ہیگ ثالثی ٹریبیونل کا فیصلہ اور سندھ طاس معاہدہ

ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق انڈٰیا کے مؤقف پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

چھ مئی 2025 کو لی گئی تصویر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں چناب دریا پر واقع بگلیہار ڈیم کا منظر (روئٹرز)

ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر پانی، طاقت اور سیاست کے باہمی تعلق کو نمایاں کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا کہ انڈیا یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر مؤثر قرار نہیں دے سکتا اور نہ ہی وہ جاری ثالثی عمل سے اپنی مرضی سے الگ ہونے کا حق رکھتا ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک قانونی نکتہ نہیں بلکہ اس اصول کی توثیق ہے کہ بین الاقوامی معاہدات ریاستوں کی وقتی سیاسی ترجیحات کے تابع نہیں ہوتے۔ خاص طور پر ایسے معاہدات، جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دہائیوں سے ایک نازک توازن قائم رکھے ہوئے ہوں، ان کی حیثیت محض انتظامی نہیں بلکہ تزویراتی ہوتی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ ہمیشہ سے جنوبی ایشیا میں ایک غیر معمولی مثال سمجھا جاتا رہا ہے۔ 1965، 1971 اور کارگل جیسے شدید تنازعات کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دونوں ممالک اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ پانی جیسے مسئلے کو اگر سیاسی یا عسکری دباؤ کے آلے میں تبدیل کر دیا جائے تو اس کے اثرات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہتے بلکہ ریاستی استحکام، معیشت اور انسانی سلامتی تک پھیل جاتے ہیں۔

مگر حالیہ برسوں میں انڈیا کے رویے نے اس بنیادی سمجھ بوجھ کو کمزور کیا ہے۔

نریندر مودی کے دورِ حکومت میں انڈین سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی ہے جہاں قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور پاکستان مخالف بیانیہ داخلی سیاست کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ پہلے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو عارضی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

مگر اب یہ ایک مسلسل سیاسی حکمت عملی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہی تبدیلی دراصل سب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ جب خارجہ پالیسی کو قومی مفاد کے بجائے انتخابی سیاست کے تابع کر دیا جائے تو فیصلوں میں تحمل اور دور اندیشی کی جگہ جذباتی ردعمل لے لیتا ہے۔

مودی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان سے متعلق تقریباً ہر بڑے معاملے کو داخلی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔

پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونے والا ماحول، بالاکوٹ کارروائی، کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، سرحدی کشیدگی اور اب سندھ طاس معاہدے سے متعلق سخت مؤقف، یہ تمام اقدامات داخلی سطح پر ایک مخصوص سیاسی تاثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے گئے۔

انڈین عوام کے سامنے یہ بیانیہ مسلسل دہرایا جاتا ہے کہ ایک “طاقتور قیادت” ہی انڈیا کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے، اور اس طاقت کا سب سے نمایاں اظہار پاکستان کے خلاف سخت رویّہ اختیار کرنا ہے۔

یہ طرزِ سیاست وقتی طور پر مقبولیت پیدا کر سکتا ہے، مگر اس کے خطرات بہت گہرے ہیں۔ جنوبی ایشیا جیسے خطے میں جہاں اعتماد پہلے ہی کمزور ہو، وہاں مسلسل سخت بیانیہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی گنجائش کو محدود کر دیتا ہے۔

جب ہر بحران کو داخلی سیاست کے لیے استعمال کیا جائے تو پھر مذاکرات، مفاہمت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سیاسی کمزوری سمجھی جانے لگتی ہیں۔

یہی وہ ماحول ہے جہاں کسی بھی معمولی واقعے کے بڑے بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انڈیا کا سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے حالیہ مؤقف اسی سیاسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

پانی کو ایک تزویراتی دباؤ کے آلے کے طور پر پیش کرنا نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے لیے ایک خطرناک مثال بھی بن سکتا ہے۔

پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کی بقا، زراعت اور معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ پاکستان کی زرعی معیشت کا بڑا حصہ اسی نظام پر منحصر ہے۔ ایسے میں اگر پانی کے مسئلے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ دراصل انسانی سلامتی کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا۔

یہاں ایک اور اہم اور خطرناک پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ مودی حکومت کے رویّے سے یہ تاثر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے کہ انڈیا اب خود کو ایک ایسی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت سمجھنے لگا ہے جو بین الاقوامی قانون کو کمزور ریاستوں کے لیے تو ضروری سمجھتی ہے، مگر اپنے لیے نہیں۔ نئی دہلی کا موجودہ رویہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی طاقتیں معاہدات اور عالمی اصولوں کو اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرتی ہیں۔

اگر ضرورت پڑے تو انہیں نظر انداز بھی کر سکتی ہیں۔ یہ دراصل وہی طرزِ فکر ہے جو ماضی میں بعض بڑی طاقتوں میں دیکھا گیا، جہاں طاقت کو قانون پر فوقیت دی گئی۔ انڈیا شاید خود کو اسی دائرے میں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عالمی طاقت بننے کی خواہش صرف عسکری یا معاشی قوت سے پوری نہیں ہوتی۔ حقیقی عالمی طاقت وہ ہوتی ہے جو ذمہ داری، تحمل اور بین الاقوامی اصولوں کے احترام کا بھی مظاہرہ کرے۔

اگر کوئی ریاست خود کو اس مقام پر رکھ لے کہ وہ عالمی قانون کو اپنی سہولت کے مطابق مانے یا رد کرے، تو اس سے نہ صرف اس کی اخلاقی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا عالمی نظام کمزور ہوتا ہے۔ انڈیا کا حالیہ رویہ اسی خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں طاقت کے احساس نے ذمہ داری کے احساس کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

یہ سوچ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جب ایک ریاست خود کو قانون اور معاہدات سے بالاتر سمجھنے لگے تو دوسری ریاستیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اس کے نتیجے میں اسلحے کی دوڑ، عسکری تیاری اور سفارتی محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ عسکری خطوں میں شمار ہوتا ہے اور ایسے میں اگر انڈیا ’طاقت قانون سے بالاتر‘ ہے جیسی سوچ اپناتا ہے تو یہ پورے خطے کو مسلسل غیر یقینی کی کیفیت میں دھکیل سکتا ہے۔

مودی حکومت کی سیاست کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ قومی شناخت کو مسلسل ’خطرے‘ کے تصور کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس تصور میں پاکستان ایک مستقل بیرونی دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ داخلی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور عوامی توجہ قومی سلامتی کے بیانیے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔

معاشی مشکلات، بے روزگاری، سماجی تقسیم اور اقلیتوں کے مسائل جیسے معاملات کے دوران پاکستان مخالف سیاست ایک آسان اور فوری سیاسی ہتھیار بن جاتی ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس قسم کی سیاست صرف بیانات تک محدود نہیں رہتی۔

جب سیاسی قیادت مسلسل عوامی جذبات کو سختی اور محاذ آرائی کی طرف لے جائے تو پھر ریاستی اداروں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے کہ وہ اسی سمت میں اقدامات کریں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سفارتی بحران عسکری کشیدگی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ پہلے ہی ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں محدود نوعیت کی کشیدگی چند گھنٹوں یا دنوں میں خطرناک مرحلے تک پہنچ گئی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو انڈیا کی موجودہ پالیسی صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ خود انڈیا کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ خارجہ پالیسی جب مستقل طور پر داخلی سیاست کے تابع ہو جائے تو ریاست کے فیصلے زیادہ جذباتی اور کم متوازن ہو جاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں غلط اندازوں کا امکان بڑھ جاتا ہے، اور ایٹمی خطے میں غلط اندازے ہمیشہ خطرناک نتائج پیدا کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالمی سطح پر بھی انڈیا کے اس رویے کو تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیا خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت اور ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر ایک ذمہ دار ریاست کی ساکھ صرف معاشی ترقی یا عسکری قوت سے نہیں بنتی۔

اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین، معاہدات اور اداروں کے ساتھ کس حد تک سنجیدگی سے پیش آتی ہے۔ اگر کوئی ریاست ہر اُس فیصلے کو مسترد کرنا شروع کر دے جو اس کے سیاسی مؤقف سے مختلف ہو، تو اس کی سفارتی ساکھ متاثر ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ صورت حال ایک اہم آزمائش ہے۔ ایک طرف اسے اپنے آبی حقوق اور قومی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے، اور دوسری طرف خطے کو مکمل تصادم سے بھی بچانا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل سفارت کاری، ثالثی اور بین الاقوامی قانون پر زور دیتا رہا ہے۔ ہیگ کے فیصلے نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر اب بھی ایسے اصول موجود ہیں جو یکطرفہ رویّوں کے مقابلے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

مگر اصل سوال اب بھی وہی ہے: کیا جنوبی ایشیا کی سیاست ذمہ داری اور برداشت کے راستے پر چلنے کے لیے تیار ہے؟ کیونکہ اگر خارجہ پالیسی کو مسلسل انتخابی سیاست اور قوم پرستانہ جذبات کے تابع رکھا گیا تو مستقبل میں کسی بھی اشتعال انگیزی یا سرحدی واقعے کے بڑے بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھتا جائے گا۔

اور ایسے خطے میں، جہاں دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہوں، کسی بھی بحران کی قیمت صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی بھی ہوتی ہے۔

اسی لیے سندھ طاس معاہدے کا مسئلہ دراصل پانی سے کہیں بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ اب اس بات کا امتحان ہے کہ آیا جنوبی ایشیا قانون، سفارت کاری اور تحمل کے راستے پر چلے گا یا پھر داخلی سیاسی فائدے کے لیے پورے خطے کے امن کو مستقل غیر یقینی کی کیفیت میں رکھا جائے گا؟

ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق پونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر