کشمیری: امن کے علمبردار

شاید ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب کے ساتھ ہیں یا پھر ہم ہر صحیح اور غلط بات کو اس کے میرٹ پر تولتے ہیں اور بجائے اپنے موقف یا نظریے کے صحیح بات کی تعریف کرتے ہیں۔

8 اپریل 2026 کو سری نگر میں امریکہ اور ایران کے دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامندی کے بعد شیعہ مسلمان ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا پوسٹر لے کر جشن منا رہے ہیں (اے ایف پی)

جس شہباز شریف کو کل تک عمران خان کی اسیری اور انتخابات چرانے کے الزام میں بیشتر کشمیری نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور پاکستان کی محبت میں کمی دکھا رہے تھے، اسی شہباز شریف کی تصویر اٹھائے ہجوم بہ آوازِ بلند کہہ رہے تھے کہ کشمیری نژاد نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یعنی شہباز شریف کو کشمیری بتا کر جنگ بندی کرانے کا سہرا خود اپنے سر باندھ رہے تھے۔

اسی لیے اس قوم کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کا بڑا قصور سوڈا واٹر جوش ہے جو ان کو بار بار لے ڈوبتا ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیا نے سولی پر چڑھایا تھا تو عوام نے ماتم کر کے جماعتیوں کے گھر جلا دیے تھے، پھر جنرل ضیا کی فضائی حادثے میں موت واقع ہوئی تو ہزاروں کی تعداد میں جلسے جلوسوں میں کئی روز تک مرثیہ پڑھ لیا گیا اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کو عوامی قہر کا سامنا کرنا پڑا۔

شاید ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب کے ساتھ ہیں یا پھر ہم ہر صحیح اور غلط بات کو اس کے میرٹ پر تولتے ہیں اور بجائے اپنے موقف یا نظریے کے صحیح بات کی تعریف کرتے ہیں۔

پاکستان کی تعریف بھی شاید آج میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ اگر اس وقت ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر سروے کیا جائے کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ خوشی کس کو ہوئی، تو میرے خیال میں اس فہرست میں کشمیری بھی شامل ہوں گے جو سات اور آٹھ اپریل کی رات کو برابر جاگ رہے تھے، کیوں کہ امریکی صدر نے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دے کر دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی نیند بھی اڑا دی تھی۔

دورانِ شب جب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا جنگ بندی سے متعلق پہلا بیان سامنے آیا تو بیشتر کشمیری جوق در جوق گھروں سے باہر آ گئے اور راحت کی سانس لے کر پاکستان کی تعریف کرنے لگے جن میں وہ لوگ بھی پیش پیش تھے جو پاکستان کے سخت ناقد مانے جاتے ہیں۔

کشمیر کے تقریباً ہر ضلع میں عوامی ہجوم ایرانی پرچم اٹھائے ہوئے ناچ رہے تھے، نعرے بلند کر رہے تھے اور ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے۔ کئی مقامات پر کافی عرصے کے بعد پٹاخے بھی پھوڑے گئے۔ یہ جذبہ جنون دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ ایران کی سرزمین کے ساتھ ثقافتی یا مذہبی رشتے کے علاوہ اور بھی کوئی رشتہ ہے کہ جس کا مظاہرہ ہر گلی کوچے پر ہو رہا تھا۔

ظاہر ہے کہ جنگ کے دوران جس طرح کا سخت موقف ایران اور امریکہ نے اختیار کیا تھا اسے دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ پاکستان، چین، ترکی یا مصر کسی پیش رفت میں کامیاب ہوں گے اور پھر پاکستان ایسے غیر یقینی حالات میں ایک کامیاب سفارت کار کی طرح ابھرے گا جس پر بیشتر ملکوں نے دہشت گردی کے لیبل چپکا کر اسے عالمی برادری سے تنہا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

کشمیری دہشت گردی کے اس لیبل سے سب سے زیادہ متاثر قوم ہے جنہیں نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا بلکہ حصولِ حقوق کی جدوجہد پر دہشت گرد تحریک کا لیبل چسپاں کر کے انہیں انڈیا کی دوسری ریاستوں اور بقیہ دنیا میں نفرت کا موجب بنا دیا گیا۔

پاکستان گو کہ کشمیر مسئلے میں خود کو ایک فریق کے طور پر مانتا ہے اور عالمی ایوانوں میں اپنی بات منوانے کے لیے قراردادوں کا سہارا بھی لیتا رہا لیکن بقول بیشتر کشمیریوں کے، ایک فریق کے طور پر پاکستان نے ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ دوسرے ملکوں کی طرح لفظی ہمدردیاں اور حمایت جتا کر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔

کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے میں بھلے ہی پاکستان کامیاب نہیں ہوا ہے البتہ ایران و امریکہ جنگ میں ثالث کا کردار ادا کر کے دنیا میں اپنی امیج قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہوا ہے۔ بھلے ہی جنگ بندی قائم رہے یا نہیں۔ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ایک راہداری فراہم کر دی جو ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں مستقل امن کی راہداری بھی ثابت ہو جائے۔

جموں کشمیر میں جہاں عوامی جلسے اور جلوس رقص کرتے دیکھے گئے وہیں انڈیا نواز مقامی سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی تعریف کرنے میں کوئی لیت و لعل نہیں برتا، حالانکہ انڈیا کے موجودہ حالات میں پاکستان کا نام لینا بھی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ کشمیریوں نے امریکہ و اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے تحفظ کے لیے مساجد میں دعائیں مانگیں اور ایک بھاری رقم جمع کر کے عطیات کی صورت میں تہران روانہ کی۔ انڈیا کی دوسری ریاستوں کے مسلم علاقوں میں ایران کے لیے عطیات جمع کیے گئے جس میں بیشتر غیر مسلموں نے دل کھول کر چندہ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشمیر اور سیکولر انڈین آبادی کے مقابلے میں ہندو انتہا پسندوں نے ایران مخالف موقف اختیار کیا جس کا بھرپور اظہار سوشل میڈیا پر ہوتا رہا۔

انڈین سرکار نے کبھی کھل کر نہ ایران پر مسلط جنگ کی مذمت کی اور نہ ایرانی مذہبی رہنما کے قتل پر کوئی بیان جاری کیا، حتیٰ کہ 160 بچیوں کے قتل پر بھی خاموشی اختیار کی جس پر کشمیریوں کے ساتھ ساتھ مسلم آبادی برہم دکھائی دی۔ اس کے ردِ عمل میں کشمیریوں نے شدید سکیورٹی کے پہروں میں ماتمی جلوس نکالے اور پھر عطیات جمع کرنے کے کئی کیمپ قائم کیے۔

انڈین میڈیا کے بعض چینلوں نے عارضی جنگ بندی کے عمل میں پاکستانی کردار کو نظر انداز کر دیا جبکہ بعض نے پاکستان کو دہشت گردی کا اڈہ بتا کر تمسخر اڑا دیا۔ نشریات کے دوران بیشتر مبصر پاکستان کا نام لینے سے کتراتے رہے یا پھر چین کے کردار کی خاصی اہمیت بیان کر کے پاکستان کا نام گول کرتے رہے، جس کے بارے میں سوشل میڈیا کی کئی ڈبیٹس میں کشمیریوں نے خوب تبصرہ کیے اور ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوئے۔

عارضی جنگ بندی کا والہانہ طور پر خیر مقد

م کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عوام ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بی جے پی کی اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف ہیں جس کے باعث 25 کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو گئے ہیں۔

ایران نے برے وقتوں میں ہمیشہ انڈیا کا ساتھ دیا جبکہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نے ایسے وقت اسرائیل کا دورہ کر کے اس ملک کی تعریف کی جب اس نے ایک تو 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتل کر دیا تھا، ان کے گھروں کو روند ڈالا اور دوسرا ایران پر جنگ مسلط کرنے کا منصوبہ تیار کر کے بیٹھا تھا جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پیدا کر دی بلکہ ہر ایک شخص اقتصادی اور سیاسی بدحالی سے متاثر ہوا ہے اور اس کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی پڑا۔

سرینگر میں آزادی نواز ایک کارکن نے جلسے کے دوران کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ جنگ بندی قائم نہ رہے مگر فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ایک بڑی پیش رفت ہے اور جس کا سہرا یقیناً پاکستان کے سر ہے اور جس کے باعث پاکستان کا وقار دنیا میں اونچا ہو گیا ہے۔‘

سکیورٹی پہروں کے باوجود کشمیری دل کی بات کہنے میں سمجھوتہ نہیں کر پاتے اور جنگ بندی کرانے پر پاکستان کی کھل کر تعریف کرتے ہیں۔

یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ