تاریخ کے ہر عہد میں روز مرہ کی زندگی مختلف ہوتی ہے۔ معاشرے کا کلچر اپنے زمانے کی ضرورت کے مطابق تشکیل پاتا ہے۔ لوگوں کے خیالات اور افکار ان کے اپنے عہد کا اظہار کرتے ہیں۔
روز مرہ کی زندگی کے مطالعے سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کاری گری کے کون سے شعبے ہیں؟ دست کار اور ہنر مندوں کا سماجی طور پر کیا مقام ہے؟ امیر و غریب کی تقسیم سے امرا کی بالادستی کیوں رہتی ہے؟ اور غریب کیوں اپنی پسماندگی پر خاموش رہتے ہیں؟
فرانس کے مؤرخوں نے نجی زندگی پر پانچ جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے۔ یہاں ہم قدیم رومی معاشرے اور لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کے بارے میں بیان کریں گے۔
رومی خاندان میں باپ کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی تھی۔ اولاد کو اس کی اطاعت کرنا ضروری ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ والد نافرمان لڑکے کو قتل بھی کر سکتا تھا۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوتی تھی۔ اس کے بعد 12 سال تک لڑکے اور لڑکیاں سکول کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔
12 سال کی عمر میں لڑکیاں گھروں میں چلی جاتی تھیں اور لڑکے مزید تعلیم حاصل کرتے تھے۔ انہیں خاص طور سے فلسفہ اور فصاحت اور بلاغت کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اگرچہ سیاست میں آنے کے بعد ایک اچھا مقرر ہونا ضروری تھا، لیکن لڑکوں کے لیے سیاست میں حصہ لینے کے لیے باپ کی منظوری ضروری ہوتی تھی۔
شادی کی تقریب سادہ ہوتی تھی۔ اس میں مہمانوں کو نہیں بلایا جاتا تھا۔ لڑکی قیمتی جہیز لاتی تھی۔ دو سیاسی خاندان آپس کے اختلافات بھلا کر اپنے لڑکے اور لڑکیوں کی شادیاں کرتے تھے۔ جیسے رومی شہنشاہ اگسٹس نے اپنی بہن اوکتاویا کی شادی مارک اینتھنی کے ساتھ کی مگر وہ قلو پطرہ کے عشق میں اتنا زیادہ مبتلا تھے کہ اوکتاویا کو چھوڑ کر مصر چلے گئے۔
آگسٹس نے حکومت سنبھالنے کے بعد رومی معاشرے میں اخلاقی قدروں کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔ جب انہیں اپنی بیٹی جولیا کے بارے میں اطلاعت ملی کہ وہ جنسی طور پر بے راہ روی کا شکار ہو گئیں ہے، تو انہیں جلا وطن کر دیا۔
جب ایک مرتبہ رومی کلوزسیئم میں لوگوں نے آگسٹس کو دیکھ کر نعرے لگائے کہ جولیا کو واپس لائیں، تو آگسٹس غصے کے عالم میں کھڑا ہو گئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ خبردار میرے سامنے کوئی جولیا کا نام نہ لے۔
آگسٹس نے رومی شاعر اووڈ کو، جن کی عشقیہ شاعری مشہور ہو گئی تھی، انہیں ایک غیرآباد جزیرے میں جلا وطن کر دیا۔ جہاں وہ مرنے تک رہے۔ روم میں ان کی بیوی جائیداد کا انتظار کرتی رہیں۔
رومی معاشرے میں طلاق دینا آسان تھا۔ بیوی اپنا جہیز لے کر چلی جاتی تھی۔ اگر وہ دوسری شادی کرتی تو پہلا شوہر طلاق کے بعد اس سے دوبارہ شادی کر لیتا تھا۔
طلاق کے بعد بچے باپ کے پاس رہتے تھے۔ باپ مرنے سے پہلے اپنی وصیت لکھواتا تھا۔ یہ وصیت اس کے مرنے کے بعد اس کے رشتہ داروں اور ریاستی عہدےداروں کے سامنے پڑھی جاتی تھی۔ جائیداد میں سب لڑکوں کا حصہ برابر ہوتا تھا۔ بڑے لڑکے کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ روز مرہ کی زندگی میں امیر اور غریب کے درمیان فرق تھا۔ امرا کلوسیئم میں گلیڈی ایٹر کے مقابلے دیکھتے تھے۔ حماموں میں وقت گزارتے تھے۔ تفریح کے لیے فورم یا چوک میں چلے جاتے تھے۔
جہاں تک غریب لوگوں کا تعلق تھا، ان کی روزمرہ کی زندگی سختی اور مشقت کی ہوتی تھی۔ مزدوری کرنا، کھانے کے سٹال لگانا، شہر کی صفائی کرنا اور امرا کے گھروں میں بطور ملازم کام کرنا، ان کی روز مرہ کی زندگی تھی۔ لیکن وہ ہنر مند جو کسی ایک شعبے میں ماہر ہو جاتے تھے۔ جیسے موچی، درزی، بڑھئی، نان بائی اور قصائی، یہ اپنی کارگری کی وجہ سے معاشی طور پر بہتر زندگی گزارتے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رومی معاشرے پر یونانی تہذیب کا بڑا اثر تھا۔ خاص طور سے یہ فلسفے میں یونانیوں سے متاثر تھے۔ سٹوئک فلسفہ جس کے بانی زینو تھے یہ روم کے معاشرے کیلئے قابل قبول تھا کیوں کہ یہ فطرت کے اصول پر قائم تھا۔ روم میں اس کے مشہور فلسفی سینیکا تھے۔ رومی شہنشاہ مارکس اوریلیس بھی اس کے حامی تھے۔ Lucretius کی نظم ’آن دا نیچر آف تھنگز‘ میں سٹوئک فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔
یونان کی طرح روم میں بھی ڈرامے ہوا کرتے تھے۔ جس کو لوگوں کی بڑی تعداد دیکھنے جایا کرتی تھی لیکن ان ڈراموں میں کوئی گہرائی نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ مسخرہ پن اور سستے مذاق ہوا کرتے تھے۔ Apuleius نے اسی عہد میں اپنا مشہور ناول ’دا گولڈن ایس‘ لکھا تھا۔
اگرچہ رومیوں نے ایک بڑی سلطنت بنائی جنگجو اور فاتحین پیدا کیے لیکن فلسفے ادب، شاعری میں وہ اعلیٰ مقام حاصل نہیں کر سکے۔ اس لحاظ سے یونانی اور رومن تہذیبوں میں فرق ہے۔