پاکستان شعبہ معدنیات میں ترقی کے لیے چینی سرمایہ کاری کا خواہاں: احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ اگر ملک میں ہی معدنیات کی ویلیو ایڈیشن کی جائے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اسلام آباد میں 28 جنوری 2026 کو پاکستان۔چین منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے (سکرین گریب، پی ٹی وی آفیشل / یوٹیوب)

اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان–چین منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان اپنے وسیع مگر کم ترقی یافتہ معدنی وسائل کو ترقی دینے کے لیے چین سے سرمایہ کاری حاصل کرنا چاہتا ہے۔

فورم سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ اگر ملک میں ہی معدنیات کی ویلیو ایڈیشن کی جائے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، اور اس مقصد کے لیے چین کی شراکت انتہائی اہم ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ ’ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستان کی معدنی برآمدات اس دہائی میں سالانہ چھ سے آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف معدنی پراسیسنگ پلانٹس، سملٹرز اور ریفائننگ سہولیات قائم کرنا ہے، اور اس ضمن میں چین کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول، ’پاکستان کی معدنی معیشت کی تبدیلی سٹریٹجک شراکت داروں کے بغیر ممکن نہیں اور اس حوالے سے چین کا کردار کلیدی ہے۔‘

احسن اقبال نے معدنی شعبے کی ترقی کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے سے بھی جوڑا، اور کہا کہ اس مرحلے کا مقصد انفراسٹرکچر کی رابطہ کاری کو پیداوار، برآمدات اور روزگار میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کا تحفظ حکومت کی اولین قومی ترجیح ہے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے وزیر قیصر احمد شیخ نے فورم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین معدنی شعبے سمیت مجموعی اقتصادی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں، اور کاروبار سے کاروبار (B2B) روابط میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اے پی پی کے مطابق انہوں نے بتایا کہ صرف ستمبر 2025 میں 300 سے زائد پاکستانی کمپنیاں چین گئیں اور پاکستان–چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس میں 167 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جن پر عملدرآمد کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ کام کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے چینی کمپنیوں کو 8 اور 9 اپریل 2026 کو منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ اے پی پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ فورم پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور منصوبوں کے سرپرستوں کے ساتھ منظم مشاورت کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نایاب معدنیات، تانبے کی اسملٹنگ اور ریفائننگ میں چین کا تجربہ پاکستان کے لیے اہم مثال ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب توانائی کی منتقلی کے باعث اہم معدنیات کی عالمی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان چین کے تعاون سے خود کو عالمی معدنی سپلائی چین میں ایک طویل المدتی شراکت دار کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

اس سرمایہ کاری سے خام معدنیات کی برآمد کے بجائے ویلیو ایڈیشن، پراسیسنگ اور برآمدی بنیادوں پر صنعتی کلسٹرز کے قیام کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ معدنیات کی کان کنی کو طویل المدتی معاشی ترقی کا ایک اہم ستون بنایا جا سکے۔

وفاقی وزرا نے کہا کہ حکومت کی ترجیح خام معدنیات کی برآمد سے آگے بڑھ کر پراسیسنگ پلانٹس، سملٹرز اور معدنی بنیادوں پر صنعتی کلسٹرز قائم کرنا ہے، جو خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) سے منسلک ہوں گے۔

پاکستان میں تانبہ، سونا، کوئلہ اور دیگر اہم معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں، تاہم محدود انفراسٹرکچر، پیچیدہ ضوابط اور ڈاؤن سٹریم پراسیسنگ کی کمی کے باعث یہ شعبہ طویل عرصے سے اپنی مکمل صلاحیت سے محروم رہا ہے۔ حکومت نے وسیع تر معاشی اصلاحات کے تناظر میں کان کنی کو زرمبادلہ اور صنعتی ترقی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر شناخت کیا ہے۔

اس حکمت عملی کا مرکزی منصوبہ بلوچستان میں واقع ریکوڈک کا تانبہ اور سونے کا منصوبہ ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پاکستان کو عالمی معدنی سپلائی چین میں شامل کرنے کا ایک اہم امتحان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان