سری نگر کی جامع مسجد جو کشمیر کی تاریخ اور ثقافت کی امین ہے

28 کنال پر پھیلی یہ مسجد کشمیر کی سب سے بڑی اور قدیم مرکزی مساجد میں شمار ہوتی ہے جس میں بیک وقت 30 ہزار سے زیادہ لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر کی مصروف گلیوں کے بیچوں بیچ واقع جامع مسجد ایک ایسا مقام ہے جہاں تاریخ، ثقافت، مذہب اور سیاست سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ اس کے ستونوں نے دعاؤں، خطبات، سیاسی تقاریر اور عوامی جذبات کو اپنے اندر سموئے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخ کا زندہ باب سمجھا جاتا ہے۔

تقریباً 28 کنال پر پھیلی یہ عظیم الشان مسجد کشمیر کی سب سے بڑی اور قدیم مرکزی مساجد میں شمار ہوتی ہے، جہاں بیک وقت 30 ہزار سے زائد افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔

یہ جامع مسجد صدیوں کے دوران سلطنتوں کے عروج و زوال، سماجی تبدیلیوں، ثقافتی ارتقا اور سیاسی تحریکوں کے دوران قائم رہی ہے۔ کشمیر کی تاریخ کے کئی اہم لمحات اسی مسجد کے صحن میں جنم لیتے رہے اور اسی لیے اسے محض ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخ کی دھڑکن کہا جاتا ہے۔

یہ مسجد 14 ویں صدی میں شاہ میری سلطنت کے حکمران سلطان سکندر شاہ نے تعمیر کروائی، جنہیں بعض تاریخی حوالوں میں سکندر بت شکن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کشمیر میں اسلامی تہذیب اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی اور خطہ وسطی ایشیا، ایران اور برصغیر کے مختلف علاقوں کے ساتھ علمی اور ثقافتی رابطوں کے ذریعے ایک نئے فکری اور تمدنی دور میں داخل ہو رہا تھا۔

 جامع مسجد کی تعمیراتی ساخت برصغیر کی دوسری مشہور مساجد سے بالکل مختلف ہے۔ مثال کے طور پر دہلی کی جامع مسجد یا پاکستان کے لاہور کی بادشاہی مسجد سرخ پتھر اور سفید سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی ہیں اور ان کے بلند گنبد اور مینار مغل فن تعمیر کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں، اس کے برعکس سری نگر کی جامع مسجد لکڑی اور اینٹوں کے حسین امتزاج سے بنی ہوئی ہے اور اس کا ڈیزائن کشمیری ماحول اور موسم کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ 

اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 378 دیودار کی لکڑی کے ستون ہیں جو نہ صرف عمارت کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں بلکہ اس کے اندرونی منظر کو ایک دلکش ترتیب بھی دیتے ہیں۔ 

معروف آرٹ کنزرویٹر، مورخ اور کالم نگار محمد سلیم بیگ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفگتو میں کہا کہ جب کوئی شخص سری نگر کی قدیم گلیوں سے گزرتے ہوئے جامع مسجد کے دروازے تک پہنچتا ہے تو اُسے ایک ایسی فضا کا احساس ہوتا ہے جو بیک وقت روحانیت، تاریخ اور خاموش وقار سے بھرپور ہوتی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں کہ ’جامع مسجد سری نگر کی تعمیراتی خصوصیات اسے برصغیر کی دیگر مساجد سے منفرد بناتی ہیں۔ یہاں نہ تو مغل طرز کے بلند گنبد ہیں اور نہ ہی سنگِ مرمر کی وسیع دیواریں، بلکہ اس کی اصل خوبصورتی لکڑی اور اینٹوں کے سادہ مگر باوقار امتزاج میں پوشیدہ ہے۔‘

محمد سلیم بیگ کے مطابق جامع مسجد کی ساخت چوکور ہے اور اس کے چاروں کونوں پر چار مینار موجود ہیں، تاہم یہ مینار دیگر مساجد کے بلند اور باریک میناروں کی طرح نہیں بلکہ نسبتاً چھوٹے اور مضبوط ہیں، جو اسے ایک منفرد شناخت دیتے ہیں۔ یہ ڈیزائن کشمیری روایتی فنِ تعمیر کی ایک اہم خصوصیت ہے اور اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح مقامی معماروں نے ماحول اور موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمارت کو تخلیق کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ