’20 منٹ کا خوفناک تجربہ‘: اے آئی کی مدد سے آواز کی نقل پر مبنی فراڈز میں اضافہ

امریکی خاتون لز بینز اپنے صوفے سے اس وقت چونک کر اٹھیں، جب انہیں ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ لائن پر ایک شخص تھا جو ان کے بیٹے فریڈ جیسی آواز میں رو رہا تھا اور مدد مانگ رہا تھا۔

تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت نے سائبر مجرموں کو حقیقت کے انتہائی قریب آواز کی نقل بنانے والے ٹولز فراہم کر دیے ہیں، جن کے ذریعے وہ لوگوں کے پیاروں کی آوازیں نقل کر کے ان سے رقم ہتھیا سکتے ہیں (فائل/ اینواتو)

لز بینز اب بھی یقین رکھتی ہیں کہ انہیں آنے والی فون کال میں پریشان حال آواز ان کے بیٹے کی تھی۔ لہجہ، ادائیگی اور بولنے کا انداز سب ان کے 16 سالہ بیٹے سے مکمل طور پر میل کھا رہے تھے۔

لیکن درحقیقت وہ ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی نقل تھی، جس نے امریکی خاتون کو بڑھتے ہوئے جعل سازی کے ایک نئے سلسلے کا تازہ شکار بنا دیا۔

تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے حقیقت اور فریب کے درمیان سرحدیں مٹا دی ہیں اور سائبر مجرموں کو انتہائی حقیقت کے قریب آواز کی نقل بنانے والے ٹولز فراہم کر دیے ہیں، جن کے ذریعے وہ لوگوں کے پیاروں کی آوازیں نقل کر کے ان سے رقم ہتھیا سکتے ہیں۔

بفیلو سے تعلق رکھنے والی لز بینز اپنے صوفے سے اس وقت چونک کر اٹھیں، جب انہیں ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ لائن پر ایک شخص تھا جو ان کے بیٹے فریڈ جیسی آواز میں رو رہا تھا اور مدد مانگ رہا تھا۔

انہیں بتایا گیا کہ فریڈ کے دوست کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے اور ان کا بیٹا، جو اس وقت مقامی فٹ بال میچ میں شریک تھا، کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

چھ بچوں کی 46 سالہ انشورنس بروکر اور ماں لز بینز کو کہا گیا کہ وہ قریبی وال مارٹ جا کر نقد رقم پہنچائیں تاکہ اس شخص کو پیسے دیے جا سکیں، جنہوں نے ان کے بیٹے کو قید کر رکھا ہے۔

بعد ازاں فریڈ کی ایک سیلفی، جس میں وہ میچ کے دوران مسکرا رہا تھا، انہیں حقیقت کی طرف واپس لائی اور انہیں سمجھ آئی کہ یہ ایک منظم فراڈ تھا۔

لز بینز نے اے ایف پی کو کانپتی ہوئی آواز میں بتایا: ’کوئی چیز مجھے اس بات کے لیے تیار نہیں کر سکتی تھی کہ میں اپنے بیٹے کی آواز سنوں اور اس بات پر قائل نہ ہوں کہ یہ فراڈ ہے جب تک کہ میں نے اپنے بیٹے کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ تقریباً 20 منٹ کا خوفناک تجربہ تھا۔‘

’اب کوئی بھی یہ کر سکتا ہے‘

امریکی حکام اور صارفین کے حقوق کے ماہرین مسلسل ایسے فراڈز کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں، جن میں خاندان کے افراد کی نقل کی جاتی ہے۔

ایف بی آئی نے اپریل میں کہا تھا کہ گذشتہ سال امریکی شہریوں نے اے آئی سے چلنے والے دھوکہ دہی کے واقعات میں 893 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا، جن میں آواز کی نقل پر مبنی فراڈ بھی شامل ہیں۔

سادہ انٹرنیٹ سرچ کے ذریعے آواز کی نقل بنانے والی متعدد ایپس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، جن میں سے کئی مفت دستیاب ہیں اور صرف چند سیکنڈ کی اصل آواز سے حقیقت کے قریب نقل تیار کر لیتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے آئی فراڈ سے بچاؤ کی تربیت فراہم کرنے والی ’ایڈاپٹو سکیورٹی‘ کے چیف ایگزیکٹو برائن لانگ نے کہا: ’پہلے یہ چیزیں بنانا کچھ مشکل تھا۔ اب کوئی بھی اسے چند سیکنڈ میں کر سکتا ہے۔‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتای: ’ایک شخص ایک کمرے میں بیٹھ کر اور کی بورڈ کے ذریعے لاتعداد حملہ آور بنا سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق اے آئی ٹولز سوشل میڈیا یا وائس میل سے حاصل شدہ مختصر آڈیو کے کلپس سے مکمل سکرپٹس بھی تیار کر سکتے ہیں۔

لز بینز کا واقعہ ایک مانوس طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ جذباتی دباؤ سے بھرپور کال جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کوئی قریبی عزیز مشکل میں ہے، گرفتار ہو گیا ہے، حادثے کا شکار ہوا ہے یا کسی جرم میں پھنس گیا ہے اور اسے فوری پیسے کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد دھوکہ باز مزید دباؤ بڑھاتے ہیں اور وکیل، عدالت کے کلرک یا بینک ملازمین کی آوازوں کی نقل کر کے صورت حال کو مزید خوفناک اور فوری بنا دیتے ہیں۔

’پریشان آواز‘

خاندانی ایمرجنسی پر مبنی زیادہ تر فراڈز میں مکمل درست آواز کی نقل بھی ضروری نہیں ہوتی۔

پنڈروپ نامی سائبر سکیورٹی کمپنی کے نائب صدر برائے پروڈکٹ مینجمنٹ امیت گپتا نے اے ایف پی کو بتایا: ’ایک پریشان آواز جس میں کہا جائے کہ ’ماں، میری مدد کریں‘ یا ’ابو، میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے‘ صرف چند سیکنڈ کے لیے قابلِ یقین ہونا کافی ہوتا ہے۔‘

بقول امیت گپتا: ’اصل مقصد مکمل آواز کی نقل نہیں ہوتا۔ مقصد اتنا جذباتی دباؤ اور بے یقینی پیدا کرنا ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص تصدیق کیے بغیر ہی عمل کر لے۔‘

اپنی کہانی منظر عام پر آنے کے بعد لز بینز کے مطابق انہیں دیگر متاثرین کے پیغامات کی بھرمار موصول ہوئی، جن میں سے کئی نے شرمندگی کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔

بزرگ افراد خاص طور پر ان فراڈز کا آسان ہدف ہوتے ہیں، اور ماہرین ’دادا دادی فراڈ‘ کے بڑھتے ہوئے واقعات سے خبردار کر رہے ہیں۔

ایف بی آئی کے مطابق 60 سال سے زائد عمر کے امریکیوں نے گذشتہ سال 7.7 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان رپورٹ کیا، جو 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

فلاڈیلفیا کے وکیل گیری شلڈہورن، جنہوں نے 2020 میں اسی طرح کے فراڈ کا سامنا کیا تھا، نے کہا: ’یہ پیشہ ور لوگ ہوتے ہیں اور جب یہ کسی کو فون پر لیتے ہیں تو وہ شوقیہ افراد سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔‘

لز بینز کی طرح انہوں نے بھی عوامی آگاہی کے لیے ایڈاپٹو سکیورٹی کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

2023  میں شلڈہورن نے امریکی سینیٹ کے سامنے اپنے تجربے کے بارے میں گواہی دی، جس میں ان کے بیٹے بریٹ کی آواز کی نقل کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اسے نشے میں ڈرائیونگ کے بعد ضمانت کے لیے رقم درکار ہے۔

یہ کال سن کر شلڈہورن، جو اب 73 سال کے ہیں، فوراً بینک کی طرف روانہ ہو گئے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’جب میں بینک پہنچا تو میرے فون پر کال آئی۔ دوسری طرف میرا بیٹا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا: ’آپ کے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔‘

شلڈہورن کے مطابق: ’میں نے کہا، بریٹ میں اپنی قبر تک قسم کھا کر کہوں گا کہ وہ تمہاری آواز تھی، تمہارا اندازِ گفتگو تھا، تمہارے الفاظ تھے۔ لہجہ بنایا نہیں گیا تھا۔ وہ تم ہی تھے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی