ٹانک چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں 14 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد جان سے گئے

آئی ایس پی آر کی طرف سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق ٹانک میں واقع مشترکہ چیک پوسٹ پر دھماکے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 15 افراد جان سے گئے۔

19 جنوری 2014 کو بنوں میں سکیورٹی قافلے پر بم حملے کے بعد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار علاقے کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں (اے ایف پی / کریم اللہ)

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق ٹانک میں واقع مشترکہ چیک پوسٹ پر دھماکے کے نتیجے میں 14 سکیورٹی اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 15 افراد جان سے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں 12 عسکریت پسند مارے گئے۔ 

بیان کے مطابق جان سے جانے والوں میں میں 12 فوجی اہلکار، دو پولیس اہلکار اور ایک محکمہ جنگلات کا ریٹائرڈ سرکاری اہلکار شامل ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ جوابی کارروائی میں 12 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’علاقے میں ’انڈیا کے سپانسٹرڈ‘ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔‘

ٹانک پولیس کے ترجمان ابراہیم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ رات بارود سے بھری گاڑی مانجھی خیل چیک پوسٹ کی عمارت سے ٹکرائی گئی، جس سے عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔

ابراہیم خان نے بتایا: ’اب تک کی تفصیلات کے مطابق دو پولیس اہلکار جان سے گئے ہیں اور سات زخمی پولیس اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔‘

خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق پولیس لائن ٹانک میں گذشتہ شب مانجھی خیل چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں جان سے جانے والے پولیس کانسٹیبل بلال خان، کانسٹیبل طلا محمد اور محکمہ جنگلات کے فارسٹ گارڈ نور اعظم کی نمازِ جنازہ مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد عسکریت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری تھا اور فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کے مطابق تین حملہ آوروں کو مار دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ٹانک کی مصروف شاہراہوں پر صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک گاڑیوں کی نقل و حرکت بند رہے گی جبکہ رانول بازار بھی مکمل بند رہے گی۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں گذشتہ کچھ عرصے سے حالات مخدوش ہیں۔ ٹانک بھی ان اضلاع میں شامل ہے، جہاں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں بنوں اور لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کا ٹارگٹڈ آپریشن بھی جاری ہے۔

بنوں میں گذشتہ سات روز سے پولیس کے مطابق بکاخیل اور میریان تحصیل کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس میں مختلف کارروائیوں میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ٹارگٹڈ آپریشن کی وجہ سے علاقے میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل سگنلز بھی بند ہیں جبکہ بازاروں میں رش نہ ہونے کے برابر ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان