ہمارے ملک میں سانحے تو جیسے معمول بن گئے ہیں۔ ایک ناگہانی آفت کے زخم مندمل نہیں ہوتے کہ دوسرا رونما ہو جاتا ہے۔ ابھی تو سانحہ گل پلازہ کے شعلوں کی تپش باقی تھی کہ اچانک سانحہ پمز نے جنم لے لیا۔
وہ مائیں جو دن گن رہی تھیں کہ کب ان کے لعل اس دنیا میں آنکھ کھولیں گے، کب وہ انہیں اپنی گود میں کھلائیں گی، کب ان کے بچوں کے لاڈ اٹھائیں گی اور کب ان کی معصوم کلاکاریوں سے محظوظ ہوں گی، مگر یہ کیا! یہ انتظار تو آگ میں راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ کس نے سوچا تھا کہ ماؤں کو اپنے بچوں کی جگہ سوختہ لاشے ملیں گے؟ یہ تو تصور کرنا بھی محال تھا۔
پمز کی نرسری میں لگنے والی بے رحم آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے چودہ معصوم بچوں کی زندگی کے چراغ گل کر دیے۔ معصوم بچوں کے والدین پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی۔ وہ جن گالوں پر بوسے دینا چاہتے تھے، انہیں آتش زدگی نے بھسم کر کے رکھ دیا۔ وہ پھول سے بچے منٹوں میں جل کر کوئلہ بن گئے۔ اتنے بڑے سانحے نے معصوم بچوں کے والدین کے دل چیر کر رکھ دیے۔
وزیرِ صحت نے تو جیسے عہدہ نہ چھوڑنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سانحہ گل پلازہ پر کوئی مستعفی نہیں ہوا تو میں کیوں وزارت سے دستبردار ہوں؟ دوسری جانب ان کے مخالفین بھی میدان میں اتر چکے ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے الگ صوبے کے مطالبے کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جن سے ایک ہسپتال نہیں سنبھالا جا رہا، وہ کس منہ سے کراچی کو صوبے کی شکل میں دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں؟
اس رسہ کشی میں متاثرہ والدین کی سسکیوں کی صدا دبائی جا رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ شہرِ اقتدار، جہاں پورے ملک کے فیصلے ہوتے ہیں، جہاں عوامی نمائندوں کا چناؤ ہوتا ہے، جہاں غیر ملکی مہمان تشریف لاتے ہیں، جو ملک کا دارالخلافہ ہے، وہاں کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں اس طرح کی آگ لگنا مجرمانہ غفلت نہیں تو اور کیا ہے؟
سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین چودہ سال سے انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ گل پلازہ کی آگ کے ذمہ داروں کو بھی تاحال کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا۔
ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید ایسے نقصانات سے بچنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اٹھائے جانے چاہییں تھے، مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔
دبئی میں اتنی ترقی ہو چکی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور روبوٹس کی مدد سے بڑے سے بڑے آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں وہی فرسودہ نظام قائم و دائم ہے۔ فائر بریگیڈ وقت پر نہیں پہنچتی۔ ہنگامی حالات میں متاثرہ مقامات کے اخراج کے راستے ہی بند ہوتے ہیں۔
گل پلازہ میں بھی یہی ہوا تھا۔ پلازہ میں محصور افراد جان بچانے کے لیے اخراج کے راستوں کے متلاشی تھے، مگر بیشتر راستے بند تھے۔ انخلا کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ لوگ بے بسی کے عالم میں پکار رہے تھے، مگر خطرناک آگ کے شعلوں نے ان آوازوں کا گلا گھونٹ دیا۔
سانحہ پمز میں بھی یہ ہی کچھ ہوا، جہاں ہنگامی اخراج کے راستوں پر لگے تالے اس گلے سڑے نظام کی داستان سنا رہے تھے۔ ایسے حالات میں بچوں کو باہر نکالنا ناممکن ہو گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تب بھی مذمتیں خوب کی گئیں۔ سیاست دانوں نے ایک دوسرے پر لفظی وار کیے۔ تحقیقاتی کمیٹیاں بنیں، مگر عملی طور پر ایسے حادثات سے نمٹنے کی کوئی مؤثر حکمتِ عملی تشکیل نہیں دی گئی۔
سرکاری ہسپتالوں میں یہ پہلا اس طرح کا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل ساہیوال کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی کے باعث 2024 میں سات بچے جھلس گئے تھے۔ تب بھی وارڈ سے نکلنے کے راستے فعال نہیں تھے۔
یہ وہی شہر ہے جو عالمی سطح کا مرکز ہے۔ جہاں اہم بین الاقوامی مذاکرات کی میز سجتی ہے، جہاں غیر ملکی مہمان آتے ہیں، جہاں عالمی اور علاقائی مسائل پر حکام سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، جہاں آئے روز غیر ملکی حکام اور سفارتی شخصیات کی آمد و رفت رہتی ہے، مگر اسی شہر میں عوام اور املاک کو آگ سے بچانے کے لیے فرسودہ نظام موجود ہے۔
یہ محض غفلت نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ذمہ دار اداروں اور حکام کو دینا ہوگا۔
آخر کب تک؟
افسوس! ہمارے ہاں ہر سانحے کے بعد آنکھیں کھلتی ہیں، آنسو بہتے ہیں، مذمتیں ہوتی ہیں، نوٹس لیے جاتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔
ہمیں صرف سانحوں پر ماتم نہیں کرنا، سانحوں کو روکنا بھی سیکھنا ہوگا۔
ورنہ سانحے پہ سانحہ ہوتا رہے گا،
اور ہم ہر بار نئی قبروں، نئے آنسوؤں اور نئے بیانات کے ساتھ ایک اور سانحے کا انتظار کرتے رہیں گے۔
