سان ڈیاگو: مسجد پر فائرنگ میں حملہ آوروں سمیت پانچ افراد کی موت

سان ڈیاگو پولیس کےمطابق فائرنگ سے مسجد کا سکیورٹی گارڈ اور دو دیگر افراد جان سے گئے۔ ملزموں کی موت بظاہر خود کو گولی مارنے سے ہوئی۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں پولیس کے مطابق پیر کو اسلامی سینٹر پر دو کم عمر مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مسجد کے باہر ایک سکیورٹی گارڈ اور دو دیگر افراد جان سے گئے۔ بعد ازاں مشتبہ افراد مردہ پائے گئے جن کی موت بظاہر خود کو گولی مارنے سے ہوئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سان ڈیاگو پولیس چیف سکاٹ وال نے کہا کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایف بی آئی سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد پر ہونے والے اس حملے کی نفرت پر مبنی جرم کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔

تاہم حکام کی جانب سے سرعام فائرنگ کے اس واقعے کا کوئی واضح محرک یا فوری وجہ بیان نہیں کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 40 منٹ کے قریب پیش آیا جس کے بعد مسجد کے احاطے میں واقع ڈے سکول کے تمام بچے محفوظ رہے اور ان سب کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔

شام کو ایک نیوز کانفرنس میں سکاٹ وال نے انکشاف کیا کہ دو مشتبہ افراد میں سے ایک کی والدہ نے فائرنگ سے تقریباً دو گھنٹے قبل پولیس کو فون کیا تھا اور اطلاع دی تھی کہ ان کا بیٹا، جسے انہوں نے خودکشی کی طرف مائل بتایا تھا، ان کی تین بندوقیں اور گاڑی لے کر گھر سے بھاگ گیا ہے۔

پولیس چیف کے مطابق، والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک ساتھی کے ساتھ تھا اور دونوں نے کیموفلاج لباس پہن رکھا تھا۔ پولیس نے ان نوجوانوں کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کر دیں اور احتیاط کے طور پر ایک قریبی شاپنگ مال اور بیٹے کے ہائی سکول میں گشتی ٹیمیں روانہ کر دیں کہ اسی دوران مسجد میں فائرنگ کی اطلاع دینے والی کالز موصول ہوئیں۔

پولیس چیف نے ایک خط کا متن بتانے سے انکار کر دیا جو ان کے بقول گھر سے بھاگنے والے لڑکے کی والدہ کو ملا تھا۔

پولیس سرابراہ کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے قبل پولیس کو مسجد یا کسی بھی مذہبی مرکز، سکول، شاپنگ ایریا، یا کسی دوسری جگہ کے حوالے سے کسی ’مخصوص خطرے‘ سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کی بجائے پولیس کو ’عمومی نفرت انگیز بیان بازی اور نفرت انگیز تقریر‘ کے ایک معاملے کا سامنا تھا، جس نے کیموفلاج پہنے متعدد ہتھیاروں کے ساتھ گھر سے بھاگنے والے نوجوان کی اطلاعات کے ساتھ مل کر ’خطرے کے ایک بہت بڑے جائزے کو متحرک کر دیا۔‘

اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سان ڈیاگو کے اسلامی سینٹر میں دو مسلح افراد کی جانب سے تین افراد کو قتل کیے جانے کی خبر کے بعد کیلی فورنیا کے مسجد کمپلیکس میں پیر کی فائرنگ کو ایک ’خوفناک صورت حال‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، ’مسجد میں وہ بریفنگ دے رہے ہیں۔ یہ ایک خوفناک صورتحال ہے۔ مجھے کچھ ابتدائی اپ ڈیٹس دی گئی ہیں لیکن ہم واپس جا کر اس کا بہت سختی سے جائزہ لیں گے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ