حج کی تاریخ میں ہمیشہ سے آمد و رفت کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ صدیوں پہلے عازمین اونٹوں اور گھوڑوں پر قافلوں کی صورت میں سفر کرتے تھے۔
یہ سفر بہت مشکل ہوتا تھا، ہزاروں افراد ایک ساتھ نکلتے اور مقررہ مقامات پر پانی اور سامان لیتے۔ مشکل راستے اور غیر یقینی موسم کے باوجود لوگ مہینوں کی محنت کے بعد حج ادا کرتے۔
پہلا بڑا انقلاب اس وقت آیا جب بھاپ کے جہاز استعمال ہونے لگے۔ یہ جہاز عازمین کو بحیرہ احمر کے راستے جدہ اسلامی پورٹ تک لے جاتے، جو کئی دہائیوں تک مرکزی سمندری راستہ رہا۔
اس کے بعد سب سے بڑی تبدیلی سول ایوی ایشن کے ذریعے آئی۔ پرانے سفر جو مہینوں میں مکمل ہوتے تھے، اب چند گھنٹوں میں ختم ہو گئے۔
آج سعودی عرب کے ہوائی اڈے، خاص طور پر جدہ کا کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جدید نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔
یہاں عازمین کے لیے الگ لاونجز اور ڈیجیٹل سہولتیں موجود ہیں تاکہ آمد سے لے کر مقدس مقامات تک پہنچنے کا عمل آسان ہو۔
جدید دور میں سعودی عرب نے ایک مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بنایا ہے۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے تاکہ لاکھوں افراد کی آمد و رفت کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔
المشاعر المقدسہ میٹرو لائن منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کو آپس میں جوڑتی ہے۔ اس سے رش کم ہوتا ہے اور حفاظت بڑھتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے ساتھ حرمین ہائی سپیڈ ریلوے بھی ہے، جو مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ کو جدہ اور کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کے راستے جوڑتی ہے۔
یہ بجلی سے چلنے والی ماحول دوست ٹرین ہے۔ اس کے علاوہ جدید شٹل بسیں بھی ہیں جن میں خودکار ٹریکنگ اور ٹریفک کنٹرول سسٹم موجود ہے۔
سعودی وژن 2030 کے تحت ٹرانسپورٹ کا نظام ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور بڑے ڈیٹا کے ذریعے اجتماع کو حقیقی وقت میں کنٹرول کیا جاتا ہے۔
اب سمارٹ ایپلیکیشنز کے ذریعے عازمین سفر کا وقت، بس کے راستے اور رش کی صورت حال دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور رش کم ہوا ہے۔
یہ مسلسل ترقی اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب انفراسٹرکچر اور بہترین انتظامات پر کتنا زور دیتا ہے۔
حج کا سفر اب اونٹوں کے قافلوں سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کی کہانی بن چکا ہے۔ اس سے دنیا بھر سے آنے والے عازمین کو محفوظ، آرام دہ اور روحانی سفر میسر آتا ہے۔