پاکستان کے مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اپریل میں بھی پاکستان کو بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر بھیجنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو جاری کیے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں مقیم ورکرز نے پاکستان کو 84 کروڑ 17 لاکھ ڈالر بھیجے ہیں۔
ترسیلاتِ زر پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جو درآمدات کی مالی معاونت، کرنسی کو مستحکم رکھنے اور لاکھوں خاندانوں کی مدد میں کردار ادا کرتی ہیں۔
Workers’ remittances recorded an inflow of US$ 3.5 billion during April 2026, showing an increase of 11.4 percent on y/y basis, while they declined by 7.6 percent on m/m basis.https://t.co/7PckFCqSff#SBPRemittances pic.twitter.com/gdFiJLFcv4
— SBP (@StateBank_Pak) May 11, 2026
خلیجی خطہ، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، وہاں کام کرنے والی بڑی پاکستانی افرادی قوت کے باعث ترسیلات کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں گذشتہ دو برسوں کے دوران ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو مالی سال 2025 میں ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ایک سال پہلے کے 30.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 26.6 فیصد زیادہ تھیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’اپریل 2026 کے دوران بیرون ملک ورکرز کی ترسیلاتِ زر 3.5 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔‘
بیان کے مطابق ’اضافے کے لحاظ سے ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 11.4 فیصد اضافہ جبکہ ماہانہ بنیاد پر 7.6 فیصد کمی ہوئی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مرکزی بینک کے مطابق، جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 33.9 ارب ڈالر ترسیلات موصول ہوئیں، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 31.2 ارب ڈالر تھی، جو 8.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
سعودی عرب کے بعد اپریل میں متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا، جہاں سے 734.7 ملین ڈالر آئے، اس کے بعد برطانیہ سے 563.7 ملین ڈالر اور امریکہ سے 317.6 ملین ڈالر موصول ہوئے۔
پاکستان کی ترسیلاتِ زر حالیہ سہ ماہیوں میں مسلسل ماہانہ 3 ارب ڈالر سے زائد رہی ہیں، جس سے معیشت کو بیرونی مالی دباؤ اور بڑھتے تجارتی خسارے کے مقابلے میں سہارا ملا ہے۔