امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک کو لگتا ہے کہ وہ ایران سے معاہدے کے ’بہت قریب‘ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہی۔
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب کے دوران جب ایک اور صحافی نےایران کے معاملے پر ان سے پوچھا تو امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ان تین ممالک (سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات) سمیت دیگر ممالک کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں، جو براہ راست امریکی حکام اور ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور اس وقت ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ معاملات طے پانے کا ایک اچھا امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم یہ سب کچھ انہیں شدید بمباری کا نشانہ بنائے بغیر کر سکتے ہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔‘
اس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا تھا کہ انہوں نے یہ ایران پر منگل کو مجوزہ حملہ خلیجی عرب اتحادیوں کی درخواست پر روکا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نظرثانی شدہ تجویز امریکہ کو پہنچا دی ہے۔
جبکہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی پیر کو تصدیق کی تھی کہ جواب ’پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے۔‘
امریکی صدر کے ٹروتھ سوشل پر خلیجی ممالک کی درخواست پر حملہ روکنے کے بیان کے بارے میں جب منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے سوال کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’دیگر ممالک نے ہم سے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ کل (منگل) ایک بہت بڑا حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے، تاہم میں نے اسے کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ’امید ہے شاید ہمیشہ کے لیے، لیکن ممکن ہے صرف کچھ وقت کے لیے، کیونکہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اہم بات چیت ہوئی ہے اور ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘
امریکی صدر کے مطابق سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک نے ان سے درخواست کی کہ حملے کو دو یا تین دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے کیونکہ ان کے خیال میں معاہدہ طے پانے کے امکانات بہت قریب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم ایسا معاہدہ کر لیتے ہیں جس کے تحت ایران کے ہاتھ میں جوہری ہتھیار نہ جائیں، اور اگر وہ ممالک مطمئن ہوتے ہیں تو غالباً ہم بھی مطمئن ہو جائیں گے۔‘
امریکی صدر نے بتایا کہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر متعلقہ ممالک کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دیکھنا ہوگا کہ آیا اس سے کوئی نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ معاہدہ ہونے کے قریب ہے لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی، تاہم اس مرتبہ صورتحال کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
’ہم کل ایک بہت بڑے اقدام کے لیے تیار تھے، اور یہ کوئی ایسا کام نہیں تھا جو میں کرنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں کیونکہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔‘