امریکہ دو سے تین ہفتوں میں جنگ ختم کر سکتا ہے، تہران ڈیل کرے یا نہ کرے: ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں کے اندر ختم کر سکتا ہے، اور اس کے لیے تہران کا کسی معاہدے پر دستخط کرنا ضروری نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مارچ 2026 کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے (روئٹرز)

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔


صبح 9 بج کر 10 منٹ

کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ

جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بدھ کو کہا ہے کہ ’ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں‘ نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

کویت کی سرکاری نیوز ایجنسی کونا کے مطابق ترجمان جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن عبداللہ ال راجھی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں میں کویت ایوی ایشن فیول سپلایی کمپنی کے فیول ٹینکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی، اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق نقصان صرف مادی نوعیت کا ہے جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔


صبح 8 بج کر 10 منٹ

امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں کے اندر ختم کر سکتا ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں کے اندر ختم کر سکتا ہے، اور اس کے لیے تہران کا کسی معاہدے پر دستخط کرنا ضروری نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت جلد نکل جائیں گے،‘ اور مزید کہا کہ انخلا ’دو ہفتوں میں، شاید دو ہفتے، شاید تین‘ میں ہو سکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ کامیاب سفارت کاری اس آپریشن کے خاتمے کے لیے لازمی شرط ہے؟ جس جواب ٹرمپ نے نفی میں دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ایران کو معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں، نہیں۔ انہیں میرے ساتھ معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ٹرمپ بدھ کی شب 9 بجے (ای ڈی ٹی) قوم سے خطاب کریں گے تاکہ ایران کے حوالے سے ایک اہم اپ ڈیٹ فراہم کی جا سکے۔

اس سے قبل واشنگٹن نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران 15 نکاتی امریکی جنگ بندی فریم ورک قبول نہیں کرتا تو فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔

اس فریم ورک کے اہم مطالبات میں ایران کا جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد، یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنا، اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا شامل تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا