سات سابق آسٹریلوی کرکٹ کپتانوں نے اپنی وزیر خارجہ پینی وونگ کو لکھے گئے ایک خط میں پاکستان کے سابق وزیراعظم اور سابق کرکٹر عمران خان کی حراست پر انسانی بنیادوں سے متعلق خدشات اٹھانے پر زور دیا ہے۔
73 سالہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے 100 سے زائد قانونی مقدمات کا سامنا ہے، جن میں رشوت، ریاستی راز افشا کرنے اور سرکاری تحائف غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
ان کی زیادہ تر سزائیں ختم یا معطل ہو چکی ہیں، جبکہ عمران خان نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے۔
سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق وزیر خارجہ پینی وونگ کو بھیجے گئے خط پر دستخط کرنے والوں میں ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کم ہیوز، مارک ٹیلر اور سٹیو وا شامل ہیں، جنہوں نے زور دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر پاکستانی حکومت کے سامنے تشویش کا اظہار کریں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ عمران خان حراست کے دوران جان سے جا سکتے ہیں۔
سابق کپتانوں نے’سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق کپتانوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں، جنہیں آواز اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خط میں ’گروپ نے واضح کیا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف قانونی یا سیاسی مقدمے پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کر رہا‘ اور اسے مکمل طور پر پاکستان کا معاملہ قرار دیا ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ان کی تشویش حراست میں موجود کسی بھی شخص کے ساتھ برتاؤ سے متعلق ہے اور یہ ’انسانیت کا بنیادی معاملہ ہے، خواہ اس شخص کی سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو۔‘
یہ عمران خان کے حق میں معروف سابق کرکٹرز کی جانب سے تازہ ترین اپیل ہے۔ عمران خان پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان اور سابق وزیر اعظم ہیں۔
اس سے قبل دنیا بھر کے 22 سابق کپتانوں نے 23 اگست کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
عمران خان کے حق میں سب سے پہلا خط رواں برس فروری میں سامنے آیا تھا، جس پر 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے دستخط کیے تھے۔
اس کے بعد سابق پاکستانی کرکٹرز جاوید میانداد، وسیم اکرم اور معین خان نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی جبکہ موجودہ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے بھی اس معاملے پر بات کی ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ عمران کو ’سزا کے طور پر قید تنہائی، ظلم یا محرومی‘ کا سامنا ہے۔
بیان میں کہا گیا: ’ان کی قید مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں ہوئی ہے اور انہیں پاکستانی قوانین کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔‘