نائن زیرو: دہشت کدہ سے وحشت زدہ

الطاف حسین کے لگ بھگ سارے سیاسی ساتھی ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ پارٹی دھڑے بندی اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔

23 جولائی 2018 کی اس تصویر میں متحدہ قومی موومنٹ  کے ایک حامی نے  سر پر پارٹی پرچم لگا رکھے ہیں (آصف حسن/ اے ایف پی)

ایک طویل عرصہ کے بعد کراچی کے علاقہ عزیز آباد جانا ہوا۔ مڈل کلاس اور زیادہ تر اردو بولنے والوں کی آبادی ہے۔ کسی زمانہ میں یہاں ملک کی لسانی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

تنگ گلیوں کے بیچ ایک چھوٹا مکان جو پارٹی کے بانی الطاف حسین کی رہائش گاہ تھی۔

 رہنما ہوں یا پارٹی کارکن اس کو مرکز اور عام طور پر ’نائن زیرو‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ نام الطاف حسین کے مکان کے ٹیلیفون نمبر کے آخری دو اعداد 90 پر رکھا گیا۔

اسی کی دہائی میں ایم کیو ایم کی بنیاد بھی اسی مکان میں رکھی گئی۔ چار دہائیوں پر محیط ’مہاجر‘ سیاست کے عروج اور زوال میں ’نائن زیرو‘ کو نیوکلس کی اہمیت حاصل رہی۔

انتخابات میں کامیابی کے جشن ہوں یا پارٹی کی مبینہ دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن یا رینجرز اور پولیس کے کریک ڈاؤن یا بانی الطاف حسین کی لندن میں خود ساختہ جلاوطنی، ایم کیو ایم کی سیاست کا محور نائن زیرو ہی رہا۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ارد گرد کے مکان، اور سامنے کا جناح گراونڈ جہاں کبھی نوجوانی میں ہم نے کرکٹ میچز کھیلے وہ بھی پارٹی کے جلسہ گاہ میں تبدیل ہو گیا۔

نائن زیرو کے عقب والی عمارت الطاف حسین کی والدہ بیگم خورشید کے نام پر رکھی گئی۔ کچھ ہی فاصلہ پر مکا چوک کے نام سے مشہور چوراہا تھا۔ ایم کیو ایم کے چاہنے والوں کے لیے طاقت کی نشانی اور دوسروں کے لیے دہشت کی علامت۔

 اسی چوک سے نائن زیرو کا راستہ گزرتا تھا، ہر طرف رکاوٹیں کھڑی رہتیں۔ عروج کے زمانہ میں 24 گھنٹے ارد گرد ہتھیار سے لیس نوجوانوں کا پہرا ہوتا۔  آنے جانے والوں کی تلاشی ہوتی۔ مشکل وقتوں میں ہتھیاروں کی سر عام نمائش کی بجائے نوجوان گاڑیوں میں پہرا دیتے نظر آتے۔ روزانہ ہزاروں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔

اب یہاں سیاسی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ چوک پر دھات سے بنا مکا ٹوٹا ہوا ہے۔ لگتا ہے جیسے اس پر کاری ضرب لگا کر توڑا گیا ہوا۔ نہ رکاوٹیں ہیں اور نہ ہی خود کار ہتھیاروں سے لیس کارکن۔ چوراہے کے قریب گاڑیوں کا ایک مکینک محمد ارشد کام میں مصروف تھا۔

میں نے پوچھا یہ ویرانیاں کیسی ہیں؟ گاڑی کی مرمت جاری رکھتے ہوئے جواب دیا: ’میں اسی گیراج میں 40 برس سے ہوں۔ لڑکپن سے بزرگی میں داخل ہو گیا ہوں۔ ایم کیو ایم کی رونقیں دیکھی ہیں اور سیاسی طاقت بھی۔ اب صرف خالی تماشا ہے۔‘

نائن زیرو کا راستہ علاقے کے رہائشیوں سے ان کے تاثرات جاننے کے لیے جان بوجھ کے پوچھا۔ ادھیڑ عمر لوگوں نے ایم کیو ایم کے بانی کو ’الطاف بھائی‘ کہا جبکہ نوجوانوں نے صرف ’الطاف‘ پکارا۔

احساس ہوا وہ نوجوان جنہوں نے نہ الطاف حسین کو کبھی دیکھا اور نہ ہی کسی تحریک میں حصہ لیا ان کی پارٹی کے بانی سے وہ وابستگی نہیں جو غالبا ان کے بڑوں کی رہی ہو گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب نائن زیرو کی گلی میں داخل ہوئے تو سناٹا چھایا ہوا تھا۔ نہ ہی ایم کیو ایم کے ترانے ’مظلوموں کا ساتھی ہے‘ کی گونج تھی۔ نہ ہی پارٹی کے پرچم لہرا رہے تھے اور نہ دیواروں پر الطاف حسین کی حمایت میں ’منزل نہیں رہنما چاہیے‘ جیسے نعرے لکھے نظر آ رہے تھے۔

مکانوں کی قطار کے بیچ ایک کھنڈرات نما سی عمارت تھی۔ جگہ جگہ سے ٹوٹی پھوٹی، اوپر والی منزل پر دھوئیں کے گہرے کالے نشان، ادھڑی ہوئی دیواریں، چھت سے بڑی مشکل سے جڑا ہوا پنکھا۔ سامنے دو سیکورٹی اہلکاروں کا 24 گھنٹے پہرا۔ جب اہلکار سے پوچھا خالی تباہ شدہ عمارت کی سیکورٹی کیوں؟ تو جواب ملا: ’کہیں دوبارہ زندہ نہ ہو جائے۔‘ عمارت کی خستہ حالت شاید دھڑوں میں تقسیم شدہ ایم کیو ایم اور اس کی موجودہ کمزور سیاسی ساکھ کی عکاسی کر رہی ہے۔  قریب جناح گراؤنڈ جہاں ہزاروں کے مجمعے ہوتے تھے، خاموشی چھائی تھی۔

ایم کیو ایم کے مرکز یا نائن زیرو اور ارد گرد کی عمارات اور جناح گراؤنڈ میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی 2016 میں الطاف حسین کی ملک مخالف متنازع تقریر کے بعد لگائی گئی، ورنہ اسی جناح گراؤنڈ پر ایک زمانے میں الطاف حسین کے لندن سے گھنٹوں طویل ٹیلی‌فونک خطاب ہوتے اور سٹیج پر پارٹی کے رہنما ’جی بھائی، جی بھائی‘ کہتے رہتے تھے۔

وہ بھی زمانہ دیکھا جب الطاف حسین بڑے سے بڑے مجمع کو ایک دو تین کی گنتی پر خاموش کرا کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے تھے۔  اسی جناح گراؤنڈ میں پارٹی کے قائد کی ایک سالگرہ منائی گئی تھی۔ کرین سے بھاری بھرکم کیک سٹیج پر رکھا گیا، الطاف حسین کے سر پر تاج اور ہاتھ میں تلوار دی گئی جس سے کیک کاٹا گیا۔

پارٹی کی بنیاد رکھنے سے مقبولیت کے حصول تک چند برس ہی میں الطاف حسین کی غیر معمولی شبیہ سیاسی منظر نامے پر ابھری۔ ایم کیو ایم کی پارلیمان میں حمایت حاصل کرنے کی خاطر نواز شریف اور بے نظیر بھٹو جیسی شخصیات الطاف حسین سے ملاقات کے لیے عزیز آباد آئیں۔ اور خان عبدالولی خان نے کراچی میں مہاجر پشتون لسانی فسادات کے خاتمہ کی خاطر ملاقات کی۔

ابتدا میں بڑی تعداد میں مہاجر نوجوانوں نے پارٹی کو سپورٹ کیا۔ جماعت نے عام کارکنوں کو اسمبلیوں میں منتخب کرایا اور ہمیشہ مذہبی انتہا پسندی اور طالبان کے مخالف پالیسی اپنائی۔ کراچی کی اقلیتی برادری ایم کیو ایم کی ان پالیسیوں کی وجہ سے حامی رہی ہے-

تاہم پارٹی کی بنیادوں میں لسانیت اور خون خرابہ کی آمیزش سے پارٹی کا سیاسی کردار مسخ ہی رہا۔ پریس کو بھی دہشت کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی نائن زیرو پر ایک صحافی کو پارٹی کی تقسیم پر لکھنے اور الطاف حسین سے تلخ سوال کرنے پر ہتھیار بند کارکنوں نے پریس کانفرنس سے نکال دیا تھا۔ اخباروں کے بنڈل نذر آتش کیے گئے۔ ٹی وی چینلز سے بھی رویہ یہ ہی رہا۔ رتی بھر تنقید برداشت نہ تھی۔ نیوز رومز میں دہشت تھی۔ جب پارٹی میں تقسیم ہوئی اور ایم کیو ایم حقیقی دھڑا بنا تو ’جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے‘ جیسے نعرے کراچی کی دیواروں پر نمودار ہوئے۔

آپس کی لڑائی میں کئی کارکن مارے گئے۔ ایم کیو ایم کے چیرمین عظیم طارق اور اہم رہنما ڈاکٹر عمران  کے قتل کے الزامات الطاف حسین  پر لگے جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔    

مجھے یاد ہے جب ایم کیو ایم کے خلاف 1992 میں فوجی آپریشن ہوا تو ہمارے انگریزی اخبار کے دفتر میں بحث تھی کہ کیا بی بی سی اور غیر ملکی میڈیا کے مراسلے لیے جائیں نہ نہیں؟ دہشت کی انتہا تھی۔

میں ان دنوں جونئیر رپورٹر تھا، ایڈیٹر سے اجازت لے کر شہر میں دن بھر فوجی آپریشن کی کوریج کی اور شام کو دفتر لوٹا۔ اگلے روز اخبار دیکھا۔ میری خبروں سے بھرا ہو تھا لیکن میرا نام کہیں نہیں تھا۔ ایڈیٹرز کو میری حفاظت مقصود تھی یا پھر ماضی کا خوف۔

ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن جاری رہے۔ سالہا سال کراچی شہر میں ہڑتالوں اور تشدد کا راج رہا۔ پولیس والوں اور سیاسی مخالفین کی بوری بند لاشیں ملیں وہیں جعلی پولیس مقابلوں میں مارے گئے ایم کیو ایم کے کارکنان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بھی ملیں۔

نائن زیرو پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی انتظام پارٹی کے بزرگوں نے تو کبھی خواتین نے سنبھالا۔ مجھے ان دنوں نائن زیرو کا انتظام سنبھالنے والی کارکن زاہدہ بیگم اور الطاف حسین کے پرانے خدمت گار حکیم جی کے کردار یاد ہیں۔

زاہدہ بیگم تو نائن زیرو کے اندر پڑے الطاف حسین کے استعمال شدہ صوفے اور تخت پر کسی کو بیٹھنے نہیں دیتی تھیں۔ اس امید پر کہ ایک دن پارٹی کے قائد کی واپسی ہو گی۔

واسع جلیل، جو ان دنوں خود امریکہ میں ہیں اور کافی عرصہ کے بعد الطاف حسین کی زیر قیادت والی ایم کیو ایم سے دوبارہ جڑ گئے ہیں، اب نائن زیرو کو غیرآباد کرنے اور پارٹی پر پابندی کو سازش گردانتے ہیں۔

میں نائین زیرو کی گلی سے نکل رہا تھا تو یادوں نے گھیر لیا۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں عمران خان کے ووٹرز کی بڑھتی تعداد الطاف حسین اور پارٹی کے لیے باعث پریشانی تھی۔ الطاف حسین نے غصیلی پریس کانفرنس کر ڈالی۔

ایم کیو ایم کو برسہا برس سے کور کرنے والی صحافی کرن خان اس رات نائن زیرو پر موجود تھیں۔ ’رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا۔ الطاف بھائی نتائج پر قیادت سے ناراض تھے۔ خاص طور پر تحریک انصاف کے بلے کو نائن زیرو والی گلی اور اطراف سے کیسے ووٹ پڑ گئے۔

اتنے طیش میں آئے کہ لڑکوں کو پارٹی رہنماؤں کو جوتے مارنے کا حکم دے ڈالا۔ ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ تمام صحافیوں کے فون چھین لیے گئے۔ لائیو کوریج کی گاڑیوں کے کنکشن نکال دیے گئے تاکہ ٹی وی چینلز پر کوئی مناظر نہ آ جائیں ۔‘

اس واقعہ کے بعد انیس قائم خانی اور مصطفی کمال جیسے سینیئر رہنما بدظن ہو کر ملک سے باہر چلے گئے۔ اور دو تین برس بعد واپسی پر ایک نئی جماعت کا اعلان کر دیا۔

الطاف حسین کے لگ بھگ سارے سیاسی ساتھی ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ پارٹی دھڑے بندی اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔

الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی ہے۔ ایک زمانے میں لاکھوں چاہنے والوں کو اپنی تقاریر سے سحر زدہ اور کارکنوں کے ذریعے ایک اشارہ سے کراچی کو لندن سے کنٹرول کرتے تھے۔ ایم کیو ایم اور نائن زیرو کا دہشت کدہ سے وحشت زدہ تک کا سفر شاید اب اختتام پزیر ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر