چین کے تعاون سے تیار کردہ پہلی ہنگور کلاس آبدوز جمعرات کو پاکستان بحریہ کے بیڑے میں شامل کر دی گئی، جسے پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان بحریہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس حوالے سے چین کے شہر سانیہ میں تقریب منعقد ہوئی جس میں صدر آصف علی زرداری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ پاکستان بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف بھی موجود تھے۔
صدر زرداری نے تقریب سے خطاب میں اسے پاکستان نیوی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک ’تاریخی سنگ میل‘ قرار دیا۔
پنگور آبدوز کیا ہے اور پاکستان کے لیے یہ کتنی اہم ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ریئر ایڈمرل (ر) اور دفاعی امور کے تجزیہ کار فیصل شاہ سے خصوصی گفتگو کی، جنہوں نے بتایا کہ یہ جدید آبدوزیں ’دفاعی اور جارحانہ‘ دونوں نوعیت کے کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ ’ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون کا اہم منصوبہ ہیں، جس میں پاکستان مجموعی طور پر آٹھ آبدوزیں حاصل کرے گا، جن میں سے چار چین میں تیار ہوں گی جبکہ چار پاکستان میں بنائی جائیں گی۔
فیصل شاہ کے مطابق: ’اس منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے، جس کے تحت پاکستان کو نہ صرف آبدوزیں ملیں گی بلکہ انہیں بنانے اور مستقبل میں اپ گریڈ کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہوگی۔ جس کے ذریعے پاکستان مستقبل میں ایسے پلیٹ فارمز بنانے، اپ گریڈ کرنے اور اپنی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کرے گا۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’یہ پیش رفت پاکستان کی صنعتی بنیاد اور دفاعی پیداوار کے شعبے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔‘
ریئر ایڈمرل (ر) فیصل شاہ نے بتایا کہ ہنگور کلاس آبدوزیں آبدوزیں دفاعی اور جارحانہ دونوں نوعیت کے کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ دشمن کی بحری نقل و حرکت کی نگرانی، حساس سمندری راستوں پر موجودگی اور انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’یہ آبدوزیں جدید ہتھیاروں، سینسرز اور جدید نظام سے لیس ہوں گی۔ ان آبدوزوں میں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم موجود ہوگا، جس کی مدد سے آبدوز زیادہ عرصے تک پانی کے اندر رہ سکتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان نیوی کے بیڑے میں آٹھ جدید آبدوزیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس سے زیرِ آب دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
’ہنگور‘ نام کیوں رکھا گیا؟
فیصل شاہ کے مطابق ہنگور کلاس کا نام پاکستان نیوی کی 1971 کی جنگ میں خدمات انجام دینے والی مشہور آبدوز ’پی این ایس ہنگور‘ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی این ایس ہنگور نے جنگ کے دوران انڈین بحری جہاز ’کھکری‘ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے باعث یہ نام پاکستان نیوی کی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
ریئر ایڈمرل (ر) فیصل شاہ کے بقول: ’یہ آبدوزیں آج کے لیے نہیں، آنے والے برسوں کے لیے حاصل کی جا رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی بحری صلاحیت، دفاعی تیاری اور مستقبل کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں۔‘