’بھائی کے جنازے کو کوئی کندھا دینے نہ جا سکا‘: منقسم کشمیری خاندان کا دکھ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے راجا شاہد علی ایل او سی کے اُس پار انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے بھائی کا جنازہ دور سے دیکھتے رہے۔

راجا شاہد علی خان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دریائے نیلم کے کنارے کھڑے، انڈیا کے زیر انتظام علاقے میں آبائی گاؤں اور اپنے چھوٹے بھائی راجا لیاقت علی خان کے جنازے کو دور سے دیکھ رہے تھے۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی بندش کے باعث وہ سرحد عبور کر کے اپنے بھائی کو دفنانے نہیں جا سکتے تھے۔

گذشتہ ماہ جب کیرن گاؤں کے انڈین حصے میں لیاقت کا جنازہ اٹھایا جا رہا تھا تو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جانب موجود ان کے سینکڑوں رشتہ داروں نے محض دریا کے اس پار سے یہ افسردہ منظر دیکھا۔ ؎

شاہد نے غمزدہ آواز میں بتایا: ’ہم آٹھ بھائی ہیں، لیکن کوئی ایک بھی انہیں کندھا دینے نہیں جا سکا۔‘

یہ خاندان 1990 میں اس وقت تقسیم ہوا جب زیادہ تر اہل خانہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آ گئے، جبکہ لیاقت اپنی والدہ کے ہمراہ عارضی طور پر وہیں رک گئے لیکن پھر کبھی نہ مل سکے۔

گاندربل میں سرکاری اہلکار لیاقت کو دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ ہسپتال میں چل بسے۔ حالیہ سرحدی کشیدگی اور مواصلاتی پابندیوں کے باعث اہل خانہ آخری وقت میں ان سے بات بھی نہ کر سکے اور انہیں اس موت کی خبر سوشل میڈیا سے ملی۔

کشمیر کے اس دیرینہ تنازعے اور مئی 2025 میں ہونے والی پاکستان انڈیا جھڑپوں نے ایل او سی کے دونوں جانب بسنے والے لاتعداد خاندانوں کو مزید دور کر دیا ہے۔ اب یہ لوگ محض دور سے ایک دوسرے کو دیکھنے پر مجبور ہیں اور اپنوں کی خوشی غمی میں شریک نہیں ہو سکتے۔

کئی دہائیوں سے اس تقسیم نے خاندانوں، شادیوں اور پوری برادریوں کو متاثر کیا ہے، خاص طور پر ایل او سی کے قریب واقع دیہات میں، جہاں رشتہ دار بسا اوقات ایک دوسرے کو صرف دور سے دیکھ سکتے ہیں مگر آزادانہ طور پر آ جا نہیں سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی کشیدگی کے بعد اس مسئلے نے ایک بار پھر توجہ حاصل کی۔ یہ کشیدگی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ایک حملے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ اسلام آباد نے اس کی تردید کرتے ہوئے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ایل او سی کے قریب رہنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے بعد رابطوں پر پابندیوں اور سرحدی تناؤ نے پہلے سے نازک خاندانی رشتوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

ماضی میں انڈیا اور پاکستان نے ایل او سی کے آرپار اعتماد سازی کے چند اقدامات متعارف کروائے جن میں بس سروس اور تجارتی راستے شامل تھے جن کے ذریعے کچھ تقسیم شدہ خاندان دہائیوں بعد مل سکے، تاہم سیاسی یا فوجی کشیدگی کے دوران یہ سلسلے اکثر معطل ہو جاتے ہیں۔

راجا شاہد علی کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں تقسیم شدہ خاندانوں کے درمیان رابطہ مزید کم ہو گیا ہے اور اکثر صرف مختصر فون یا ویڈیو کالز تک محدود رہ گیا ہے، جن میں زیادہ تر بات چیت صحت اور خیریت تک محدود ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمارے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ ایک دن ہم واپس اپنے گھر جائیں گے، مگر وہ اسی انتظار میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ سانحہ سرحد کے ساتھ بسنے والے بے شمار کشمیری خاندانوں کی کہانی ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا