیجیٹل ترقی اور پالیسی اصلاحات نے خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر دیے ہیں جہاں مہنگائی میں کمی، زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مضبوط ہوا ہے۔

دفتر خارجہ نے پاکستان میں بیرونی ممالک سے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے یکم ستمبر 2023 کو غیر ملکی مشنز کو بریفنگ دی (وزارت خارجہ)

خلیجی سرمایہ کاروں نے معیشتوں کے ابتدائی مراحل میں معاونت، معاشی اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کاری کے بجائے بنیادی حقائق پر توجہ مرکوز کر کے دیرپا قدر حاصل کی ہے۔ آج پاکستان کا جائزہ لیتے وقت یہ نقطۂ نظر خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔

ایک مشکل مگر ضروری توازن کے بعد پاکستان کی میکرو اکنامک پوزیشن نمایاں طور پر مستحکم ہو چکی ہے، مہنگائی بحرانی سطح سے تیزی سے کم ہوئی ہے اور حالیہ عرصے میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی اوسط تقریباً پانچ فیصد رہی ہے۔

شرح سود میں کمی کا رجحان ہے اور کاروباری اعتماد میں بہتری آ رہی ہے۔ بیرونی کھاتوں کی صورت حال بہتر ہوئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں جا چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور کرنسی میں پائیدار استحکام دیکھا گیا ہے۔ حکومتی پالیسیوں کا رخ بھی تبدیل ہوا ہے، جس میں اب برآمدات پر مبنی نمو اور نجی شعبے کی مسابقت بڑھانے کے لیے ریاست کے بطور سہولت کار کردار پر واضح زور دیا گیا ہے۔

حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر معیشت کو ڈیجیٹل اور دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے مضبوط عزم موجود ہے۔ اس تبدیلی سے ٹیکس نیٹ کے وسیع ہونے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے مستحکم ہونے اور نجی شعبے کی خدمات کے لیے پائیدار طلب پیدا ہونے کی توقع ہے۔

یہ اصلاحات اس لیے اہم ہیں کہ یہ حالات کے قابلِ پیش گوئی ہونے کے عنصر کو بحال کرتی ہیں، جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سب سے اہم جزو ہے۔

یہ بہتری بیرونی تجزیوں میں بھی تیزی سے نمایاں ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان میں اصلاحات کی رفتار کو تسلیم کیا ہے، جبکہ دی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے 73 فیصد ارکان پاکستان کو مسلسل سرمایہ کاری کے لیے موزوں منزل سمجھتے ہیں۔

یہاں پہلے سے موجود سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور یہ عمل اکثر عمومی تاثر سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ میکرو استحکام سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پاکستان کی طویل مدتی کشش اس کے حجم اور ساخت میں مضمر ہے۔

تقریباً 26 کروڑ آبادی اور 30 برس سے کم اوسط عمر کے ساتھ یہ نوجوانوں پر مشتمل دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور کنزیومر سروسز میں طلب وقتی نہیں بلکہ بنیادی نوعیت کی ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان پہلے ہی قومی سطح کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر قائم کر چکا ہے۔ براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی وسیع پیمانے پر موجود ہے، ڈیجیٹل ادائیگیاں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں اور بروقت و کم لاگت ٹرانزیکشن پلیٹ فارمز لاکھوں افراد اور کاروباروں کی معاونت کر رہے ہیں۔ یہ بنیاد سرمایہ کاری کے عملی خطرات کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے اور درست آپریٹنگ پارٹنرز کے ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے تیز رفتار توسیع کو ممکن بناتی ہے۔

یہ انفراسٹرکچر اب اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ فائیو جی سمیت آئندہ سپیکٹرم کی نیلامیاں براڈ بینڈ کی صلاحیت اور معیار میں اضافہ کریں گی، جس سے صنعت، لاجسٹکس، صحت اور مالیاتی خدمات میں جدید ترین استعمال کی راہیں ہموار ہوں گی۔

اس کے ساتھ ساتھ معیشت کو دستاویزی اور ڈیجیٹل بنانے کے عمل میں تیزی آ رہی ہے، جس سے رسمی مارکیٹ میں وسعت اور شفافیت میں بہتری پیدا ہو رہی ہے۔ مستقبل پر مبنی شعبوں مثلاً ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، بلاک چین ایپلی کیشنز، ورچوئل اثاثوں اور اپلائیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر بھی توجہ بڑھ رہی ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جن میں خلیجی سرمایہ کار پہلے ہی گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیلی کام اور ڈیجیٹل سروسز کا شعبہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ ’پیشینٹ کیپیٹل‘ (صبر آزما سرمایہ کاری) کیا نتائج دے سکتی ہے۔ 1990 کی دہائی کے وسط سے دبئی کے ویون (VEON) گروپ نے پاکستان میں 11 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور اب بھی سالانہ 30 کروڑ ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

یہ سرمایہ کاری مختلف معاشی ادوار میں طویل مدتی نقطۂ نظر کے تحت کی گئی۔ آج یہ ادارہ ادائیگیوں، کنیکٹیویٹی، انٹرپرائز سروسز اور ڈیجیٹل شمولیت کے قومی سطح کے پلیٹ فارمز کو سپورٹ کر رہا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مشکل حالات میں تعمیر کی گئی صلاحیتیں لچکدار اور منافع بخش دونوں ہو سکتی ہیں۔

یہ بات متحدہ عرب امارات میں بھی بخوبی سمجھی جاتی ہے۔ خطے کی اپنی کامیابی بھی انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور اداروں میں ابتدائی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے، جو اکثر عمومی رائے عامہ بننے سے پہلے کی گئی اور کئی دہائیوں تک برقرار رہی۔

بہت سے خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے جنوبی ایشیا تیزی سے ایک ایسے خطے کے طور پر ابھر رہا ہے جو وسعت، خدمات پر مبنی ترقی اور طویل مدتی طلب کی پیشکش کرتا ہے۔ اس کی بنیاد تجارت، لاجسٹکس، توانائی اور مالیات کے دیرینہ تعلقات پر ہے اور اب اسے مشترکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے مزید تقویت حاصل ہو رہی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی مارکیٹ کا حجم، جغرافیائی قربت اور پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت خطے کے طویل مدتی سرمایہ کاری کے نقطۂ نظر سے فطری طور پر ہم آہنگ ہے۔

پاکستان کے لیے اب بھی صبر کی ضرورت ہے، لیکن ایسے لمحات نایاب ہوتے ہیں جب زمینی حقائق تاثر سے زیادہ تیزی سے بہتر ہو رہے ہوں۔

طویل مدتی سوچ رکھنے والے خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان ایک بڑی گھریلو مارکیٹ، بہتر ہوتی ہوئی معاشی پیش گوئی اور ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پیش کرتا ہے، جو پہلے ہی کروڑوں صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

پاکستان اب ایک دوسری اور زیادہ محتاط نگاہ کا مستحق ہے۔

بشکریہ عرب نیوز

کالم نگار ویون گروپ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، جاز ورلڈ کے سی ای او اور پاکستان کے ’کیش لیس اکانومی انیشی ایٹو‘ کے رکن ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر