ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ: پاکستانی بارڈر مارکیٹس کی صورت حال

بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان، پنجگور، چاغی، گبد، جیونی، مند اور بلو ایسے علاقوں میں شامل ہیں جہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار ایران سے آنے والی اشیا پر ہے۔

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایران سے ملحق بلوچستان پر معاشی اعتبار سے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بارڈر کی بندش اور ترسیلی نظام متاثر ہونے سے صوبے میں پٹرول، ایل این جی گیس اور دیگر اشیاء خوردونوش کی کمی آنے کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔

بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان، پنجگور، چاغی، گبد، جیونی، مند اور بلو ایسے علاقوں میں شامل ہیں جہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار ایران سے آنے والی اشیاء پر ہے۔ سرحد سے منسلک علاقوں میں بھی اشیاء خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء میں نمایاں کمی آئی ہے۔

تفتان کے مقامی صحافی نعمت اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تفتان پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا اہم پوائنٹ ہے۔ اسی پوائنٹ سے دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ تر تجارت ہوتی ہے۔ جب سے ایران پر حملہ ہوا ہے اس کے بعد دو طرفہ تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستانی تاجروں نے واپس پاکستان کا رخ کر لیا ہے اور فی الحال انہوں نے اپنا کاروبار روک دیا ہے۔ اسی طرح ایرانی تاجروں نے بھی اپنی کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کو دو ہفتوں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور ہر نئے دن کے ساتھ تجارت میں بھی کمی آ رہی ہے۔ البتہ بعض لوگ ایران سے پٹرول اور کچھ خوردنی اشیاء سمگل کر کے پاکستان لاتے ہیں جن کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اس میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایران سے آنے والے تیل، گیس اور دیگر اشیاء خوردونوش کی کمی اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقامی تاجروں اور صارفین سے بات کی، جنہوں نے صورتحال پر مایوسی اور تشویش کا اظہار کیا۔

کوئٹہ میں ڈرائی فروٹ کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر محمد فاروق نے بتایا کہ میری دکان میں موجود ڈرائی فروٹ اور دیگر اشیاء ایران سے آتی ہیں۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے ہمارے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایران سے آنے والی اشیاء کی ترسیل میں کمی آ گئی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ پستہ کی ایک کلو قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ چاکلیٹ کے ایک کارٹن کی قیمت میں ہزار روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک صارف فیض اللہ ترین کا کہنا تھا کہ محلے میں ایک چھوٹی سی دکان ہے جہاں ایرانی سامان فروخت ہوتا ہے۔ ایران پر حملے کے بعد ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب میں انہیں خریدنے سے قاصر ہوں۔

کاسمیٹکس کے کاروبار سے منسلک حبیب اللہ نے بتایا کہ جنگ کی وجہ سے سامان کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ عید کا موقع ہے لیکن ہمارے پاس ایران سے آنے والے کاسمیٹکس کے سامان کی کمی ہے جس کی وجہ سے خریدار خریداری کیے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔

ایل پی جی گیس کے کاروبار سے منسلک عنایت اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جنگ کے باعث گیس کی سپلائی میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں 40 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ گیس مہنگی ہونے کی وجہ سے خریداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ایک صارف محمد ظریف نے بتایا کہ پاکستانی پٹرول کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس کی خرید عام شہری کی بس سے باہر ہو گئی ہے۔ بلوچستان اور خاص کر کوئٹہ میں ایرانی پٹرول آدھی قیمت پر مل رہا تھا۔ ایران پر حملے کے بعد نہ صرف سپلائی متاثر ہوئی بلکہ قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور اب ایرانی تیل بھی 250 روپے فی لیٹر تک مل رہا ہے۔ اگر جنگ رکے گی تو شاید قیمتیں اپنی اصل سطح پر آ جائیں جس کا ہمیں انتظار ہے۔

بلوچستان کے عوام کی زندگی کا دارومدار ایران اور افغانستان سے آنے والے سامان پر ہے۔ افغانستان کا پاکستان کے ساتھ بارڈر ایک سال سے زائد عرصے سے بند ہے اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط فی الحال تقریباً منقطع ہیں۔ جبکہ ایران کے ساتھ تجارت سے ملک اور خاص طور پر بلوچستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد نہ صرف کاروباری طور پر وابستہ تھی بلکہ سرحدی اور شہری علاقوں میں عام لوگ بھی اشیاء خوردونوش سے مستفید ہو رہے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان