پاکستان میں پراپرٹی کا شعبہ ایک مرتبہ پھر حکومتی پالیسیوں کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
پہلے وزیراعلیٰ پنجاب نے مکانوں کی تعمیر کے لیے کم شرح سود پر بڑے قرضے دینے کا منصوبہ شروع کیا، پھر وزیراعظم نے گھروں کے لیے پانچ فیصد شرح سود پر قرض دینے کا پروگرام لانچ کیا۔
ادھر اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولمپنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پراپرٹی ٹرانسفر فیس تین سے کم کر کے ایک فیصد کر دی۔
پنجاب نے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر سٹامپ ڈیوٹی بھی تین سے کم کر کے ایک فیصد کر دی۔
وفاقی محصولات کے ادارے ایف بی آر نے پنجاب کے پانچ شہروں میں پراپرٹی کی ٹیکس ویلیو کم کی اور اب عدالت نے پراپرٹی میں سات ای ٹیکس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں بھی ریئل سٹیٹ کو ریلیف دینے کے لیے تجاویز شامل کی جا رہی ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پراپرٹی سیکٹر کو ریلیف دینے سے عام آدمی کی معاشی حالت بدل سکتی ہے اور کیا اس کی غربت کم ہو سکتی ہے؟
پاکستان میں پراپرٹی اور کنسٹرکشن سیکٹر معیشت کا ایک اہم انجن سمجھا جاتا ہے۔ اندازاً 50 سے 55 صنعتیں براہ راست یا بالواسطہ اس سے جڑی ہوئی ہیں۔
ان میں سیمنٹ، سریا، اینٹیں، ٹائلز، پینٹس، لکڑی، فرنیچر، الیکٹریکل وائرنگ، پلمبنگ، ٹرانسپورٹ اور مزدوروں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
جب یہ سیکٹر چلتا ہے تو روزگار پیدا ہوتا ہے اور معیشت میں نقدی کی گردش بڑھتی ہے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پراپرٹی سیکٹر کو ریلیف دینے سے معاشی سرگرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عام آدمی کو روزگار مل سکتا ہے۔
اگر تعمیرات میں اضافہ ہو تو مستری، مزدور، ڈرائیور، الیکٹریشن اور چھوٹے کاروباری طبقے کو فوری فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
لیکن پاکستان میں ریئل سٹیٹ کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیکٹر اکثر حقیقی ہاؤسنگ ضرورت کی بجائے سرمایہ کاری، منافع اور کالے دھن کو پارک کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اسی لیے ماضی میں دیے گئے بیشتر ٹیکس ریلیف اور پالیسی سہولتوں کا فائدہ عام شہری کی بجائے زیادہ تر سرمایہ کاروں اور بڑے ڈویلپرز کو ہوا ہے۔
پلاٹس پر 7ای ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ 7ای کے مطابق ایک سے زیادہ پلاٹس رکھنے پر اضافی ٹیکس لگ جاتا تھا، جس سے پلاٹوں کی قیمت کافی گر گئی تھی۔
یہ عام آدمی کی پہنچ میں پھر بھی نہیں تھا لیکن قیمتیں کم ہونے کی وجہ متوسط طبقے کے لیے پلاٹ خریدنا پہلے کی نسبت آسان ہو گیا تھا۔
7ای ٹیکس ختم ہونے سے پلاٹس مہنگے ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی چاندی ہو سکتی ہے اور عام آدمی کو نقصان ہونے کے خدشات زیادہ ہیں۔
اس کے علاوہ بڑے مافیاز جعلی ہاؤسنگ سکیمیں لا کر چند ماہ میں پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹ جاتی ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق صرف اسلام آباد کے 349 مربع میل کے علاقے میں 99 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں۔
صرف پنجاب میں تقریباً 5118 ہاؤسنگ سوسائٹیز ایسی ہیں جو یا تو غیر قانونی ہیں یا ابھی منظوری کے مراحل میں ہیں۔ یہ صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ ہزاروں برباد خاندانوں کی کہانیاں ہیں۔
اگر عام آدمی کو حقیقی ریلیف دینا ہے تو ٹیکسز میں ریلیف کے ساتھ جعلی ہاؤسنگ منصوبوں کا راستہ روکنا بھی ضروری ہے۔ بیرون ملک پاکستانی ریئل سٹیٹ کی سرمایہ کاری میں سب سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔
ریلیف سے ترسیلات زر میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے، جس سے روپے کی قدر مضبوط ہونے سے مہنگائی کم ہو سکتی ہے۔
سرکار شاید دبئی کی گرتی معیشت اور ریئل سٹیٹ مارکیٹ سے پاکستانیوں کے نکلتے ہوئے پیسے کا رخ پاکستان کی جانب موڑنا چاہتی ہے۔
امریکہ ایران جنگ کے دوران صرف ایک ماہ کے عرصے میں ریئل سٹیٹ کو بیشمار ٹیکس ریلیف ایک طرح کی ایمنسٹی سکیم ہی ہے، جیسی کرونا کے دنوں میں دی گئی تھی۔
ملک کے لیے یہ بہتر کاوش ہے لیکن دیگر عوامل پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔
پراپرٹی سیکٹر کو چلانے کے لیے ٹیکس ریلیف کے علاوہ شرح سود کا کم ہونا ضروری ہے اور سرکار نے کمی کی بجائے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
جب بینک بغیر کسی محنت کے 12 فیصد منافع دے رہے ہوں تو کوئی ریئل سٹیٹ میں سرمایہ کاری کیوں کرے گا؟
ترقی یافتہ ممالک میں ریئل سٹیٹ سیکٹر جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد جبکہ پاکستان میں بمشکل تین فیصد ہے۔
بہتری اس وقت ہو گی جب بینک سستے قرض دے گا۔ سرکار نے کم شرح سود پر قرض کی سکیم تو نکالی ہے، لیکن شفافیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر اندھا ریوڑیاں اپنوں میں ہی بانٹے گا تو عوام کو فائدہ ملنا مشکل ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 700 ملین ڈالرز سے زیادہ ہے جو کنسٹرکشن بڑھنے سے مزید بڑھ سکتا ہے اوراس کا بوجھ بھی غریب آدمی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ایک وقت تھا جب انڈسڑی میں سرمایہ کاری ریئل سٹیٹ کی نسبت دو گنا زیادہ تھی لیکن آج ریئل سٹیٹ میں سرمایہ کاری انڈسٹری میں ہونے والی سرمایہ کاری سے تقریبا 2.5 گنا زیادہ ہے۔
فیکٹریوں کی چمنیوں سے دھواں کم اور بے روزگار نوجوانوں کی آہیں زیادہ نکل رہی ہیں۔ بے روزگاری چھ سے بڑھ کر تقریباً آٹھ فیصد ہو گئی ہے۔
اگر رئیل سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے لیے بھی پیکج دیا جائے تو عام آدمی کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح 10.8 فیصد سے بڑھ گئی ہے جو پچھلے 21 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
عام آدمی کی قوت خرید انتہائی کم ہو چکی ہے اور اس کی معاشی حالت میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔
عام آدمی اس وقت گھر بنانے کا نہیں، گھر چلانے کا سوچ رہا ہے۔
پہلے پلاٹ کی قیمت کے برابر تعمیرات کا خرچہ ہوتا تھا اور اب پلاٹ کی قیمت سے تین گنا تعمیرات کا خرچ آتا ہے۔
موجودہ حالات میں عام آدمی کے لیے گھر بنانا شاید ایک خواب ہی رہے گا۔