عالمی فلم فیسٹیول، کیا کشمیر میں بدلاؤ آئے گا؟

زندگی کی اتنی چہل پہل دیکھ کر لگتا ہے کہ کشمیر میں جیسے پوری دنیا آکر سما گئی ہے جو بقول بعض کشمیریوں کے کبھی کبھی غیرمعمولی بھی لگ رہا ہے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد 27 جون 2007 کو سری نگر میں ایک بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی / ارشاد خان)

چند سال پہلے تک انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اس بات کا تصور محال تھا کہ کوئی بیرونی تاجر، فلم ساز، کوہ پیما، ادیب، پالیسی ساز یا کھلاڑی وادی میں وارد ہو کر عالمی سطح کی محفلیں منعقد کرکے ڈل جھیل کا لطف اٹھائیں گے۔ جھیل کنارے عالمی فلمی فیسٹیول منعقد کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔

گذشتہ 30 برسوں کے پر آشوب حالات کے پیش نظر مقامی لوگوں کا سرشام گھروں میں قید رہنا معمول بن چکا تھا، زندگی ٹہر گئی تھی یا وقت کی سوئی سنتالیس کے بٹوارے میں کہیں اٹک گئی کہ چار نسلیں اس کے عذاب سے اب تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکی ہیں۔

بیشتر آبادی جینا ہی بھول گئی ہے۔

ماضی میں کشمیر میں بننے والی درجنوں فلموں کے خالق وادی آنے سے ڈرتے تھے حالانکہ دلیپ کمار، اجے ساہنی، پریکشت ساہنی سمیت کئی نامور فنکاروں کا مسکن یہ علاقہ رہا ہے۔ ’کشمیر کی کلی‘، ’کبھی کبھی‘، ’ہمالیہ سے اونچا‘ یا ’بجرنگ بھائی جان‘ وغیرہ جیسی فلموں میں وادی کے پر فضا مقامات کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔

کچھ عرصے سے وادی میں زبردست رونق لگی ہوئی ہے۔ عالمی کھلاڑیوں، تاجروں یا فلم سازوں کا میلہ لگا ہوا ہے، جن میں گو کہ مقامی لوگوں کی شرکت انتہائی قلیل ہوتی ہے پھر بھی زندگی کی اتنی چہل پہل دیکھ کر لگتا ہے کہ کشمیر میں جیسے پوری دنیا آکر سما گئی ہے جو بقول بعض کشمیریوں کے کبھی کبھی غیرمعمولی بھی لگ رہا ہے۔

ایک روزنامے کے ایڈیٹر کہتے ہیں: ’نارمل اور ایبنارمل میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے، پتہ نہیں جس زندگی میں اتنا ٹھہراؤ آگیا تھا، وہ ایبنارمل تھا یا پھر یہ جب زندگی صرف تیز دوڑیں لگا رہی ہیں؟‘

وادی میں چار روز پر مشتمل عالمی فلم فیسٹیول میں مقامی طلبہ کی اچھی خاصی تعداد کو شامل رکھا گیا تھا، جس میں 80 ملکوں کی 135 فلموں کو دکھایا گیا۔ اس سے قبل چنار بُک فیئر میں بھی مقامی سکولوں کی شرکت کو یقینی بنایا گیا تھا جن میں کتابیں پڑھنے کا شوق اُجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔

پہلی بار فیسٹیول میں وادی کی سکرینوں پر 60 سے زائد عالمی فلموں کی نمائش کی گئی۔ چند کشمیری فلمیں بھی سکرین کی زینت بنیں، جن میں بیشتر کشمیری پنڈتوں نے پروڈیوس کی ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے سائے میں ڈل کے کنارے واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل سینٹر فلمی ہستیوں کے لیے مخصوص رکھا گیا تھا۔

کشمیری نوجوانوں میں بے حد مقبول لیکن مہنگے بولی وڈ کے اداکاروں کی کمی کو شدید طور پر محسوس کیا گیا، جن میں شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان شامل ہیں۔

فیسٹیول کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا خوبصورت علاقہ فلم سازوں کے لیے موزوں ہے اور یہ فیسٹیول یہاں کی ثقافت، روایات اور داستانیں باقی دنیا میں متعارف کروانے میں سازگار ہوگا، لیکن افتتاحی تقریبات میں ’وندے ماترم‘ کا شامل کرنا اور اسے پورا بجانا کشمیری سیاست کا ایک نیا تنازع بھی بن گیا ہے۔ عمر عبداللہ کی سرکار پر اس کی حامی پارٹی مقامی کانگریس نے کئی سوالات اٹھائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برصغیر میں وندے ماترم ماضی میں فرقہ وارانہ فسادات اور تنازعات کا موجب رہا ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے اسے ہر مجلس کے آغاز میں بجانے کا حال ہی میں قانون نافذ کیا ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق ’رنگ سینیما‘ کے عنوان سے اس فیسٹیول کا مقصد کشمیر کو فلم سازی کا محور بنانا ہے، دوسرا یہاں کی سیاحت کو دنیا کے نقشے پر لاکر تفریح کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے نئی راہیں کھولنا ہے۔

فیسٹیول کا آغاز لبنانی فلم ’ڈیڈ ڈاگ‘ سے کیا گیا جبکہ نمائش کے لیے چند نئے سینیما گھروں کو مخصوص رکھا گیا تھا۔ تفریح کی دنیا سے وابستہ مقامی آرٹسٹوں نے اگرچہ اس اقدام کو سراہا ہے مگر کیا انہیں اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع ملے گا؟ بیشتر کو اس کی ذرا بھی امید نہیں ہے۔

بیشتر فنکاروں کو ریڈیو یا ٹیلی ویژن سے جو مواقع حاصل ہوا کرتے تھے وہ بھی اب مسدود کر دیے گئے ہیں کیونکہ انڈیا میں نجی تفریحی اداروں کی تعداد سے سرکار کے زیر نگران براڈکاسٹنگ کے اداروں کی افادیت نہ صرف ختم ہوچکی ہے بلکہ براڈکاسٹنگ سٹیشنز کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کا عمل جاری دکھائی دیتا ہے۔

آرٹسٹ رضوان (سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نام تبدیل کیا گیا ہے) کہتے ہیں کہ ’ان اداروں میں نہ تو ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے بجٹ مخصوص رکھا جاتا ہے اور نہ فلمیں یا ڈرامے بنانے کی اب کوئی روایات رہی ہے۔ ہر سال درجنوں ملازمین ریٹائر ہوتے ہیں، نئے ملازم نہیں لگائے جاتے، چند لوگ ہی بچے ہیں، وہ بھی ریٹائر ہونے والے ہیں، پھر یہ عمارتیں رہیں گی یا ان کی یادیں، ہمارے لیے سارے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور یہ جشن ہماری بے بسی پر طعنے مار رہے ہیں۔‘

ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ ہزاروں آرٹسٹوں کی صورت حال نا گفتہ بہ ہے اور بیشتر کے لیے اپنی روزی روٹی کمانا دشوار بن چکا ہے۔ مسلح تحریک کے دوران جموں و کشمیر میں سینیما اور تفریح کا تقریباً قلع قمع ہوچکا تھا تاہم چند نوجوان دوڑ دھوپ کرکے بولی وڈ میں قدم رکھنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

ابھی تک سرکاری طور پر ہزاروں آرٹسٹوں کی ذرا بھی مدد نہیں ہوئی ہے، جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ تھے۔

فلم فیسٹیول کا فائدہ غیر علاقائی باشندوں اور ان لوگوں کو ضرور پہنچ سکتا ہے جو بولی وڈ یا ہالی وڈ میں پہلے سے کام کرتے رہے ہوں۔

بقول ایک طالب علم ’ہمارے مسائل فلم فیسٹیول یا عالمی میلے کرنے سے حل نہیں ہوں گے، ہمیں روزگار چاہیے، اس پر تو تالے لگے ہوئے ہیں جبکہ ایسی عالمی محفلیں منعقد کرنے پر کروڑوں روپے صرف کیے جاتے ہیں۔ دس لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہیں، نجی سیکٹر میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ روزگار دے دے۔ وہ سکڑ رہا ہے۔ معاشی بدحالی فیسٹیول کرنے سے کیسے بدلے گی۔‘

عالمی ہستیوں کو کشمیر کی سیر پر لانا، خوبصورتی دکھانا ٹھیک ہے مگر اس خوبصورت وادی میں رہنے والے لاکھوں نوجوانوں کے لیے جب تک روزگار کی بہتر سبیلیں پیدا نہیں کی جاتی، نہ یہ فیسٹیول کچھ بدلاؤ لائیں گے اور نہ نارملسی کے پیچھے چھپی خاموشی توڑی جا سکے گی۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر